🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (النِّدَاءُ بِاسْمِ الْأَبِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
روز قیامت باپ کے نام سے پکارا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4768
4768 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ  "رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تمہیں تمہارے اور تمہارے آباء کے نام سے پکارا جائے گا، اپنے نام اچھے رکھو۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4768]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (194/5 ح 22035) و أبو داود (4948)
٭ قال أبو حاتم الرازي: ’’عبد الله بن أبي زکريا لم يسمع أبا الدرداء‘‘ .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ كُنْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
ابو القاسم کنیت کی ممانعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4769
4769 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اسْمِهِ وَكُنْيَتِهِ  ، وَيُسَمَّى مُحَمَّدٌ أَبَا الْقَاسِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے نام اور اپنی کنیت کو اس طرح اکٹھا کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھ لے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2841 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِحْدَى الْأَمْرَيْنِ الِاسْمُ أَوِ الْكُنْيَةُ)
نام و کنیت میں سے ایک چیز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4770
4770 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي  ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ:"وَمَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي لَا يَكْتَنِ بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّ بِاسْمِي".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میرے نام پر نام رکھو تو پھر میری کنیت پر کنیت مت رکھو۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے، فرمایا: جس نے میرے نام پر نام رکھا تو وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جس نے میری کنیت پر کنیت رکھی تو وہ میرے نام پر نام نہ رکھے۔ صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2842) و ابن ماجه (3535) و أبو داود (4966)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَازُ الْجَمْعِ بَيْنَ الِاسْمِ وَالْكُنْيَةِ)
نام و کنیت دونوں کی اباحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4771
4771 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ  ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ:"مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟ أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: غَرِيبٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے وہ جس نے حلال قرار دیا میرا نام رکھنا اور حرام کیا میری کنیت رکھنا، یا کون ہے وہ جس نے حرام کیا میری کنیت رکھنا اور حلال کیا میرا نام رکھنا؟ ابوداؤد، اور محی السنہ ؒ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4968)
٭ فيه محمد بن عمران الحجبي: مستور .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِجَازَةُ الِاسْمِ وَالْكُنْيَةِ بَعْدَ الْوَفَاةِ)
وفات کے بعد نام و کنیت کی اجازت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4772
4772 - وَعَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ:"نَعَمْ  "رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
محمد بن حنفیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو میں آپ کے نام پر اس کا نام اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ لوں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4967)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كُنْيَةُ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبُو حَمْزَةَ)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوحمزہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4773
4773 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَفِي"الْمَصَابِيحِ": صَحَّحَهُ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ایک بوٹی چنا کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر میری کنیت (ابوحمزہ) رکھی۔ اسے ترمذی نے بیان کیا اور فرمایا: اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور مصابیح میں ہے کہ اس نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسنادہ ضعیف جذا، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (3830 و لم يصححه في نسختنا، بل قال: غريب) و ذکره البغوي في مصابيح السنة (307/3 ح 3708)
٭ فيه جابر الجعفي: ضعيف رافضي مدلس و شيخه أبو نصر خيثمة بن أبي خيثمة: لين الحديث .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغَيِّرُ الْأَسْمَاءَ السَّيِّئَةَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برے نام بدل دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4774
4774 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْمَ الْقَبِيحَ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُرا نام تبدیل کر دیا کرتے تھے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4774]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2839)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَغْيِيرُ اسْمِ أَصْرَمَ)
اصرم نام بدل دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4775
4775 - وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أَصْرَمُ كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أُوتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا اسْمُكَ؟"قَالَ: أَصْرَمُ قَالَ:"بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ  ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بشیر بن میمون اپنے چچا اسامہ بن اخدری سے روایت کرتے ہیں کہ اصرم نامی ایک آدمی ان لوگوں میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: اصرم، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم زرعہ ہو۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4775]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4954)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَغْيِيرُ بَعْضِ الْأَسْمَاءِ الْأُخْرَى)
کچھ اور ناموں کو بدلا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4776
4776 - وَقَالَ: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ  ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُبَابٍ، وَشِهَابٍ، وَقَالَ: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ.
اور ابوداؤد نے کہا، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاص، عزیز، عتلہ، شیطان، حکم، غراب، حباب اور شہاب نام بدل دیے تھے، اور انہوں نے کہا: میں نے اختصار کی خاطر ان کی اسناد بیان نہیں کیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4956)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (زَعْمٌ اسْمٌ سَيِّئٌ)
زعمو برا نام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4777
4777 - وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ - أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ -: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي (زَعَمُوا؟) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ  ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حُذَيْفَةُ.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو عبداللہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا: تم نے لفظ زَعَمُوْا (لوگوں کا خیال ہے) کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا: آدمی کا ایسے انداز میں گفتگو کرنا بُرا ہے۔ ابوداؤد، اور انہوں نے کہا: ابو عبداللہ سے مراد حذیفہ ہیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4972)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں