🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَغْيِيرُ اسْمِ عَاصِيَةَ)
عاصیہ نام بدلا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4758
4758 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ بِنْتًا كَانَتْ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمِيلَةً  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کو عاصیہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2139/15)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اقْتِرَاحُ اسْمِ مُنْذِرٍ)
منذر نام تجویز کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4759
4759 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ فَقَالَ:"مَا اسْمُهُ؟"قَالَ: فُلَانٌ. قَالَ:"لَا، لَكِنِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ  "مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، منذر بن ابی اسید جب پیدا ہوئے تو اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنی ران پر رکھا اور فرمایا: اس کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6191) و مسلم (2149/29)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْحَذَرُ فِي الْأَلْفَاظِ الْمُبْهَمَةِ)
مبہم (مشکوک) الفاظ میں احتیات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4760
4760 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ  ". وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ وَفَتَاتِي. وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ يَقُلْ: سَيِّدِي". وَفِي رِوَايَةٍ:"لِيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ". وَفِي رِوَايَةٍ:"لَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ، فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرے بندے (غلام) میری بندی (لونڈی)، تم سب اللہ کے بندے اور غلام ہو جبکہ تمہاری سب خواتین اللہ کی لونڈیاں ہیں، بلکہ تم یوں کہا کرو: میرے لڑکے، میری لڑکی، اور غلام بھی یوں نہ کہے: میرے رب! بلکہ یوں کہے: میرے آقا۔ ایک دوسری روایت میں ہے: وہ یوں کہے: میرے سیّد، میرے مولا۔ ایک دوسری روایت میں ہے: غلام اپنے آقا سے میرے مولا نہ کہے، کیونکہ تمہارا مولا اللہ ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4760]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2249/13، الرواية الثانية 2249/15، و الثالثة 2249/14)»
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (2249/13)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا)
انگور کو کرم نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4761
4761 - وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ  ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم (انگور کو) کرم نہ کہو، کیونکہ کرم تو قلب مؤمن ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4761]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2247/7)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْمِيَةُ الْعِنَبِ عِنَبًا أَوْ حَبْلَةً)
انگور کو عنب یا حبلہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4762
4762 - وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ:"لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ وَالْحَبَلَةُ  ".
اور مسلم ہی کی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کرم نہ کہو، بلکہ تم عنب اور حبلہ (انگور) کہو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2248/12)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ قَوْلِ رَسْوَاءُ الزَّمَانِ)
زمانہ کی رسوائی۔۔۔ نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4763
4763 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ  ، وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ  ! فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم انگور کا نام کرم رکھو نہ زمانے کو برا کہو، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6182)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ سَبِّ الزَّمَانِ)
زمانے کو برا نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4764
4764 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ  ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی زمانے کو بُرا بھلا نہ کہے، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2247/6)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ قَوْلِ خُبْثٍ أَوْ نَفْسِي)
خبث، نفسی نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4765
4765 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي  "مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ:"يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ"فِي"بَابِ الْإِيمَانِ".
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے: میرا نفس (جی) خبیث ہو گیا بلکہ یوں کہے: میرا نفس بوجھل ہو گیا۔ متفق علیہ۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ باب الایمان میں ذکر ہو چکی ہے، [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6179) و مسلم (2250/16)
حديث ’’يؤذيني ابن آدم‘‘ تقدم (22)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَكْرَةُ كُنْيَةِ أَبِي الْحَكَمِ)
ابو الحکم کنیت پر ناپسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4766
الْفَصْلُ الثَّانِي 4766 - عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ  ؟"قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ بِحُكْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا أَحْسَنَ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟"قَالَ: لِي شُرَيْحٌ، وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ. قَالَ:"فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟"قَالَ: قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ:"فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
شریح بن ہانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں سنا کہ وہ میرے والد کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: بے شک اللہ ہی حکم ہے اور حکم کا اختیار اسے ہی حاصل ہے، تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں رکھی گئی؟ اس نے کہا: جب میری قوم میں کسی چیز میں اختلاف ہو جاتا تو وہ میرے پاس آتے اور میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو وہ دونوں فریق میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے، تیرے کتنے بچے ہیں؟ اس نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے بڑا کون ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: شریح، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ابو شریح ہو۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4955) و النسائي (226/8. 227 ح 5389)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَجْدَحُ اسْمٌ لِلشَّيْطَانِ)
اجدح شیطان کا نام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4767
4767 - وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ. قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ  ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ
مسروق بیان کرتے ہیں، میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اجدع، شیطان (کا نام) ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4767]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4957) و ابن ماجه (3731)
٭ فيه مجالد بن سعيد و ھو ضعيف من جھة سوء حفظه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں