مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْقِيَامُ تَعْظِيمًا كَانَ شَدِيدَ النَّكْرَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
تعظیماً قیام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناپسند تھا
حدیث نمبر: 4698
4698 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں تھا، اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں۔ اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2754)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْ يَرْغَبُ فِي اسْتِقْبَالِ النَّاسِ مَأْوَاهُ جَهَنَّمُ)
لوگوں سے استقبال کا خواہش مند کا جھنم میں ٹھکانا
حدیث نمبر: 4699
4699 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ “ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4699]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2755 وقال: حسن) و أبو داود (5229)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (الْقِيَامُ لِلِاسْتِقْبَالِ عَمَلُ الْعَجَمِ)
استقبال کے لئے کھڑا ہونا عجمیوں کا عمل
حدیث نمبر: 4700
4700 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا، فَقُمْنَا لَهُ فَقَالَ:"لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں۔ “ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5230)
٭ فيه أبو مرزوق: لين و أبو العدبس و تلميذه: مستوران و لبعض الحديث شواھد عند مسلم وغيره .»
٭ فيه أبو مرزوق: لين و أبو العدبس و تلميذه: مستوران و لبعض الحديث شواھد عند مسلم وغيره .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْعُ الْقِيَامِ لِتَعْظِيمِ أَحَدٍ)
کسی کے احترام کے لئے کھڑے ہونے سے منع کیا
حدیث نمبر: 4701
4701 - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ ذَا، وَنَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سعید بن ابوالحسن ؒ بیان کرتے ہیں، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ گواہی کے سلسلہ میں ہمارے پاس آئے تو ایک آدمی ان کی خاطر اپنی جگہ سے اٹھ کھرا ہوا، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ایسے آدمی کے کپڑے سے اپنا ہاتھ صاف کرے جو اس نے اسے نہیں پہنایا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4827)
٭ أبو عبد الله مولي آل أبي بردة: مجھول .»
٭ أبو عبد الله مولي آل أبي بردة: مجھول .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (وَضْعُ الثَّوْبِ لِحَجْزِ مَكَانِ الْجُلُوسِ)
بیٹھنے کی جگہ اپنا کپڑا رکھنا
حدیث نمبر: 4702
4702 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَامَ، فَأَرَادَ الرُّجُوعَ، نَزَعَ نَعْلَهُ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ، فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ جاتے تو ہم آپ کے اردگرد بیٹھ جاتے تھے، پھر آپ کھڑے ہوتے اور آپ کا واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ اپنا جوتا اتار کر یا اپنی کوئی چیز وہاں رکھ جاتے جس سے صحابہ سمجھ جاتے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئیں گے) اور وہ وہیں بیٹھے رہتے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4854)
٭ تمام بن نجيح: ضعيف و کعب بن ذھل: فيه لين .»
٭ تمام بن نجيح: ضعيف و کعب بن ذھل: فيه لين .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (عَدَمُ الْجُلُوسِ بَيْنَ اثْنَيْنِ جَالِسَيْنِ بِغَيْرِ إِذْنٍ)
دو بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھے
حدیث نمبر: 4703
[ ص: 2976 ] 4703 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان، ان کی اجازت کے بغیر علیحدگی پیدا کرے (اور خود ان دونوں کے درمیان بیٹھ جائے)۔ “ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4703]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2752) و أبو داود (4845)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (عَدَمُ تَفْرِيقِ الْجَالِسِينَ بِغَيْرِ إِذْنٍ)
پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو بلا اجازت الگ نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 4704
4704 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر مت بیٹھو۔ “ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4704]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4844)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الْقِيَامُ لِلتَّوْدِيعِ)
رخصت کرنے کے لئے کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 4705
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4705 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں تشریف رکھتے اور ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے، اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم دیر تک کھڑے رہتے حتی کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر داخل ہو جاتے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4705]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8930) [و أبو داود (4775) ]
٭ فيه ھلال بن أبي ھلال: مستور، لم يوثقه أحد من المتقدمين والله أعلم .»
٭ فيه ھلال بن أبي ھلال: مستور، لم يوثقه أحد من المتقدمين والله أعلم .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (تَوْسِيعُ الْمَجْلِسِ)
مجلس میں کشادگی کرنا
حدیث نمبر: 4706
4706 - وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ، فَتَزَحْزَحَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِنَّ لِلْمُسْلِمِ لَحَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
واثلہ بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی خاطر اپنی جگہ سے ہٹ گئے تو آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! جگہ تو کافی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مسلمان کا حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو وہ اس کے لیے (اپنی جگہ سے کچھ) ہٹ جائے۔ “ امام بیہقی نے دونوں احادیث شعب الایمان میں ذکر کی ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8933، نسخة محققة: 8534)
٭ مجاھد بن فرقد: حديثه منکر و تکلم فيه .»
٭ مجاھد بن فرقد: حديثه منکر و تکلم فيه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الْجُلُوسُ مُتَرَبِّعًا جَائِزٌ)
گوٹ مار کر بیٹھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4707
[ ص: 2977 ] (5) بَابُ الْجُلُوسِ وَالنَّوْمِ وَالْمَشْيِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4707 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ رِضَى اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدَيْهِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4707]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6272)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح