مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. حَدِیث اَبِی حَازِم عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ :" أَنَّهُ كَانَ فِي الشَّمْسِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَحَوَّلَ إِلَى الظِّلِّ أَوْ يُجْعَلَ فِي الظِّلِّ".
سیدنا ابوحازم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ دھوپ میں ہی کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر حکم دیا اور وہ سایہ دار جگہ میں چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15516]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ،" جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَعَدَ فِي الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، أَوْ قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يَتَحَوَّلَ إِلَى الظِّلِّ".
سیدنا ابوحازم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ دھوپ میں ہی کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر حکم دیا اور وہ سایہ دار جگہ میں چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15517]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وظاهرة الإرسال، وقد سلف متصلا
حدیث نمبر: 15518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَأَمَرَ بِي، فَحُوِّلْتُ إِلَى الظِّلِّ".
سیدنا ابوحازم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ دھوپ میں ہی کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر حکم دیا اور وہ سایہ دار جگہ میں چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15518]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
109. بَقِیَّة حَدِیثِ محرِّش الكَعبِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ لَيْلًا مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ أَمْسَى مُعْتَمِرًا، فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا، فَقَضَى عُمْرَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ، فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَبَائِتٍ، حَتَّى إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جاء مع الطَّرِيقُ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ بِسَرِفَ"، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ.
سیدنا محرش سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کے وقت عمرہ کی نیت سے نکلے رات ہی کو مکہ مکر مہ پہنچے عمرہ کیا اور رات ہی کو وہاں سے نکلے اور جعرانہ لوٹ آئے صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات یہیں گزاری ہے جب سورج ڈھل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکل کر بطن سرف میں آئے اور مدینہ جانے والے راستے پر ہو لیے اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمرے کا حال لوگوں سے مخفی رہا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15519]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
110. حَدِیث اَبِی الیَسَرِ الاَنصَارِیِّ كَعبِ بنِ عَمرو رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ظِلِّهِ، فَلْيُنْظِرْ الْمُعْسِرَ أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ".
سیدنا ابوالیسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء کر ے تو اسے چاہئے کہ تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا اسے قرض معاف کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15520]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 3006، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْيَسَرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ عَنْهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ظِلِّهِ" , قَالَ مُعَاوِيَةُ:" يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ".
سیدنا ابوالیسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا اسے قرض معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15521]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3006
حدیث نمبر: 15522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجٌ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي الصَّلَاةَ كَامِلَةً، وَمِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي النِّصْفَ وَالثُّلُثَ، وَالرُّبُعَ، حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ" , قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ.
سیدنا ابوالیسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو پوری نماز پڑھتے ہیں جو آدھی ' تہائی ' چوتھائی ' پانچ حصے یاحتی کہ دہائی پڑھتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15522]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ السَّبْعِ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ وَالْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
سیدنا ابوالیسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سات کلمات کو اپنی دعا میں شامل کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اے اللہ میں غموں سے پہاڑ کی چوٹی سے گرنے سے پریشانیوں سے سمندر میں ڈوبنے سے، آگ میں جلنے سے اور انتہائی بڑھاپے سے موت کے وقت شیطان کے مجھے مخبوط الحو اس بنانے سے آپ کے راستے میں پشت پھیر کر مرنے سے اور کسی جانور کے ڈسنے سے مرنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15523]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عبدالله بن سعيد، ولم يوجد ترجمة أبى هند
حدیث نمبر: 15524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ السُّلَمِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَدْعُو , فَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَالتَّرَدِّي وَالْهَرَمِ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
سیدنا ابوالیسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سات کلمات کو اپنی دعا میں شامل کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اے اللہ میں غموں سے پہاڑ کی چوٹی سے گرنے سے پریشانیوں سے سمندر میں ڈوبنے سے، آگ میں جلنے سے اور انتہائی بڑھاپے سے موت کے وقت شیطان کے مجھے مخبوط الحو اس بنانے سے آپ کے راستے میں پشت پھیر کر مرنے سے اور کسی جانور کے ڈسنے سے مرنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15524]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عبدالله بن سعيد، ولم يوجد ترجمة أبى هند
حدیث نمبر: 15525
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى يَعْقُوبَ فِي مَغَازِي أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ , وَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلِمَةَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّا لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ تُرِيدُ حِصْنَهُمْ، وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَجُلٌ يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ؟" قَالَ أَبُو الْيَسَرِ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَال:" فَافْعَلْ" قَالَ: فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِه" قَالَ: فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ، وَقَدْ دَخَلَتْ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ أُخْرَاهَا، فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدَيَّ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ، حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَبَحُوهُمَا، فَأَكَلُوهُمَا، فَكَانَ أَبُو الْيَسَرِ مِنْ آخِرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكًا، فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، ثُمَّ يَقُولُ: أُمْتِعُوا بِي لَعَمْرِي كُنْتُ آخِرَهُمْ.
سیدنا ابویسر سے مروی ہے کہ اللہ کی قسم ہم لوگ اس شام کو خیبر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جبکہ ایک یہو دی کی بکریوں کا ریوڑ قلعہ میں داخل ہو نا چاہتا تھا اور ہم نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بکریوں میں سے ہمیں کون کھلائے گا میں نے اپنے آپ کو پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی میں سائے کی تیزی سے نکلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جاتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: اے اللہ ہمیں اس سے فائدہ پہنچا میں جب اس ریوڑ تک پہنچا تو اس کا اگلہ حصہ قلعے میں داخل ہو چکا تھا میں نے پچھے حصے سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں اپنے ہاتھوں تلے دبایا اور اس طرح انہیں دوڑتا ہوا لے آیا کہ گویا کہ میرے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہیں لاڈالا صحابہ کرام نے انہیں ذبح کیا اور سب نے اسے کھایا یہ سیدنا ابویسر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے اور وہ جب بھی یہ حدیث سناتے تو روپڑتے اور فرماتے کہ مجھ سے فائدہ حاصل کر لو واللہ میں اس قافلے کا آخری فرد ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15525]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، ولابهام رواته عن أبى اليسر