مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. أَحَادِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ الْمُؤَذِّنِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِي، وَقَالَ:" قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ , ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ , حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ , قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
سیدنا ابومحذورہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اذان سکھا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا: بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا دو مرتبہ اشہد ان لا الہ اللہ کہنا دو دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ آہستہ آواز سے کہنا پھر دو دو مرتبہ بلند آواز سے کہنا پھر دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہنا اور جب صبح کی اذان دینا تو دو مرتبہ الصلاۃ خیرالنوم کہنا اور آخر میں اللہ اللہ اکبر کہنا اور لا الہ الا اللہ کہنا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15379]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالملك، و لجهالة حال أبيه عبدالملك
حدیث نمبر: 15380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حَجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ , قَالَ رَوْحٌ: ابْنُ مِعْيَرٍ وَلَمْ يَقُلْهُ ابْنُ بَكْرٍ، حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ , قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: يَا عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ، وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ: نَعَمْ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ، فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ، وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمْ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدْ ارْتَفَعَ؟" , فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ:" قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ" , فَقُمْتُ، وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ نَفْسُهُ، فَقَالَ:" قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ , فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَارَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَرَّتَيْنِ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ:" قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ" , وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ، عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَهْلِي مِمَّنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ.
عبداللہ بن محریز جو کہ جو سیدنا ابومحذورہ کی پرورش میں تھے شام روانہ ہوتے وقت کہنے لگے کہ چچاجان مجے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھ سے آپ کی اذان کا واقعہ ضرور پوچھیں گے چنانچہ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں چند نوجوانوں کے ساتھ نکلا ہم لوگ حنین کے راستے میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے نظر آئے راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہو گیا نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان دی تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو کر ان کی نقل اتار کر ان کا مذاق اڑانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان نوجوانوں کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ اور ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون اونچی آواز نکال رہا تھا سب نے میری طرف اشارہ کر دیا اور اس میں سچے بھی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب اذان دو چنانچہ میں کھڑ ہوا لیکن اس وقت میری نظروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا دیا ہوا حکم سب سے زیادہ پسندیدہ تھا میں کھڑا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا: دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا، دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنا دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہنا پھر دوبارہ یہی کلمات بلند آواز سے کہنا دو مرتبہ حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہنا پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور پھر لا الہ الا اللہ کہنا جب میں اذان دے کر فارغ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی پھر میری پیشانی پر اپنا دست مبارک رکھ کر دومرتبہ چہرے پر پھیرا پھر سامنے پھر جگر پر حتی کہ ناف تک ہاتھ پہنچا پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے مکہ مکر مہ میں اذان کے لئے مقرر کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کا حکم جاری کر دیتا ہوں اسی وقت ان کے دل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت دور ہو گئ اور اس کی جگہ محبت پیداہو گئی پھر میں گورنر مکہ سیدنا عتاب بن اسید کے پاس پہنچا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مطلع کیا۔ گزشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15380]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
سیدنا ابومحذورہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے تھے اذان کے کلمات یہ تھے اور دو مرتبہ اللہ اکبر دو مرتبہ اشہد ان لا الہ اللہ اور دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ پھر دو مرتبہ کلمات دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور لا الہ الا اللہ کہنا اور اقامت کے کلمات اس طرح ہیں۔ اللہ اکبر اللہ اکبر، اشہدان لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ یعنی دو دو کلمات ادا کئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15381]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه، وهذا إسناد حسن
43. اَحَادِیث شَیبَةَ بنِ عثمَانَ الحَجِّیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15382
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ:" جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِي الْكَعْبَةِ صَفْرَاءَ، وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ سَبَقَكَ صَاحِبَاكَ لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ، فَقَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا".
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ سیدنا عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا: تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دوں میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دو ساتھی گزر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا سیدنا عمر نے فرمایا: وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15382]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1594
حدیث نمبر: 15383
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ , فَقَالَ:" جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ، وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ، قَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا".
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ سیدنا عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا: تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دوں میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دوساتھی گزر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا سیدنا عمر نے فرمایا: وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15383]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7275
44. اَحَادِیث اَبِی الحَكَمِ , اَو الحَكَمِ بنِ سفیَانَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَنَضَحَ فَرْجَهُ.
سیدنا ابوالحکم یا حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارلئے۔ شریک کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15384]
حکم دارالسلام: حديث ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
حدیث نمبر: 15385
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ قَالَ شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
شریک کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15385]
حکم دارالسلام: .
حدیث نمبر: 15386
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد , قَالَ: َوجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ 63أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَالَ، ثُمَّ يَعْنِي نَضَحَ فَرْجَهُ".
سیدنا ابوالحکم یا حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارلئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15386]
حکم دارالسلام: حديث ضعيف الاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
45. اَحَادِیث عثمَانَ بنِ طَلحَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ، الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وِجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ".
سیدنا عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعتیں پڑھیں تھیں دوسری سند کے مطابق داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں سیدنا عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دوستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15387]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عروة بن الزبير لم يسمع من عثمان بن طلحة
حدیث نمبر: 15388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ جَوْشَنٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ، وَحْدَهُ" , قَالَ: هُشَيْمٌ مَرَّةً أُخْرَى:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَدُّ وَتُدَّعَى، وَكُلَّ دَمٍ أَوْ دَعْوَى مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا سِدَانَةَ الْبَيْتِ، وَسِقَايَةَ الْحَاجِّ، أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ , قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ، مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا"، وَقَالَ مَرَّةً:" أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ".
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے بندے کی مدد فرمائی ہے اور اکیلے ہی تمام لشکر وں کو شکست سے دوچار کیا ہے یاد رکھو زمانہ جاہلیت میں جو چیز بھی قابل فخر سمجھتی تھی اور ہر خون کا یا عام دعوی آج میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی کنجی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کا منصب برقرار رہے گا یاد رکھو ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کوڑے لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہو گئی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ قاسم بن ربیعہ سے گزشتہ حدیث میں یہ منقول ہے کہ ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کو کوڑے لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہو گی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹیناں ہوں گی جو شخص اس میں ایک اونٹ کا بھی اضافہ کر ے وہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں میں سے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15388]
حکم دارالسلام: حديث صحيح