مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. حَدِیث مطِیعِ بنِ الاَسوَدِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَخِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ مُطِيعٍ ، وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصُ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ , يَقُولُ:" لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا يُقْتَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بَعْدَ الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا".
سیدنا مطیع بن اسود جن کا نام پہلے عاص تھا اسے تبدیل کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطیع رکھا تھا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: آج کے بعد قیامت تک مکہ میں جہاد نہیں ہو گا اور کسی قریشی کو مظلومیت کی حالت میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15408]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1782 دون قوله: لا تغزي مكة بعد هذا العام أبدا فهو حسن
حدیث نمبر: 15409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ:" لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ" , وَلَمْ يُدْرِكْ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ"، وَكَانَ اسْمُهُ عَاصِي فَسَمَّاهُ مُطِيعًا، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا مطیع بن اسود جن کا نام پہلے عاص تھا اسے تبدیل کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطیع رکھا تھا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: آج کے بعد قیامت تک مکہ میں جہاد نہیں ہو گا اور کسی قریشی کو مظلومیت کی حالت میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15409]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1782
51. حَدِیث قدَامَةَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَمَّار رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَارِقٍ أَبُو قُرَّةَ الزُّبَيْدِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْحُصَيْبِ، وَإِلَى جَانِبِهَا رِمَعٌ، وَهِيَ قَرْيَةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَبِي وَكَانَ أَبُو قُرَّةَ قَاضِيًا لَهُمْ بِالْيَمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ"، قَالَ أَبُو قُرَّةَ: وَزَادَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِ أَيْمَنَ هَذَا، عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ بِلَا زَجْرٍ وَلَا طَرْدٍ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ.
سیدنا قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس دوسری سند سے گزشتہ حدیث میں یہ اضافہ بھی مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفیدی سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جا رہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15410]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي كِلَابٍ يُقَالُ لَهُ: قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ النَّحْرِ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ، لَا ضَرْبَ، وَلَا طَرْدَ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15411]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِلَابِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ، لَا ضَرْبَ، وَلَا طَرْدَ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15412]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15413
حَدَّثَنَا قُرَّانٌ فِي الْحَدِيثِ , قَالَ: يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ.
گزشتہ حدیث قران سے بھی مروی ہے جس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر جمرات کی رمی فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15413]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَمُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ أَبُو الْفَضْلِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ , عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى نَاقَةٍ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ".
سیدنا قدامہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اونٹنی پر سوار ہیں اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15414]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15414
(حديث مرفوع) حدثنا عبد اللّه، حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ، لَا ضَرْبَ، وَلَا طَرْدَ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ"، وَزَادَ عَبَّادٌ فِي حَدِيثِهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15414]
حدیث نمبر: 15415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ،" يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ، لَا ضَرْبَ، وَلَا طَرْدَ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دس ذی الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید سرخی مائل اونٹنی پر سوار تھے کسی کو ڈانٹ پکار نہیں کی جارہی تھی اور نہ ہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15415]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
52. حَدِیث سفیَانَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الثَّقَفِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: بَعْدَكَ، قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ".
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15416]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 38