مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. حَدِیث اَبِی طَرِیف رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبِي طَرِيفٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ، وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْعَصْرِ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوْقِعَ نَبْلِهِ".
سیدنا ابوطریف سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا ہے میں آپ کے ساتھ ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مغرب کی نماز اس وقت پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی تیر پھینکتا تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15437]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عبدالله
67. تَمَام حَدِیثِ صَخر الغَامِدِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15438
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُ مَالَهُ.
سیدنا صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث سیدنا صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکر وں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہو گئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15438]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمارة بن حديد، وقوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورهم، فهو حسن بشواهده
68. حَدِیث اَبِی بَكرِ بنِ اَبِی زهَیر عَن اَبِیهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَسُرَيْجٌ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , كِلَاهُمَا قَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِالنَّبَاءَةِ أَوْ بِالنِّبَاءَةِ شَكَّ نَافِعٌ مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ" , أَوْ قَالَ:" خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ" , قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ، وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ".
ابوبکر بن ابی زہیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہ نبوت میں طائف میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو عنقریب تم اہل جنت اور اہل جہنم یا اچھوں اور بروں میں امتیاز کر سکوگے ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو اچھی اور بری تعریف کے ذریعے کیونکہ تم لوگ ایک دوسرے کے متعلق زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15439]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
69. حَدِیث الحَارِثِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ اَوس رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ تَحِيضُ، قَالَ: لِيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ الْحَارِثُ كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عُمَرُ: أَرِبْتَ عَنْ يَدَيْكَ، سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ، سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَكِنِّي مَا أُخَالِفُ.
سیدنا حارث بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عمر سے اس عورت کا حکم پوچھا: جو بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی پھر اسے ایام آ گئے انہوں نے فرمایا کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو نا چاہیے سیدنا حارث نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی مسئلہ بتایا تھا سیدنا عمر نے انہیں سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم مجھ سے اس چیز کے متعلق دریافت کر رہے ہو جس کے متعلق تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر چکے ہو لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15440]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ، فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ" , فَبَلَغَ حَدِيثُهُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: خَرَرْتَ مِنْ يَدِكَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ؟.
سیدنا حارث بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کر لے اس پر آخری کام بیت اللہ کا طواف کرنا ہے سیدنا عمر کو ان کی یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے انہیں سخت سست کہا اور فرمایا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے اور پھر ہمیں بھی نہیں بتائی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15441]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة وعبدالرحمن بن البيلماني، ولا رساله عمرو بن أوس لم يسمع النبى ﷺ
حدیث نمبر: 15442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ، فَلْيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ" , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: خَرَرْتَ مِنْ يَدَيْكَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ تُحَدِّثْنِي؟!.
سیدنا حارث بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کر لے اس پر آخری کام بیت اللہ کا طواف کرنا ہے سیدنا عمر کو ان کی یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے انہیں سخت سست کہا اور فرمایا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے اور پھر ہمیں بھی نہیں بتائی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15442]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة وعبدالرحمن بن البيلماني
70. وَمِن حَدِیثِ صَخر الغَامِدِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15443
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَكَانَ" إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً , أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ"، قَالَ: فَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ فَأَثْرَى، وَكَثُرَ مَالُهُ.
سیدنا صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث سیدنا صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکر وں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی کثرت ہو گئی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15443]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمارة ، وقوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده
71. حَدِیث اِیَاسِ بنِ عَبد مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:" لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ" , قَالَ: وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِ فَنَهَاهُمْ.
سیدنا ایاس بن عبد سے مروی ہے کہ ضرورت سے زائد پانی مت بیچا کر و کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے دراصل زمانے میں لوگ دریائے فرات کا پانی بیچنے لگے تھے اس لئے انہوں نے اس سے منع فرمایا:۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15444]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
72. حَدِیث كَیسَانَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ، قُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيكَ؟ فَقَالَ: مَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ:" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنَ الْمَطَابِخِ حَتَّى أَتَى الْبِئْرَ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَرَأَى عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِيدًا يُصَلُّونَ، فَحَلَّ الْإِزَارَ، وَتَوَشَّحَ بِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ".
عمرو بن کثیر کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن کیسان سے کہا کہ آپ مجھے اپنے والد کے حوالے سے کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے اس کی درخواست کی ہی کب ہے پھر کہنے لگے کہ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبح سے نکلے کنویں پر پہنچے اس وقت آپ نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا اوپر کی چادر آپ کے جسم مبارک پر نہ تھی کنویں کے پاس آپ نے چند غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے تہبند کی گرہ کھول دی اور پانی کے چھینٹے مارے اور دو رکعتیں پڑھیں البتہ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ ظہر کی نماز تھی یا عصر کی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15445]
حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 15446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ ، مَا أَدْرَكْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِبِئْرِ بَنِي مُطِيعٍ مُلَبَّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ، فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمن بن کیسان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کیسان سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح پایا تھا انہوں نے جواب دیا میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر بن مطیع نامی اونچے کنویں پر ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے اس وقت دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15446]
حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين