🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ المزَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ فَضَاءٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ تُكْسَرَ سِكَّةُ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا مِنْ بَأْسٍ".
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان رائج الوقت سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15457]

حکم دارالسلام: إسناده تالف من أجل محمد بن فضاء، وجهالة أبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. حَدِیث اَبِی سَلِیط البَدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَلِيطٍ ، قَالَ: أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَالْقُدُورُ تَفُورُ بِهَا، فَكَفَأْنَاهَا عَلَى وُجُوهِهَا".
سیدنا ابوسلیط سے مروی ہے کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر مشتمل یہ پیغام آیا کہ پالتو گدھے سے نہ کھائے جائیں اس وقت ہانڈیوں میں اس کا گوشت ابل رہا تھا لیکن ہم نے انہیں ان کے منہ کے بل اوندھادیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15458]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عمرو، وعبدالله بن أبى سليط مجهول أيضا، قيل : له صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُ أَنَا مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ضَمُرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَلِيطٍ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , قَالَ: أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَنَحْنُ بِخَيْبَرَ، فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ".
سیدنا ابوسلیط سے مروی ہے کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر مشتمل یہ پیغام آیا کہ پالتو گدھے سے نہ کھائے جائیں اس وقت ہمیں بھوک لگ رہی تھی لیکن ہم نے پھر بھی انہیں ان کے منہ کے بل اوندھادیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15459]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عمرو، وعبدالله بن أبى سليط مجهول أيضا، قيل: له صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. حَدِیث عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ خَنبَش رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ أَبُو سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَنْبَشٍ التَّمِيمِيِّ ، وَكَانَ كَبِيرًا، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةُ نَارٍ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قُلْ , قَال:" َمَا أَقُولُ؟" , قَالَ: قُلْ:" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، يَا رَحْمَنُ" , قَالَ: فَطَفِئَتْ نَارُهُمْ، وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى.
ابوتیاح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش سے جو کہ انتہائی عمررسیدہ تھے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے پوچھا کہ لیلہ الجن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا انہوں نے فرمایا کہ اس رات مختلف وادیوں اور گھاٹیوں سے جنات اتراتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شیطان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا جس سے اس کا ارادہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلادے اتنی دیر میں سیدنا جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے اتر کر آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد کہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کہوں انہوں نے کہا آپ کہے کہ میں اللہ کی مکمل تام صفاف کے ذریعے ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ مانگتاہوں جنہیں اللہ نے پیدا کیا ہے انہیں وجود عطا کیا اور موجود کیا ان تمام چیزوں کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان کی طرف چڑھتی ہیں رات ودن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر کے ساتھ آئے نہایت رحم کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کے پڑھتے ہی ان کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15460]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به جعفر بن سليمان، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وسيار بن حاتم له مناكير، وقوله: "قلت لعبدالرحمن بن خنبش" وهم من سيار بن حاتم، صوابه: سال رجل عبدالرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَنْبَشٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ قَالَ: جَاءَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ، وَتَحَدَّرَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْجِبَالِ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ مَعَهُ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ، يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرُعِبَ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، قَالَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , قُلْ , قَال:" مَا أَقُولُ" , قَالَ: قُلْ:" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، يَا رَحْمَنُ" فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّيَاطِينِ، وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابوتیاح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش سے جو کہ انتہائی عمررسیدہ تھے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے پوچھا کہ لیلہ الجن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا انہوں نے فرمایا کہ اس رات مختلف وادیوں اور گھاٹیوں سے جنات اتراتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شیطان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا جس سے اس کا ارادہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلادے اتنی دیر میں سیدنا جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے اتر کر آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد کہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کہوں انہوں نے کہا آپ کہے کہ میں اللہ کی مکمل تام صفاف کے ذریعے ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ مانگتاہوں جنہیں اللہ نے پیدا کیا ہے انہیں وجود عطا کیا اور موجود کیا ان تمام چیزوں کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان کی طرف چڑھتی ہیں رات ودن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر کے ساتھ آئے نہایت رحم کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کے پڑھتے ہی ان کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15461]

حکم دارالسلام: اسناده ضعيف كسابقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. حَدِیث ابنِ عَبس عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15462
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَال: حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ عَبْسٍ , قَالَ: كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً , قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا، يَا آلَ ذَرِيحْ قَوْلٌ فَصِيحْ، رَجُلٌ يَصِيحْ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ.
سیدنا ابن عبس فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھروالوں کی ایک گائے چرایا کرتا تھا ایک دن میں نے اس کے حکم سے یہ آواز سنی اے آل ذریح ایک فصیح بات ایک شخص اعلان کر کے کہہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کے بعد جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو معلوم ہوا جہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کر دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15462]

حکم دارالسلام: هذا الأثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. حَدِیث عَیَّاشِ بنِ اَبِی رَبِیعَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَجِيءُ رِيحٌ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ، تُقْبَضُ فِيهَا أَرْوَاحُ كُلِّ مُؤْمِنٍ".
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک آندھی آئے گی اور اسی دوران ہر مؤمن کی روح قبض کر لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15463]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، نافع لم يدرك عياش بن أبى ربيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. حَدِیث المطَّلِبِ بنِ اَبِی وَدَاعَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" سَجَدَ فِي النَّجْمِ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ"، قَالَ الْمُطَّلِب: وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، فَقَالَ الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا.
سیدنا مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت مشرک تھا اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کر وں گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15464]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عكرمة بن خالد لم يسمع من المطلب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ.
سیدنا مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت مشرک تھا اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کر وں گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15465]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال جعفر بن المطلب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. حَدِیث مجَمِّعِ بنِ جَارِیَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: سَمِعْتُ مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ:" يَقْتُلُهُ ابْنُ مَرْيَمَ بِبَابِ لُدٍّ".
سیدنا مجمع بن جاریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکر ہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے سیدنا عیسیٰ باب لد نامی جگہ پر قتل کر یں گے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15466]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عبيدالله الانصاري، واختلف على الزهري فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں