صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ قَائِمًا:
باب: استسقاء میں کھڑے ہو کر خطبہ میں دعا مانگنا۔
حدیث نمبر: 1022
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،" خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ، وَخَرَجَ مَعَهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَاسْتَسْقَى فَقَامَ بِهِمْ عَلَى رِجْلَيْهِ عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ وَلَمْ يُؤَذِّنْ وَلَمْ يُقِمْ"، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَرَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے زہیر نے، ان سے ابواسحاق نے کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے باہر نکلے۔ ان کے ساتھ براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے پانی کے لیے دعا کی تو پاؤں پر کھڑے رہے، منبر نہ تھا۔ اسی طرح آپ نے دعا کی پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قرآت بلند آواز سے کی، نہ اذان کہی اور نہ اقامت ابواسحاق نے کہا عبداللہ بن یزید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1022]
ابو اسحاق السبیعی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ، حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہم کے ہمراہ باہر تشریف لے گئے، وہاں منبر کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر بارش کی دعا کی، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بآواز بلند قراءت کی، اس کے لیے اذان اور تکبیر کا اہتمام نہ کیا۔ (راوی حدیث) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2952
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2952
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية | صحابي صغير | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن يزيد الأوسي | ثقة مكثر | |
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة زهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة ثبت | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← زهير بن معاوية الجعفي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1022
| استسقى فقام بهم على رجليه على غير منبر فاستغفر ثم صلى ركعتين يجهر بالقراءة ولم يؤذن ولم يقم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1022 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1022
حدیث حاشیہ:
وہ صحابی تھے اور ان کا یہ واقعہ64ھ سے تعلق رکھتا ہے جب کہ وہ عبد اللہ بن زبیر ؓ کی طرف سے کوفہ کے حاکم تھے۔
وہ صحابی تھے اور ان کا یہ واقعہ64ھ سے تعلق رکھتا ہے جب کہ وہ عبد اللہ بن زبیر ؓ کی طرف سے کوفہ کے حاکم تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1022]
Sahih Bukhari Hadith 1022 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن يزيد الأوسي