Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب صلاة الكسوف فى المسجد:
باب: کسوف کی نماز مسجد میں پڑھنی چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1056
ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
‏‏‏‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کے وقت سوار ہوئے (کہیں جانے کے لیے) ادھر سورج گرہن لگ گیا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے، ابھی چاشت کا وقت تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں سے گزرے اور (مسجد میں) کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صف باندھ کر کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام بہت لمبا کیا رکوع بھی بہت لمبا کیا پھر رکوع سے سر اٹھا نے کے بعد دوبارہ لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم اس کے بعد رکوع بہت لمبا کیا لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے اور لمبا سجدہ کیا۔ پھر لمبا قیام کیا اور یہ قیام بھی پہلے سے کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا اگرچہ یہ رکوع بھی پہلے کے مقابلے میں کم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے کھڑے ہو گئے اور لمبا قیام کیا لیکن یہ قیام پھر پہلے سے کم تھا اب (چوتھا) رکوع کیا اگرچہ یہ رکوع بھی پہلے رکوع کے مقابلے میں کم تھا۔ پھر سجدہ کیا بہت لمبا لیکن پہلے سجدہ کے مقابلے میں کم۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ پھر لوگوں کو سمجھایا کہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1047
صلى يوم خسفت الشمس فقام فكبر فقرأ قراءة طويلة ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده وقام كما هو ثم قرأ قراءة طويلة وهي أدنى من القراءة الأولى ثم ركع ركوعا طويلا وهي أدنى من الركعة الأولى ثم سجد سجودا طويلا ثم فعل في الركعة الآخرة مثل ذلك ث
صحيح البخاري
1050
خسفت الشمس فرجع ضحى فمر رسول الله بين ظهراني الحجر ثم قام يصلي وقام الناس وراءه فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا
صحيح البخاري
1056
كسفت الشمس فرجع ضحى فمر رسول الله بين ظهراني الحجر ثم قام فصلى وقام الناس وراءه فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا
صحيح البخاري
1064
صلى بهم في كسوف الشمس أربع ركعات في سجدتين الأول الأول أطول
صحيح البخاري
1065
سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم يعاود القراءة في صلاة الكسوف أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات
صحيح البخاري
1212
خسفت الشمس فقام النبي فقرأ سورة طويلة ثم ركع فأطال ثم رفع رأسه ثم استفتح بسورة أخرى ثم ركع حتى قضاها وسجد ثم فعل ذلك في الثانية إنهما آيتان من آيات الله فإذا رأيتم ذلك فصلوا حتى يفرج عنكم لقد رأيتنى في مقامي هذا كل شيء وعدته حتى
صحيح مسلم
2097
صلى ست ركعات وأربع سجدات
صحيح مسلم
2093
جهر في صلاة الخسوف بقراءته فصلى أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات
جامع الترمذي
561
صلى رسول الله بالناس فأطال القراءة ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع رأسه فأطال القراءة هي دون الأولى ثم ركع فأطال الركوع وهو دون الأول ثم رفع رأسه فسجد ثم فعل مثل ذلك في الركعة الثانية
جامع الترمذي
563
صلى صلاة الكسوف وجهر بالقراءة فيها
سنن أبي داود
1190
كسفت الشمس فأمر رسول الله رجلا فنادى أن الصلاة جامعة
سنن أبي داود
1188
قرأ قراءة طويلة فجهر بها
سنن أبي داود
1187
كسفت الشمس في حياة رسول الله فخرج رسول الله فصلى بالناس فقام فحزرت قراءته فرأيت أنه قرأ بسورة البقرة وساق الحديث ثم سجد سجدتين ثم قام فأطال القراءة فحزرت قراءته فرأيت أنه قرأ بسورة آل عمران
سنن النسائى الصغرى
1467
كبر وصف الناس وراءه فاستكمل أربع ركعات وأربع سجدات وانجلت الشمس قبل أن ينصرف
سنن النسائى الصغرى
1466
مناديا ينادي أن الصلاة جامعة فاجتمعوا واصطفوا فصلى بهم أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات
سنن النسائى الصغرى
1482
لما كسفت الشمس على عهد رسول الله توضأ وأمر فنودي أن الصلاة جامعة فقام فأطال القيام في صلاته قالت عائشة فحسبت قرأ سورة البقرة ثم ركع فأطال الركوع ثم قال سمع الله لمن حمده ثم قام مثل ما قام ولم يسجد ثم ركع فسجد ثم قام فصنع مثل ما صنع ركعت
سنن النسائى الصغرى
1472
صلى ست ركعات في أربع سجدات
سنن النسائى الصغرى
1474
صلى بهم رسول الله أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات
صحيح البخاري
1049
عائذا بالله من ذلك
بلوغ المرام
402
ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم جهر في صلاة الكسوف بقراءته فصلى اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1056 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1056
حدیث حاشیہ:
اس حدیث اور دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر کا عذاب وثواب بر حق ہے۔
اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا۔
اس بارے میں شارحین بخاری لکھتے ہیں:
لعظم ھو له وأیضا فإن ظلمة الکسوف إذا غمت الشمس تناسب ظلمة القبر والشيئ یذکر فیخاف من ھذا کما یخاف من ھذا ومما یستنبط منه أنه یدل علی أن عذاب القبر حق وأھل السنة مجمعون علی الإیمان به والتصدیق به ولا ینکرہ إلامبتدع۔
(حاشیہ بخاری)
یعنی اس کی ہولناک کیفیت کی وجہ سے آپ نے ایسا فرمایا اوراس لیے بھی کہ سورج گرہن کی کیفیت جب اس کی روشنی غائب ہو جائے قبر کے اندھیرے سے مناسبت رکھتی ہے۔
اسی طرح ایک چیز کا ذکر دوسری چیز کے ذکر کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اوراس سے ڈرایا جاتا ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ قبر کا عذاب حق ہے اور جملہ اہل سنت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے جو عذاب قبر کا انکار کرے وہ بدعتی ہے۔
(انتهیٰ)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1056]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1056
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں اگرچہ نماز کسوف مسجد میں ادا کرنے کی صراحت نہیں، لیکن حجروں کے درمیان سے گزر کر آپ مسجد ہی میں تشریف لائے ہیں۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا:
میں دیگر عورتوں کے ہمراہ حجروں کے درمیان سے ہوتی ہوئی مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر سیدھے وہاں آئے جہاں آپ نماز پڑھتے تھے۔
(صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2088(903) (2)
صحیح بات یہ ہے کہ نماز کسوف مسجد میں ادا کرنا مسنون ہے۔
اگر یہ عمل مسجد میں ادا کرنا مسنون نہ ہوتا تو اسے کھلے میدان میں ادا کرنا زیادہ مناسب تھا، کیونکہ اس سے سورج کے روشن ہونے کا جلدی پتہ چل جاتا ہے۔
(فتح الباري: 702/2)
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1056]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1466
سورج گرہن کی نماز کے لیے اعلان کے حکم کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1466]
1466۔ اردو حاشیہ:
➊ اذان کے رائج ہونے سے پہلے فرض نماز کے لیے انھی لفظوں «الصلاۃ جامعۃ» سے بلایا جاتا تھا۔ اب اگر کسی نفل نماز کے لیے بلانا ہو تو ان لفظوں سے اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اذان صرف فرض نماز کے لیے ہے۔
چار رکوع نماز کسوف کے بارے میں زیادہ معتبر اور اوثق روایات ایک رکعت کے اندر دو رکوع کی ہیں۔ بعض محدثین نے تین، چار اور پانچ رکوع کی روایات کو بھی صحیح مان کر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کسوف کے وقت کے حساب سے رکوع کم و بیش کیے جا سکتے ہیں۔ دو سے پانچ تک۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ احادیث میں صرف ایک کسوف کا ذکر ہے اور وہ کشوف 28 شوال 10ھ کا ہے جس دن آپ کے فرزند ارجمند ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے کیونکہ ہر روایت میں موت و حیات کا ذکر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایک نماز کسوف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی طریقہ اختیار فرما سکتے تھے اور وہ معتبر روایات کے مطابق دو رکوع والا ہے۔ اس مسئلے کی تصفیل پیچھے ابتدائیے میں گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لیے ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیں۔
➌ احناف عام نماز کی طرح نماز کشوف میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع کے قائل ہیں مگر اس طرح صحیح اور صریح کثیر روایات، یعنی بخاری و مسلم کی اعلیٰ پائے کی روایات عمل سے رہ جائیں گی اور نماز کشوف کی خصوصی علامت ختم ہو جائے گی۔ اگر عیدین میں زائد تکبیرات، جنازے میں قیام کی زائد تکبیرات اور نماز وتر میں دعائے قنوت کا اضافہ احادیث کی بنا پر ہو سکتا ہے تو صلاۃ کسوف میں انتہائی معتبر اور صحیح روایات کی بنا پر ایک رکوع کا اضافہ کیوں قابل تسلیم نہیں؟ سوچیے! ہر صحیح حدیث واجب العمل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1466]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1472
سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1472]
1472۔ اردو حاشیہ: حدیث نمبر 1468 سے یہاں تک ہر رکعت کے رکوعوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ دو، تین اور چار۔ تینا ور چار رکوع کی روایات قلیل ہیں۔ کثیر روایات (سابقہ اور آئندہ) دو رکوع کے بارے میں ہیں۔ بعض محدثین نے یہ موقف اختیار فرمایا ہے کہ کسوف کے مختلف واقعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف رکوع فرمائے۔ یہ تطبیق بہت مناسب تھی اگر واقعتًا احادیث میں مختلف کسوفوں کا ذکر ہوتا مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ احادیث میں صرف ایک سورج گرہن کا ذکر ہے۔ اگرچہ آپ کی زندگی میں بہت سی دفعہ گرہن لگا ہو گا۔ (اس کی تفصیلی بحث پیچھے حدیث نمبر 1466 اور ابتدائیے میں گزر چکی ہے۔) اسی طرح آپ کی زندگی میں کئی دفعہ چاند گرہن کا وقوع ہوا ہو گا مگر احادیث میں کسی بھی چاند گرہن کا ذکر نہیں آیا، لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ احادیث میں سے دورکوع والی احادیث اصح واکثر ہیں۔ انھی کو ترجیح ہو گی۔ باقی میں وہم ہے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے سی کتاب کا ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1472]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1482
گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا، اور حکم دیا تو ندا دی گئی: «الصلاة جامعة» (نماز باجماعت ہو گی)، پھر آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے لمبا قیام کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے: «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا، اور سجدہ نہیں کیا، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا، پھر آپ بیٹھے، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1482]
1482۔ اردو حاشیہ:
میرا اندازہ ہے۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز کسوف میں قرأت آہستہ ہونی چاہیے۔ اگر آپ جہر فرماتے تو اندازہ لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ حالانکہ آگے صریح روایت (1495) آرہی ہے کہ آپ نے بلند آواز سے قرأت کی اور وہ روایت بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ہے۔ اور وہ صحیحین کی روایت ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الکسوف، حدیث: 6065 و صحیح مسلم، الکسوف، حدیث:
➎۔ 901) صریح روایت کے مقابلے میں جو اصح بھی ہے، ایک مبہم روایت کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ بلکہ صریح روایت کو ترجیح ہو گی یا تطبیق دی جائے گی کہ آپ نے قرأت جہراً کی تھی مگر مجمع زیادہ دور ہونے کی وجہ سے قراء ت سنائی نہیں دے سکتی تھی۔ یا دور والوں کو آواز تو سنائی دیتی تھی مگر سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ تبھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جہر کی روایت بھی بیان فرماتی ہیں اور اندازہ بھی لگا رہی ہیں۔ بعض اہل علم نے یہ تطبیق بیان کی ہے کہ طولِ زمانہ کی وجہ سے آپ کو یادنہ رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا قرأت کی تھی، اس لیے تخمینہ بیان کیا لیکن پہلی بات ہی درست ہے۔
➋ اس روایت اور روایت نمبر 1480 میں اختصار ہے کہ دو سجدوں کی تفصیل نہیں صرف سجدے کا ذکر ہے کیونکہ نماز کسوف عام نماز سے صرف رکوع میں مختلف ہے، اس لیے رکوع کی تفصیل بیان کر دی کہ وہ ایک رکعت میں دو تھے مگر سجدے تو اتفاقاً ہر نماز میں ایک رکعت میں دو ہی ہیں، لہٰذا اسے مبہم ذکر کر دیا۔ کوئی شخص بھی ایک سجدے کا قائل نہیں۔ امام صاحب نے شاید ظاہر الفاظ کے پیش نظر اسے ایک اور صورت بنادیا، ورنہ یہ کوئی صورت نہیں، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں تصحیف واقع ہوئی ہے۔ اصل میں فی سجدۃ تھا، غلطی سے وسجدۃ ہو گیا یا وسجدتین سے وسجدۃ ہو گیا جو یقیناًً غلطی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (ذخیرہ العقبٰی شرح سنن النسائی: 16؍433)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1482]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1187
نماز کسوف کی قرآت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1187]
1187. اردو حاشیہ:
اس نماز میں قراءت حتی المقدور خوب لمبی ہونی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1187]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1188
نماز کسوف کی قرآت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1188]
1188۔ اردو حاشیہ:
مذکوہ بالا دونوں احادیث کے درمیان جمع و تطبیق یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ فاصلے پر تھیں۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأءت صاف سن نہ سکی تھیں، آواز سنی اس لئے جانا کہ قرأءت جہراً ہو رہی ہے لیکن یہ نہ جان سکیں کہ قرأءت کیا ہو رہی ہے، اس لئے اس کا اندازہ لگایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1188]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1190
نماز کسوف (سورج یا چاند گرہن کی نماز) کے اعلان کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1190]
1190۔ اردو حاشیہ:
نماز کسوف کے لئے اعلان عام تو مستحب ہے، مگر معروف اذان و اقامت نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1190]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 402
نماز کسوف کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم) اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو «الصلاة جامعة» کی عنادی کرتا تھا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 402»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الكسوف، باب الجهر با لقراءة في الكسوف، حديث:1065، ومسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، حديث:901.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں قراء ت بلند آواز سے فرمائی۔
2. یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز عام نمازوں کی طرح نہیں بلکہ اس میں ایک رکوع کا اضافہ ہے۔
اس روایت کی رو سے آپ ایک رکعت میں دو رکوع فرماتے۔
اور یہی موقف راجح ہے جیسا کہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
ظاہر ہے ہر رکوع سے اٹھ کر نئے سرے سے قراء ت کی ہوگی۔
اس طرح قراء ت کا بھی اضافہ ہوا۔
3.اس کا خاص وقت مقرر و متعین نہیں ہے‘ جب سورج یا چاند کو گرہن ہوگا اسی وقت نماز پڑھی جائے گی۔
4.عام نمازوں کے لیے تو اذان مقرر ہے اور صلاۃ کسوف و خسوف کے لیے «اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ» کہنا مشروع ہے۔
پنجگانہ نماز کے لیے یہ کہنا ثابت نہیں ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 402]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 563
گرہن کی نماز میں قرأت کا طریقہ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور اس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 563]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ورنہ اس کے راوی سفیان بن حسین امام زہری سے روایت میں ضعیف ہیں۔
دیکھیے صحیح أبی داود: 1074)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 563]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1050
1050. پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صبح کے وقت کہیں جانے کے لیے سواری پر سوار ہوئے تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت واپس تشریف لائے اور آپ کا گزر ازواج مطہرات کے حجروں کے درمیان سے ہوا۔ اس کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ نے طویل قیام فرمایا، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد رکوع سے اٹھ کر طویل قیام کیا جو پہلے سے قدرے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ اس کے بعد رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔ اس کے بعد آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر اس کے بعد طویل قیام فرمایا جو پہلے سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ بعد ازاں رکوع سے اٹھے اور سجدہ فرمایا، پھر نماز۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1050]
حدیث حاشیہ:
بعض روایتوں میں ہے کہ جب یہود یہ نے حضرت عائشہ ؓ سے عذاب قبر کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا چلو! قبر کا عذاب یہودیوں کو ہوگا۔
مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق، لیکن اس یہودیہ کے ذکر پر انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ نے اس کا حق ہونا بتا یا۔
اسی روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی اور یہ نماز کسوف کے خطبہ کا واقعہ 9 ھ میں ہوا۔
حدیث کے آخر ی جملہ سے ترجمہ باب نکلتا ہے، اس یہودن کو شاید اپنی کتابوں سے قبر عذاب معلوم ہو گیا ہوگا۔
ابن حبان میں سے کہ آیت کریمہ میں لفظ ﴿مَعِیشَة ضَنکاً﴾ (طه: 124)
اس سے عذاب قبر مرا دہے اور حضرت علی ؓ نے کہا کہ ہم کو عذاب قبر کی تحقیق اس وقت ہوئی جب آیت کریمہ ﴿حَتّٰی زُرتُمُ المَقَابِرَ﴾ (التکاثر: 2)
نازل ہوئی اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور قتادہ اور ربیع نے آیت:
﴿سَنُعَذِّبُھُم مَرَّتَینِ﴾ (التوبة: 101)
کی تفسیر میں کہا کہ ایک عذاب دنیا کا اور دوسرا عذاب قبر کا مراد ہے۔
اب اس حدیث میں جو دوسری رکعت میں دون القیام الاول ہے، اس کے مطلب میں اختلاف ہے کہ دوسری رکعت کا قیام اول مراد ہے یا اگلے کل قیام مراد ہیں بعضوں نے کہا چار قیام اور چار رکوع ہیں اور ہر ایک قیام اور رکوع اپنے ما سبق سے کم ہوتا تو ثانی اول سے کم اور ثالث ثانی سے کم اور رابع ثالث سے کم۔
واللہ أعلم۔
یہ جو کسوف کے وقت عذاب قبر سے ڈرایا ا س کی مناسبت یہ ہے کہ جیسے کسوف کے وقت دنیا میں اندھیرا ہو جاتا ہے، ایسے ہی گنہگار کی قبر میں جس پر عذاب ہوگا، اندھیرا چھاجائے گا۔
اللہ تعالی پناہ میں رکھے۔
قبر کا عذاب حق ہے، حدیث اور قرآن سے ثابت ہے جو لوگ عذاب قبر سے انکار کر تے ہیں وہ قرآن وحدیث کا انکار کر تے ہیں, لہذا ان کو اپنے ایمان کے بارے میں فکرکرنا چاہیے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1050]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1064
1064. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جن میں چار رکوع تھے۔ ہر پہلا رکوع دوسرے سے طویل تر تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1064]
حدیث حاشیہ:
سورج اور چاند گرہن میں نماز با جماعت مسنون ہے، مگر حنفیہ چاند گرہن میں نماز با جماعت کے قائل نہیں۔
خدا جانے ان کویہ فرق کرنے کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی کہ سورج گرہن میں تو نماز با جماعت جائز ہو اور چاند گرہن میں ناجائز۔
اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے تھی بہر حال خیال اپنااپنا نظر اپنی اپنی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1064]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1047
1047. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بتایا: جس دن سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ أکبر کہا اور لمبی قراءت فرمائی، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور سمع الله لمن حمده کہا اور ایسے کھڑے ہو گئے جیسے (رکوع سے) پہلے کھڑے تھے، پھر لمبی قراءت فرمائی جو پہلی قراءت سے کم تھی۔ پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا، اس کے بعد آپ نے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت کو بھی اسی طرح ادا کیا، اس کے بعد آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ نے خطبہ دیا اور شمس و قمر کے گرہن کے متعلق فرمایا: یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ تم جب انہیں اس حالت میں دیکھو تو خوف زدہ ہو کر نماز کی طرف توجہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1047]
حدیث حاشیہ:
ہر دو کے گرہن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف اور خسوف ہر دو لفظ استعمال فرمائے۔
پس باب کا مطلب ثابت ہوا
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1047]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1212
1212. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک طویل سورت پڑھی، پھر طویل رکوع کیا۔ اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور دوسری سورت پڑھنا شروع کر دی۔ پھر رکوع کیا اور اچھی طرح اسے ادا کیا۔ اس کے بعد سجدہ فرمایا۔ پھر آپ نے اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، پھر فرمایا: یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان حالات سے دوچار ہو جاؤ تو نماز پڑھو تاآنکہ گرہن ختم ہو جائے۔ یقینا میں نے اس مقام پر کھڑے ہر چیز کو دیکھا ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا حتی کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ جنت کے انگوروں سے ایک خوشہ توڑنے کا ارادہ کر رہا ہوں، جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح میں نے جہنم کو بھی دیکھا کہ اس کے شعلے ایک دوسرے کو توڑ رہے ہیں، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا۔ میں نے جہنم میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1212]
حدیث حاشیہ:
سائبہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو جاہلیت میں بتوں کی نذرمان کر چھوڑ دی جاتی تھی۔
نہ اس پر سوارہوتے اور نہ اس کا دودھ پیتے۔
یہی عمرو بن لحی عرب میں بت پرستی اور دوسری بہت سی منکرات کا بانی ہوا ہے۔
حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے ظاہر ہے اس لیے کہ خوشہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آگے بڑھنا اور دوزخ کی ہیبت کھا کر پیچھے ہٹنا حدیث سے ثابت ہو گیا اور جس کا چار پایہ چھوٹ جاتا ہے وہ اس کے تھامنے کے واسطے بھی کبھی آگے بڑھتا ہے کبھی پیچھے ہٹتا ہے۔
(فتح الباري)
خوارج ایک گروہ ہے جس نے حضرت علی ؓ کی خلافت کا انکار کیا۔
ساتھ ہی حدیث کا انکار کر کے حسنبا اللہ کتاب اللہ کا نعرہ لگایا۔
یہ گروہ بھی افراط وتفریط میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1212]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1047
1047. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بتایا: جس دن سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ أکبر کہا اور لمبی قراءت فرمائی، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور سمع الله لمن حمده کہا اور ایسے کھڑے ہو گئے جیسے (رکوع سے) پہلے کھڑے تھے، پھر لمبی قراءت فرمائی جو پہلی قراءت سے کم تھی۔ پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا، اس کے بعد آپ نے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت کو بھی اسی طرح ادا کیا، اس کے بعد آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ نے خطبہ دیا اور شمس و قمر کے گرہن کے متعلق فرمایا: یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ تم جب انہیں اس حالت میں دیکھو تو خوف زدہ ہو کر نماز کی طرف توجہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1047]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کے نزدیک لفظ کسوف اور خسوف کا اطلاق سورج اور چاند دونوں کے لیے جائز ہے۔
اس روایت کے آغاز میں لفظ خسوف اگرچہ سورج کے لیے استعمال ہوا ہے، تاہم دیگر روایات میں سورج کے لیے لفظ کسوف استعمال ہوا ہے۔
اسی طرح راوی نے روایت کے آخر میں دونوں کے لیے لفظ کسوف استعمال کیا ہے پھر لا يخسفان سے دونوں پر لفظ خسوف استعمال کیا، اس کا واضح مطلب ہے کہ دونوں الفاظ دونوں کے لیے جائز ہیں، اگرچہ عام طور پر سورج کے لیے کسوف اور چاند کے لیے خسوف بولا جاتا ہے۔
جیسا کہ آیت کریمہ میں چاند کے لیے خسوف اور روایات میں سورج کے لیے خسوف استعمال ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1047]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1050
1050. پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صبح کے وقت کہیں جانے کے لیے سواری پر سوار ہوئے تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت واپس تشریف لائے اور آپ کا گزر ازواج مطہرات کے حجروں کے درمیان سے ہوا۔ اس کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ نے طویل قیام فرمایا، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد رکوع سے اٹھ کر طویل قیام کیا جو پہلے سے قدرے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ اس کے بعد رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔ اس کے بعد آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر اس کے بعد طویل قیام فرمایا جو پہلے سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ بعد ازاں رکوع سے اٹھے اور سجدہ فرمایا، پھر نماز۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1050]
حدیث حاشیہ:
(1)
سورج گرہن کے وقت عذاب قبر سے ڈرانے میں یہ مناسبت ہے کہ جس طرح گرہن کے وقت اندھیرا چھا جاتا ہے اسی طرح بدکاروں اور گناہ گاروں کی قبروں میں بھی اندھیرا ہو گا، اس لیے سورج گرہن کے وقت اندھیرے اور قبر کی تاریکی دونوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
(فتح الباري: 694/2)
حضرت عائشہ ؓ کا ذہن تھا کہ ثواب و عقاب آخرت میں ہو گا۔
پہلے انہیں عذاب قبر کے متعلق علم نہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے کے بعد انہیں علم ہوا کہ عذاب قبر برحق ہے۔
ممکن ہے کہ یہودی عورت کو تورات یا پہلی کتابوں سے عذاب قبر کے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہوں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب یہودی عورت نے حضرت عائشہ ؓ سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو حضرت عائشہ نے اس کا انکار کر دیا۔
اس نے کہا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کرنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عذابِ قبر برحق ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
(عمدة القاري: 319/5) (3)
واضح رہے کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر حضرت ابراہیم ؓ فوت ہوئے تھے۔
آپ کفن دفن کے سلسلے میں سواری پر سوار ہو کر گئے تھے۔
چاشت کے وقت نماز کسوف کا اہتمام مسجد میں کیا۔
صحیح مسلم کی روایت میں مسجد کی صراحت ہے کہ آپ نے آتے ہی مسجد کا رخ کیا اور نماز کسوف پڑھائی۔
(صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1059، و صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2098 (903)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1050]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1212
1212. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک طویل سورت پڑھی، پھر طویل رکوع کیا۔ اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور دوسری سورت پڑھنا شروع کر دی۔ پھر رکوع کیا اور اچھی طرح اسے ادا کیا۔ اس کے بعد سجدہ فرمایا۔ پھر آپ نے اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، پھر فرمایا: یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان حالات سے دوچار ہو جاؤ تو نماز پڑھو تاآنکہ گرہن ختم ہو جائے۔ یقینا میں نے اس مقام پر کھڑے ہر چیز کو دیکھا ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا حتی کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ جنت کے انگوروں سے ایک خوشہ توڑنے کا ارادہ کر رہا ہوں، جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح میں نے جہنم کو بھی دیکھا کہ اس کے شعلے ایک دوسرے کو توڑ رہے ہیں، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا۔ میں نے جہنم میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1212]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز میں چلنا، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا جائز ہے۔
اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس سے بھی زیادہ صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران نماز میں آگے بڑھے اور پیچھے آئے، چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
میرے سامنے آگ کو لایا گیا تو میں پیچھے ہٹا مبادا اس کی تپش مجھے نقصان پہنچائے۔
پھر میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا جبکہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں۔
(صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2102(904)
علامہ کرمانی ؒ کو اس حدیث کی عنوان سے مطابقت قائم کرنے کے لیے بہت دور کی کوڑی لانا پڑی، فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مطلق طور پر جانوروں کو فضول چھوڑ دینے کی مذمت ہے، خواہ نماز میں ہو یا نماز سے باہر، اس طرح عنوان سے اس کی مطابقت ثابت ہوئی، حالانکہ یہ محض تکلف ہے۔
(فتح الباري: 109/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1212]