Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب إذا انفلتت الدابة فى الصلاة:
باب: اگر آدمی نماز میں ہو اور اس کا جانور بھاگ پڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1211
وَقَالَ قَتَادَةُ: إِنْ أُخِذَ ثَوْبُهُ يَتْبَعُ السَّارِقَ وَيَدَعُ الصَّلَاةَ.
اور قتادہ نے کہا کہ اگر کسی کا کپڑا چور لے بھاگے تو اس کے پیچھے دوڑے اور نماز چھوڑ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: Q1211]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا، قَالَ شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيَ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ، وَإِنِّي إِنْ كُنْتُ أَنْ أُرَاجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ارزق بن قیس نے بیان کیا، کہا کہ ہم اہواز میں (جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ صحابی رضی اللہ عنہ) آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کرنے لگے۔ شعبہ نے کہا یہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ! اس شیخ کا ناس کر۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانیوں کو دیکھا ہے۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥الأزرق بن قيس الحارثي
Newالأزرق بن قيس الحارثي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الأزرق بن قيس الحارثي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن
Newآدم بن أبي إياس ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1211 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1211
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ واقعہ 65 ہجری میں پیش آیا جبکہ خوارج نے نافع بن ازرق کی سرکردگی میں اہل بصرہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔
حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ دریائے دجیل کے کنارے نماز عصر پڑھ رہے تھے اور دوران نماز میں ان کی سواری بدکی اور قبلے کی جانب چلنے لگی۔
حضرت ابو برزہ بھی اس کے ساتھ ہو لیے۔
آخر کار اسے ساتھ لے کر الٹے پاؤں واپس آئے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی نماز جاری رکھی تھی وگرنہ وہ الٹے پاؤں واپس آنے کا تکلف نہ کرتے۔
اس واقعے سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو اس سلسلے میں سختی کرتے اور کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں جانور کو چھوڑ دینا چاہیے، لیکن اپنی نماز کو قطع نہ کیا جائے۔
اس سے فقہا نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ اگر کسی کو اپنے مال و اسباب کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز قطع کرنا جائز ہے۔
(فتح الباري: 106/3) (2)
ابن بطال نے کہا ہے کہ دوران نماز میں اگر کسی کی سواری دوڑ جائے تو وہ نماز توڑ کر اس کا پیچھا کر سکتا ہے۔
اسی طرح جس نے دوران نماز اپنے جانور کی ہلاکت کا خطرہ محسوس کیا یا کسی بچے کو دیکھا کہ وہ کنویں کے کنارے کھڑا ہے اور اس میں گرنے کے قریب ہے یا کسی اندھے کے گڑھے میں گرنے کا اندیشہ محسوس کیا اور وہ مذکورہ امور کی مدافعت پر قادر ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز توڑ کر ان کی حفاظت کرے۔
یہ ناممکن ہے کہ حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ ایسا کریں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی مشاہدہ نہ کیا ہو۔
ابن تین نے کہا ہے کہ اگر کوئی دوران نماز میں گراں قدر چیز کے ضائع ہونے کا خطرہ محسوس کرے تو اس کے لیے نماز توڑنا جائز ہے اور اگر معمولی چیز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز میں مصروف رہنا بہتر ہے۔
(عمدة القاري: 615/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1211]