صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما يجوز من العمل فى الصلاة:
باب: نماز میں کون کون سے کام درست ہیں؟
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةً , قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَذَعَتُّهُ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ , فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا"، ثُمَّ قَالَ: النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَيْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ: يَوْمَ يُدَعُّونَ سورة الطور آية 13 أَيْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ فَدَعَتُّهُ إِلَّا أَنَّهُ كَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّاءِ.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میرے سامنے ایک شیطان آ گیا اور کوشش کرنے لگا کہ میری نماز توڑ دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا میں نے اس کا گلا گھونٹا یا اس کو دھکیل دیا۔ آخر میں میرا ارادہ ہوا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں اور جب صبح ہو تو تم بھی دیکھو۔ لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی ”اے اللہ! مجھے ایسی سلطنت عطا کیجیو جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے“ (اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا) اور اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔ اس کے بعد نضر بن شمیل نے کہا کہ «ذعته» ”ذال“ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور «دعته» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے لیا گیا ہے۔ «يوم يدعون» جس کے معنی ہیں قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ درست پہلا ہی لفظ ہے۔ البتہ شعبہ نے اسی طرح ”عین“ اور ”تاء“ کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن زياد القرشي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو شبابة بن سوار الفزاري ← شعبة بن الحجاج العتكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← شبابة بن سوار الفزاري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
461
| عفريتا من الجن تفلت علي البارحة أو كلمة نحوها ليقطع علي الصلاة فأمكنني الله منه فأردت أن أربطه إلى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا إليه كلكم فذكرت قول أخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي قال روح فرده خاسئا |
صحيح البخاري |
4808
| عفريتا من الجن تفلت علي البارحة أو كلمة نحوها ليقطع علي الصلاة فأمكنني الله منه وأردت أن أربطه إلى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا إليه كلكم فذكرت قول أخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي |
صحيح البخاري |
3284
| الشيطان عرض لي فشد علي يقطع الصلاة علي فأمكنني الله منه فذكره |
صحيح البخاري |
3423
| عفريتا من الجن تفلت البارحة ليقطع علي صلاتي فأمكنني الله منه فأخذته فأردت أن أربطه على سارية من سواري المسجد حتى تنظروا إليه كلكم فذكرت دعوة أخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي فرددته خاسئا عفريت متمرد من إنس أو جان مثل زبنية جماعتها الزباني |
صحيح البخاري |
1210
| الشيطان عرض لي فشد علي ليقطع الصلاة علي فأمكنني الله منه فذعته ولقد هممت أن أوثقه إلى سارية حتى تصبحوا فتنظروا إليه فذكرت قول سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي فرده الله خاسيا |
صحيح مسلم |
1209
| عفريتا من الجن جعل يفتك علي البارحة ليقطع علي الصلاة وإن الله أمكنني منه فذعته فلقد هممت أن أربطه إلى جنب سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا تنظرون إليه أجمعون أو كلكم ثم ذكرت قول أخي سليمان رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي فرده الله خاسئا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1210 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1210
حدیث حاشیہ:
یہاں یہ اعتراض نہ ہوگا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھی بھاگتا ہے۔
جب حضرت عمر ؓ سے شیطان ڈرتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیونکر آیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحضرت عمر ؓ سے کہیں افضل ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چورڈاکو بدمعاش کوتوال سے زیادہ ڈرتے ہیں بادشاہ سے اتنا نہیں ڈرتے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آجائے گا۔
تو اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوتوال بادشاہ سے افضل ہے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ دشمن کو دھکیلنا یا اس کو دھکا دینا اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
امام ابن قیم ؒ نے کتاب الصلوة میں اہلحدیث کا مذہب قرار دیا کہ نماز میں کھنکارنا یا کوئی گھر میں نہ ہو تو دروازہ کھول دینا، سانپ بچھو نکلے تو اس کا مارنا، سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دینا، کسی ضرورت سے آگے پیچھے سرک جانا یہ سب کام درست ہیں۔
ان سے نمازفاسد نہیں ہوتی۔
(وحیدی)
بعض نسخوں میں ثم قال النضر بن شمیل والی عبارت نہیں ہے۔
یہاں یہ اعتراض نہ ہوگا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھی بھاگتا ہے۔
جب حضرت عمر ؓ سے شیطان ڈرتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیونکر آیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحضرت عمر ؓ سے کہیں افضل ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چورڈاکو بدمعاش کوتوال سے زیادہ ڈرتے ہیں بادشاہ سے اتنا نہیں ڈرتے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آجائے گا۔
تو اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوتوال بادشاہ سے افضل ہے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ دشمن کو دھکیلنا یا اس کو دھکا دینا اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
امام ابن قیم ؒ نے کتاب الصلوة میں اہلحدیث کا مذہب قرار دیا کہ نماز میں کھنکارنا یا کوئی گھر میں نہ ہو تو دروازہ کھول دینا، سانپ بچھو نکلے تو اس کا مارنا، سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دینا، کسی ضرورت سے آگے پیچھے سرک جانا یہ سب کام درست ہیں۔
ان سے نمازفاسد نہیں ہوتی۔
(وحیدی)
بعض نسخوں میں ثم قال النضر بن شمیل والی عبارت نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1210]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1210
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ شیطان حضرت عمرؓ کے سائے سے بھی دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
جب شیطان حضرت عمر سے ڈرتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور، ڈاکو اور بدمعاش پولیس سے زیادہ ڈرتے ہیں، لیکن حاکم وقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آ جائے گا۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پولیس، بادشاہ سے زیادہ مقام رکھتی ہے۔
2۔
امام بخاریؒ نے اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ دوران نماز میں دشمن کو دھکا دینا، اسے پکڑنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
اسی طرح دوران نماز میں جوتیاں اتارنا، جمائی روکنا، بچے کا کمر پر سوار ہونا، تھوک کو جوتے سے ملنا، سانپ اور بچھو کو مارنا، تھوکنا، بچہ اٹھا کر نماز پڑھ، بہت زیادہ رونا اور پھنکارنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ شیطان حضرت عمرؓ کے سائے سے بھی دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
جب شیطان حضرت عمر سے ڈرتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور، ڈاکو اور بدمعاش پولیس سے زیادہ ڈرتے ہیں، لیکن حاکم وقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آ جائے گا۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پولیس، بادشاہ سے زیادہ مقام رکھتی ہے۔
2۔
امام بخاریؒ نے اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ دوران نماز میں دشمن کو دھکا دینا، اسے پکڑنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
اسی طرح دوران نماز میں جوتیاں اتارنا، جمائی روکنا، بچے کا کمر پر سوار ہونا، تھوک کو جوتے سے ملنا، سانپ اور بچھو کو مارنا، تھوکنا، بچہ اٹھا کر نماز پڑھ، بہت زیادہ رونا اور پھنکارنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1210]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1209
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات ایک سرکش جن میری طرف بڑھا تاکہ میری نماز توڑ دے اور اللّٰہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں دے دیا تو میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور میں نے یہ ارادہ بھی کر لیا تھا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب صبح اس کو دیکھ سکو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آ گیا ”اور میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1209]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران سرکش جن کا گلا گھونٹ دیا اور اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کے اندر ضرورت کے تحت کچھ عمل و حرکت جائز ہے نیز نماز کے دوران ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دھیان حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی طرف چلا گیا اس سے معلوم ہوا اگر نماز میں دھیان کسی چیز کی طرف اچانک چلا جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی۔
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران سرکش جن کا گلا گھونٹ دیا اور اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کے اندر ضرورت کے تحت کچھ عمل و حرکت جائز ہے نیز نماز کے دوران ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دھیان حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی طرف چلا گیا اس سے معلوم ہوا اگر نماز میں دھیان کسی چیز کی طرف اچانک چلا جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1209]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3423
3423. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”آج رات ایک سرکش جن پر مجھ پر حملہ آور ہوا تاکہ میری نماز قطع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی تو میں نےاسے پکڑ لیا۔ میں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دینے کا ارادہ کیا تاکہ تم سب کے سب اسے دیکھ لو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی: ”اے میرے رب! مجھے ایسی حکومت عطا فر جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ "تو میں نے اسے ذلیل وخوار کرکے چھوڑ دیا۔“ عِفْرِيتٌ کے معنی شرکش ہیں، خواہ وہ انسان ہو یا جن۔ یہ زبنية کی طرح ہے جس کی جمع زبانية ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3423]
حدیث حاشیہ:
روایت میں حضرت سلیمان کا ذکر ہے، باب سےیہی مناسبت ہے۔
حضرت سلیمان کی دعا آیت ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ (ص: 35)
میں مذکورہے۔
روایت میں حضرت سلیمان کا ذکر ہے، باب سےیہی مناسبت ہے۔
حضرت سلیمان کی دعا آیت ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ (ص: 35)
میں مذکورہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3423]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:461
461. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”گزشتہ رات اچانک ایک سرکش جن مجھ سے ٹکرا گیا، یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا، تاکہ میری نماز میں خلل انداز ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔ میں نے چاہا کہ اسے مسجد میں کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب بھی اسے دیکھ سکو، پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان ؑ کی وہ دعا یاد آ گئی جس میں انھوں نے عرض کیا تھا:”اے میرے رب! مجھے معاف کر اور مجھے ایسی سلطنت عطا فر جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو۔“ (راوی حدیث) روح کہتے ہیں: پھر (یہ دعا یاد آنے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جن کو رسوا کر کے واپس کر دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:461]
حدیث حاشیہ:
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ سرکش جن میرے سامنے آیا اور مجھ پر حملہ آور ہوا۔
(صحیح البخاري، العمل في الصلاة، حدیث: 1210)
صحیح مسلم میں ہے کہ اس نے آگ کا شعلہ میرے چہرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 211 (542)
مسند احمد میں ہے کہ میں نے سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا اور اتنی زور سے اس کا گلادبایا کہ اس کا لعاب دہن میرے ہاتھوں پر گرا جس کی تراوٹ مجھے محسوس ہوئی۔
(مسند أحمد: 413/1)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہےکہ کسی مقروض کو عبرت کے لیے یا کسی کافر کومصلحت کے سبب مسجد کے ستون سے باندھنا جائز ہے اور اس سے مسجد کے تقدس کی پامالی نہیں ہوتی، کیونکہ عہد رسالت میں اس طرح کے سب کام مسجد نبوی ہی میں انجام پاتے تھے۔
مقروض کومسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ مسلمان نماز کے اوقات میں جب اسے دیکھیں گے تو ممکن ہے کہ کسی کو اس پر رحم آجائے اور قرض کی ادائیگی میں اس کا ہاتھ بٹائے اور وہ خود بھی اس ندامت کے پیش نظر اپنی خفت مٹانے کے لیے جلد از جلد قرض اداکرنے کی کوشش کرے گا۔
اسی طرح کافر کو مسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کو بچشم خود دیکھے گا۔
ان کی عبادت اور دیگر خوبیوں سے واقف ہوگا، اسی طرح اسے اسلام کی صداقت قبول کرنے اور ایمان لانے میں مدد ملے گی۔
مختصر یہ ہے کہ امام بخاری ؒ نے ثابت کیاہے کہ اگرشرعی مصلحت کاتقاضا ہوتومسجد میں مقروض اور غیرمسلم کو قید کیا جاسکتا ہے۔
لیکن روایت میں اسیر کو مسجد میں قید کرنے کے جواز پر تو استدلال ہوسکتا ہے۔
البتہ مقروض کا اس میں ذکر نہیں ہے۔
اس کے متعلق علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں کہ مقروض کو اسیر پر قیاس کیاجاسکتا ہے، کیونکہ مقروض بھی قرض خواہ کے حق میں اسیر ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی روایت سے ثابت سمجھناچاہیے۔
(عمدۃالقاري: 510/3)
نوٹ:
اس حدیث سے متعلقہ دیگر مباحث ہم کتاب بدء الخلق (حدیث: 3284)
کتاب أحادیث الأنبیاء (حدیث: 3423)
اور کتاب التفسیر(حدیث: 4808)
میں بیان کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ سرکش جن میرے سامنے آیا اور مجھ پر حملہ آور ہوا۔
(صحیح البخاري، العمل في الصلاة، حدیث: 1210)
صحیح مسلم میں ہے کہ اس نے آگ کا شعلہ میرے چہرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 211 (542)
مسند احمد میں ہے کہ میں نے سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا اور اتنی زور سے اس کا گلادبایا کہ اس کا لعاب دہن میرے ہاتھوں پر گرا جس کی تراوٹ مجھے محسوس ہوئی۔
(مسند أحمد: 413/1)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہےکہ کسی مقروض کو عبرت کے لیے یا کسی کافر کومصلحت کے سبب مسجد کے ستون سے باندھنا جائز ہے اور اس سے مسجد کے تقدس کی پامالی نہیں ہوتی، کیونکہ عہد رسالت میں اس طرح کے سب کام مسجد نبوی ہی میں انجام پاتے تھے۔
مقروض کومسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ مسلمان نماز کے اوقات میں جب اسے دیکھیں گے تو ممکن ہے کہ کسی کو اس پر رحم آجائے اور قرض کی ادائیگی میں اس کا ہاتھ بٹائے اور وہ خود بھی اس ندامت کے پیش نظر اپنی خفت مٹانے کے لیے جلد از جلد قرض اداکرنے کی کوشش کرے گا۔
اسی طرح کافر کو مسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کو بچشم خود دیکھے گا۔
ان کی عبادت اور دیگر خوبیوں سے واقف ہوگا، اسی طرح اسے اسلام کی صداقت قبول کرنے اور ایمان لانے میں مدد ملے گی۔
مختصر یہ ہے کہ امام بخاری ؒ نے ثابت کیاہے کہ اگرشرعی مصلحت کاتقاضا ہوتومسجد میں مقروض اور غیرمسلم کو قید کیا جاسکتا ہے۔
لیکن روایت میں اسیر کو مسجد میں قید کرنے کے جواز پر تو استدلال ہوسکتا ہے۔
البتہ مقروض کا اس میں ذکر نہیں ہے۔
اس کے متعلق علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں کہ مقروض کو اسیر پر قیاس کیاجاسکتا ہے، کیونکہ مقروض بھی قرض خواہ کے حق میں اسیر ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی روایت سے ثابت سمجھناچاہیے۔
(عمدۃالقاري: 510/3)
نوٹ:
اس حدیث سے متعلقہ دیگر مباحث ہم کتاب بدء الخلق (حدیث: 3284)
کتاب أحادیث الأنبیاء (حدیث: 3423)
اور کتاب التفسیر(حدیث: 4808)
میں بیان کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 461]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3284
3284. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے نماز پڑھی تو فرمایا: ”شیطان میرے سامنے آیا اورمجھ پر اس نے پورا زور لگایا کہ میری نماز قطع کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھ اس پر قدرت عطا فرمائی۔“ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3284]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے سرکش قسم کے شیطان نے حملہ کیاتھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےپکڑ کر اس کاگلا دبایا، پھر آپ نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ فرمایا تاکہ صحابہ کرام ؓ اس منحوس کو دیکھیں لیکن آپ کو حضرت سلیمان ؑ کی دعا یاد آگئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی:
﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ”اے اللہ!مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
“ (ص 35: 38)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرمسار کرکے چھوڑدیا۔
اس طرح وہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 461)
2۔
مقصد یہ ہے کہ لعین شیطان ایسی گندی فطرت کا حامل ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے سرکش قسم کے شیطان نے حملہ کیاتھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےپکڑ کر اس کاگلا دبایا، پھر آپ نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ فرمایا تاکہ صحابہ کرام ؓ اس منحوس کو دیکھیں لیکن آپ کو حضرت سلیمان ؑ کی دعا یاد آگئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی:
﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ”اے اللہ!مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
“ (ص 35: 38)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرمسار کرکے چھوڑدیا۔
اس طرح وہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 461)
2۔
مقصد یہ ہے کہ لعین شیطان ایسی گندی فطرت کا حامل ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3284]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3423
3423. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”آج رات ایک سرکش جن پر مجھ پر حملہ آور ہوا تاکہ میری نماز قطع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی تو میں نےاسے پکڑ لیا۔ میں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دینے کا ارادہ کیا تاکہ تم سب کے سب اسے دیکھ لو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی: ”اے میرے رب! مجھے ایسی حکومت عطا فر جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ "تو میں نے اسے ذلیل وخوار کرکے چھوڑ دیا۔“ عِفْرِيتٌ کے معنی شرکش ہیں، خواہ وہ انسان ہو یا جن۔ یہ زبنية کی طرح ہے جس کی جمع زبانية ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3423]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں حضرت سلیمان ؑ کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کردیا ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کی دعادرج ذیل آیت میں ہے:
”میرے رب! مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
“ (ص: 35)
2۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان ؑ کی رعایت کرتے ہوئے اس سرکش جن کو چھوڑدیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جنات کو کام میں لانا حضرت سلیمان ؑ کی خصوصیت ہو۔
قرآن کریم کی صراحت ہے کہ ہم جنوں کو نہیں دیکھ سکتے وہ ہمیں دیکھتے ہیں۔
(الأعراف: 27)
واقعی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کے لیے تمام جنوں کو تابع کردیا تھا، وہ ان سے مختلف کام لیتے تھے۔
1۔
اس حدیث میں حضرت سلیمان ؑ کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کردیا ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کی دعادرج ذیل آیت میں ہے:
”میرے رب! مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
“ (ص: 35)
2۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان ؑ کی رعایت کرتے ہوئے اس سرکش جن کو چھوڑدیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جنات کو کام میں لانا حضرت سلیمان ؑ کی خصوصیت ہو۔
قرآن کریم کی صراحت ہے کہ ہم جنوں کو نہیں دیکھ سکتے وہ ہمیں دیکھتے ہیں۔
(الأعراف: 27)
واقعی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کے لیے تمام جنوں کو تابع کردیا تھا، وہ ان سے مختلف کام لیتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3423]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4808
4808. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”گزشتہ رات ایک دیوہیکل جن مجھ سے بھڑ پڑا۔“ یا اس طرح کا کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا، تا کہ میری نماز خراب کرے، لیکن اللہ تعالٰی نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ میں نے چاہا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب اسے دیکھ سکو لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان ؑ کی دعا یاد آ گئی کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جن کو ذلیل و رسوا کر کے بھگا دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4808]
حدیث حاشیہ:
1۔
چونک عہد نبوی میں باضابطہ کوئی جیل خانہ نہیں تھا، اس لیے ملزم، مجرم یا قیدی کو مسجد ہی میں بٹھا دیا جاتا تھا اور وہاں سے کہیں جانے نہیں دیتے تھے۔
سب سے پہلا جیل خانہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ مکرمہ میں مکان خرید کر بنایا تھا۔
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن ہو یا شیطان، یہ انسان کی طرح خاکی مخلوق تو نہیں کہ اسے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ جن یا شیطان جب کسی انسان یا حیوان کی شکل میں آتا ہے تو اس مخلوق کے لوازمات اس میں آجاتے ہیں جس کا اس نے روپ دھارا ہو۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عفریت بلی کی شکل میں آیا تھا، لہذا اسے باندھنے میں کوئی اشکال نہیں۔
2۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ ایک فضیلت تھی جو آپ کے بعد نہ کسی نبی کو حاصل ہوئی اور نہ کوئی بادشاہ ہی اس طرح کا ہوا ہے لیکن ان کی یہ عظیم سلطنت عبادت گزاری میں آڑے نہ آسکی۔
شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی اللہ والوں کا کام ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے انھیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔
1۔
چونک عہد نبوی میں باضابطہ کوئی جیل خانہ نہیں تھا، اس لیے ملزم، مجرم یا قیدی کو مسجد ہی میں بٹھا دیا جاتا تھا اور وہاں سے کہیں جانے نہیں دیتے تھے۔
سب سے پہلا جیل خانہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ مکرمہ میں مکان خرید کر بنایا تھا۔
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن ہو یا شیطان، یہ انسان کی طرح خاکی مخلوق تو نہیں کہ اسے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ جن یا شیطان جب کسی انسان یا حیوان کی شکل میں آتا ہے تو اس مخلوق کے لوازمات اس میں آجاتے ہیں جس کا اس نے روپ دھارا ہو۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عفریت بلی کی شکل میں آیا تھا، لہذا اسے باندھنے میں کوئی اشکال نہیں۔
2۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ ایک فضیلت تھی جو آپ کے بعد نہ کسی نبی کو حاصل ہوئی اور نہ کوئی بادشاہ ہی اس طرح کا ہوا ہے لیکن ان کی یہ عظیم سلطنت عبادت گزاری میں آڑے نہ آسکی۔
شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی اللہ والوں کا کام ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے انھیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4808]
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي