صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب التعوذ من عذاب القبر:
باب: قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا مُعَلًّى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ،" أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی (ام خالد) نے بیان کیا ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1376]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أمة بنت خالد القرشية، أم خالد | صحابي | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← أمة بنت خالد القرشية | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر وهيب بن خالد الباهلي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم المعلى بن أسد العمي ← وهيب بن خالد الباهلي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6364
| يتعوذ من عذاب القبر |
صحيح البخاري |
1376
| يتعوذ من عذاب القبر |
مسندالحميدي |
338
| سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من عذاب القبر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1376 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1376
حدیث حاشیہ:
(1)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
“ (فتح الباري: 307/3)
اس روایت سے پہلی روایت کی تفسیر بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عذاب کی آواز سنے بغیر عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے تو آواز سننے پر بالاولیٰ پناہ طلب کرنا ثابت ہوتا ہے۔
(2)
مصنف نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں بھی بیان کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کو ام خالد ؓ کے علاوہ اور کسی صحابی نے بیان نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6364)
(1)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
“ (فتح الباري: 307/3)
اس روایت سے پہلی روایت کی تفسیر بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عذاب کی آواز سنے بغیر عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے تو آواز سننے پر بالاولیٰ پناہ طلب کرنا ثابت ہوتا ہے۔
(2)
مصنف نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں بھی بیان کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کو ام خالد ؓ کے علاوہ اور کسی صحابی نے بیان نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6364)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1376]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:338
338- سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نامی راوی کہتے ہیں: میں اور کسی کی زبانی یہ بات نہیں سنی کہ سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:338]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عذاب قبر حق ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ عذاب قبر کے اثبات میں بے شمار احادیث ہیں، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نعم، عذاب القبر حق» (ہاں، عذاب قبر حق ہے) (متفق علیہ)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: (قبر میں) کافر سے کہا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: مجھے معلوم نہیں ہے، تو وہ اس وقت گونگا، بہرا اور اندھا ہو جائے گا تو اس کو ایک ایسے ہتھوڑے سے مارا جائے گا کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے، انسانوں اور جنوں کے علاوہ ہر کوئی اس کی چیخ کو سنتا ہے۔ (سنن ابی داود: 4750، سنن ترمذی: 3120، قال الألباني: صحیح)
یاد رہے کہ محض عقل فاسد کی بنا پر قرآن و حدیث سے ثابت شدہ مسئلے کا انکار کرنا یا تاویل کرنا بہت بڑی گمراہی ہے، اور اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ عذاب قبر عقیدے کا مسئلہ ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ عذاب قبرحق ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عذاب قبر حق ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ عذاب قبر کے اثبات میں بے شمار احادیث ہیں، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نعم، عذاب القبر حق» (ہاں، عذاب قبر حق ہے) (متفق علیہ)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: (قبر میں) کافر سے کہا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: مجھے معلوم نہیں ہے، تو وہ اس وقت گونگا، بہرا اور اندھا ہو جائے گا تو اس کو ایک ایسے ہتھوڑے سے مارا جائے گا کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے، انسانوں اور جنوں کے علاوہ ہر کوئی اس کی چیخ کو سنتا ہے۔ (سنن ابی داود: 4750، سنن ترمذی: 3120، قال الألباني: صحیح)
یاد رہے کہ محض عقل فاسد کی بنا پر قرآن و حدیث سے ثابت شدہ مسئلے کا انکار کرنا یا تاویل کرنا بہت بڑی گمراہی ہے، اور اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ عذاب قبر عقیدے کا مسئلہ ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ عذاب قبرحق ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 338]
موسى بن عقبة القرشي ← أمة بنت خالد القرشية