🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب إذا تصدق على غني وهو لا يعلم:
باب: اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا (تو اس کو ثواب مل جائے گا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1421-2
وَقَوْلِهِ: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة البقرة آية 274.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا «الذين ينفقون أموالهم بالليل والنهار سرا وعلانية‏» جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور ظاہر ‘ ان سب کا ان کے رب کے پاس ثواب ملے گا ‘ انہیں کوئی ڈر نہیں ہو گا اور نہ انہیں کسی قسم کا غم ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: Q1421-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1421
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ وَقَوْلِهِ: إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 271.
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ایک شخص نے صدقہ کیا اور اسے اس طرح چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم صدقہ کو ظاہر کر دو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر پوشیدہ طور پر دو اور دو فقراء کو تو یہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح خبردار ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: Q1421]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے (بنی اسرائیل میں سے) کہا کہ مجھے ضرور صدقہ (آج رات) دینا ہے۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (ناواقفی سے) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ (آج رات) میں پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا۔ اس شخص نے کہا اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے ‘ میں زانیہ کو اپنا صدقہ دے آیا۔ اچھا آج رات پھر ضرور صدقہ نکالوں گا۔ چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں کی زبان پر ذکر تھا کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے۔ میں اپنا صدقہ (لاعلمی سے) چور ‘ فاحشہ اور مالدار کو دے آیا۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کا سوال ہے۔ تو اس میں اس کا امکان ہے کہ وہ چوری سے رک جائے۔ اسی طرح فاحشہ کو صدقہ کا مال مل جانے پر اس کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے اور مالدار کے ہاتھ میں پڑ جانے کا یہ فائدہ ہے کہ اسے عبرت ہو اور پھر جو اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے ‘ وہ خرچ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1421 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1421
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں بنی اسرائیل کے ایک سخی کا ذکر ہے جو صدقہ خیرات تقسیم کرنے کی نیت سے رات کو نکلا مگر اس نے لاعلمی میں پہلی رات میں اپنا صدقہ ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا اور دوسری رات میں ایک فاحشہ عورت کو دے دیا اور تیسری شب میں ایک مالدار کو دیدیا‘ جو مستحق نہ تھا۔
یہ سب کچھ لاعلمی میں ہوا۔
بعد میں جب یہ واقعات اس کو معلوم ہوئے تو اس نے اپنی لا علمی کا اقرار کرتے ہوئے اللہ کی حمد بیان کی گویا یہ کہا:
اللهم لك الحمد أي لا لي أن صدقتي وقعت بید من لا یستحقها فلك الحمد حیث کان ذلك بإرادتك أي لا بإرادتي فإن إرادة اللہ کلها جمیلة۔
یعنی یا اللہ! حمد تیرے لیے ہی ہے نہ کہ میرے لیے۔
میرا صدقہ غیر مستحق کے ہاتھ میں پہنچ گیا پس حمد تیرے ہی لیے ہے۔
اس لیے کہ یہ تیرے ہی ارادے سے ہوا نہ کہ میرے ارادے سے اور اللہ پاک جو بھی چاہے اور وہ جو ارادہ کرے وہ سب بہتر ہی ہے۔
امام بخاری کا مقصد باب یہ ہے کہ ان حالات میں اگرچہ وہ صدقہ غیر مستحق کو مل گیا مگر عنداللہ وہ قبول ہوگیا۔
حدیث سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ ناواقفی سے اگر غیر مستحق کو صدقہ دے دیا جائے تو اسے اللہ بھی قبول کرلیتا ہے اور دینے والے کو ثواب مل جاتا ہے۔
لفظ صدقہ میں نفلی صدقہ اور فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ہر دو داخل ہیں۔
اسرائیلی سخی کو خواب میں بتلایا گیا یا ہاتف غیب نے خبردی یا اس زمانہ کے پیغمبر نے اس سے کہا کہ جن غیر مستحقین کو تونے غلطی سے صدقہ دے دیا‘ شاید وہ اس صدقہ سے عبرت حاصل کرکے اپنی غلطیوں سے باز آجائیں۔
چور چوری سے اور زانیہ زنا سے رک جائے اور مالدار کو خود اسی طرح خرچ کرنے کی رغبت ہو۔
ان صورتوں میں تیرا صدقہ تیرے لیے بہت کچھ موجب اجر وثواب ہوسکتا ہے۔
ھذا ھو المراد۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1421]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1421
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدقہ اہل خیر میں سے محتاج لوگوں کے لیے مختص تھا، اسی لیے تو لوگوں نے تعجب کیا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر صدقہ کرنے والا مخلص ہو اور اس کی نیت بھی اچھی تھی تو اس کا صدقہ اللہ کے ہاں قبول ہے اگرچہ وہ اپنے محل میں نہ پہنچ سکے۔
حدیث میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ وہ صدقہ فرض تھا یا نفل، وہ کافی ہو گا یا نہیں۔
غالبا امام بخاری ؒ نے بھی عنوان میں اسی وجہ سے فیصلہ کن انداز اختیار نہیں کیا بلکہ استفہام کے طور پر اسے بیان کیا ہے۔
ہمارے نزدیک حدیث میں لفظ صدقہ فرض اور نفل دونوں کو شامل ہے۔
ایسے حالات میں اگرچہ وہ صدقہ غیر مستحق کو ملا ہے، تاہم عنداللہ وہ قبول ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ناواقفی میں کسی غیر مستحق کو صدقہ دے دیا جائے تو اسے اللہ قبول کر لیتا ہے اور دینے والے کو اس سے ثواب ملتا ہے بلکہ ایسے حالات میں کچھ زیادہ ہی اجروثواب کا باعث ہے۔
صدقہ کرنے والے کو دوبارہ صدقہ دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔
(2)
اس حدیث سے اخلاص اور پوشیدہ طور پر صدقہ دینے کی اہمیت و فضیلت واضح ہوتی ہے۔
صدقہ دینے والے نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی، یعنی زانیہ اور چور پر صدقہ کرنے میں میری کوئی تعریف نہیں، کیونکہ ان پر صدقہ کرنا تیری ہی مشیت اور ارادے سے تھا، اگرچہ میرا ارادہ نہ تھا، تاہم جو کچھ ہوا تیری مشیت سے ہوا اور تیرا ہر ارادہ اچھا ہوتا ہے، اس لیے تعریف کا سزاوار بھی تو ہی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1421]

Sahih Bukhari Hadith 1421 in Urdu