صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب قول الله تعالى: {يأتوك رجالا وعلى كل ضامر يأتين من كل فج عميق ليشهدوا منافع لهم} :
باب: اللہ پاک کا سورۃ الحج میں یہ ارشاد کہ لوگ پیدل چل کر تیرے پاس آئیں اور دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے اس لیے کہ دین اور دنیا کے فائدے حاصل کریں۔
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، سَمِعَ عَطَاءً يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ إِهْلَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ" , رَوَاهُ أَنَسٌ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا جب سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ابراہیم بن موسیٰ کی یہ حدیث ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1515]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوالحلیفہ سے تلبیہ کہنا اس وقت ہوتا جب آپ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1515 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1515
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کی غرض ان حدیثوں کے لانے سے یہ ہے کہ حج پاپیادہ اور سوار ہوکر دونوں طرح درست ہے۔
بعضوں نے کہا ان لوگوں پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ حج پاپیادہ افضل ہے، اگر ایسا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پاپیادہ حج کرتے مگر آپ نے اونٹنی پر سوار ہوکر حج کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سب سے افضل ہے۔
(وحیدی)
اونٹ کی جگہ آج کل موٹرکاروں نے لے لی ہے اور اب حج بے حد آرام دہ ہوگیا ہے۔
امام بخاری ؒ کی غرض ان حدیثوں کے لانے سے یہ ہے کہ حج پاپیادہ اور سوار ہوکر دونوں طرح درست ہے۔
بعضوں نے کہا ان لوگوں پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ حج پاپیادہ افضل ہے، اگر ایسا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پاپیادہ حج کرتے مگر آپ نے اونٹنی پر سوار ہوکر حج کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سب سے افضل ہے۔
(وحیدی)
اونٹ کی جگہ آج کل موٹرکاروں نے لے لی ہے اور اب حج بے حد آرام دہ ہوگیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1515]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1515
حدیث حاشیہ:
(1)
سفر حج میں سوار ہونا اور پیدل چلنا دونوں مباح ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پیدل حج کرنا افضل ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر حج کیا ہے اور اپ کی پیروی سب سے افضل ہے۔
اس میں خرچ کرنے کی فضیلت بھی ہے کیونکہ سفر حج میں خرچ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے مترادف ہے۔
اونٹوں پر سفر کرنا تو آج کل خواب وخیال بن چکا ہے، ان کی جگہ بہترین اور آرام دہ گاڑیاں اور ہوائی جہاز آچکے ہیں، پھر دوران حج میں بھی قدم قدم پر آرام میسر ہے۔
سعودی حکومت نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔
وہ حجاج کرام کو سہولت پہنچانے کے لیے کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتی۔
جزاهم الله جميعا خير الجزاء لیکن اس کے باوجود بھی سفر حج جہاد سے کم نہیں ہے، بشرطیکہ اسے تفریح اور سیرو سیاحت کا زریعہ نہ بنایا جائے۔
(2)
حضرت انس ؓ کی حدیث خود ہی امام بخاری ؒ نے اپنی متصل سند سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1546)
اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث بھی حضرت انس ؓ کی روایت سے پہلے متصل سند سے بیان کی ہے جو ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1545)
(1)
سفر حج میں سوار ہونا اور پیدل چلنا دونوں مباح ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پیدل حج کرنا افضل ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر حج کیا ہے اور اپ کی پیروی سب سے افضل ہے۔
اس میں خرچ کرنے کی فضیلت بھی ہے کیونکہ سفر حج میں خرچ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے مترادف ہے۔
اونٹوں پر سفر کرنا تو آج کل خواب وخیال بن چکا ہے، ان کی جگہ بہترین اور آرام دہ گاڑیاں اور ہوائی جہاز آچکے ہیں، پھر دوران حج میں بھی قدم قدم پر آرام میسر ہے۔
سعودی حکومت نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔
وہ حجاج کرام کو سہولت پہنچانے کے لیے کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتی۔
جزاهم الله جميعا خير الجزاء لیکن اس کے باوجود بھی سفر حج جہاد سے کم نہیں ہے، بشرطیکہ اسے تفریح اور سیرو سیاحت کا زریعہ نہ بنایا جائے۔
(2)
حضرت انس ؓ کی حدیث خود ہی امام بخاری ؒ نے اپنی متصل سند سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1546)
اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث بھی حضرت انس ؓ کی روایت سے پہلے متصل سند سے بیان کی ہے جو ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1545)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1515]
Sahih Bukhari Hadith 1515 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي