🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب الصلاة فى الكعبة:
باب: کعبہ کے اندر نماز پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ الْوَجْهِ حِينَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ الظَّهْرِ يَمْشِي، حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِ أَذْرُعٍ فَيُصَلِّي يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ، وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے اور دروازہ پیٹھ کی طرف چھوڑ دیتے۔ آپ اسی طرح چلتے رہتے اور جب سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز پڑھی تھی۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کعبہ میں جس جگہ بھی کوئی چاہے نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس
Newأحمد بن محمد المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1599 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1599
حدیث حاشیہ:
(1)
بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کے لیے اس کی تمام جوانب برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نشاندہی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن یمانی کی جانب دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی، تاہم یہ تعیین قصدا نہیں بلکہ اتفاقا تھی، ایسا کرنا تخییر کے منافی نہیں۔
اگر آپ نے قصدا بھی ایسا کیا ہو تو بھی لزوم کے درجے میں نہیں تھا۔
(2)
یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
(باب الصلاة بين السواري في غير جماعة)
\"ستونوں کے درمیان جماعت کے بغیر انفرادی نماز پڑھنا مشروع ہے۔
\" (صحیح البخاری،الصلاۃ،باب: 96)
حدیث کے آخر میں وضاحتی بیان کے متعلق احتمال ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ہو یا کسی اور راوی نے یہ وضاحت کرنا ضروری خیال کیا ہو۔
(فتح الباری: 3/589) w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1599]