صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. باب من أشعر وقلد بذي الحليفة ثم أحرم:
باب: جس نے ذو الحلیفہ میں اشعار کیا اور قلادہ پہنایا پھر احرام باندھا!۔
حدیث نمبر: Q1694
وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا أَهْدَى مِنْ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يَطْعُنُ فِي شِقِّ سَنَامِهِ الْأَيْمَنِ بِالشَّفْرَةِ وَوَجْهُهَا قِبَلَ الْقِبْلَةِ بَارِكَةً.
اور نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر جاتے تو ذو الحلیفہ سے اسے ہار پہنا دیتے اور اشعار کر دیتے اس طرح کہ جب اونٹ اپنا منہ قبلہ کی طرف کئے بیٹھا ہوتا تو اس کے داہنے کوہان میں نیزے سے زخم لگا دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1694]
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن المسور بن مخرمة القرشي ← مروان بن الحكم القرشي | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس أحمد بن محمد المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1694 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1694
حدیث حاشیہ:
اشعار کے معنی قربانی کے اونٹ کے دائیں کوہان میں نیزے سے ایک زخم کردینا، اب یہ جانور بیت اللہ میں قربانی کے لیے نشان زدہ ہوجاتا تھا اور کوئی بھی ڈاکو چور اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔
اب بھی یہ اشعار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
بعض لوگوں نے اسے مکروہ قرار دیا ہے جو سخت غلطی اور سنت نبوی کى بے ادبی ہے۔
امام ابن حزم نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے سوا اور کسی سے اس کی کراہیت منقول نہیں، طحاوی نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے اصل اشعار کو مکروہ نہیں کہا بلکہ اس میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے جس سے اونٹ کی ہلاکت کا ڈر ہو، اورحضرت امام ابوحنیفہ سے جو مسلمانوں کے پیشوا ہیں، ہمارا یہی گمان ہے۔
اصل اشعار کو وہ کیسے مکروہ کہہ سکتے ہیں اس کا سنت ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
(وحیدی)
قلادہ جوتیوں کا ہار جو قربانی کے جانوروں کے گلے میں ڈال کر گویا اسے بیت اللہ میں قربانی کے لیے نشان لگا دیا جاتا تھا، قلادہ اونٹ بکری گائے سب کے لیے ہے اور اشعار کے بارے میں حضرت علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
وفيه مشروعية الإشعار وهو أن يكشط جلد البدنة حتى يسيل دم ثم يسلته فيكون ذلك علامة على كونها هديا وبذلك قال الجمهور من السلف والخلف وذكر الطحاوي في اختلاف العلماء كراهته عن أبي حنيفة وذهب غيره إلى استحبابه للاتباع حتى صاحباه أبو يوسف ومحمد فقالا هو حسن قال وقال مالك يختص الإشعار بمن لها سنام قال الطحاوي ثبت عن عائشة وبن عباس التخيير في الإشعار وتركه فدل على أنه ليس بنسك لكنه غير مكروه لثبوت فعله عن النبي صلى الله عليه وسلم إلی آخرہ۔
(فتح الباري)
یعنی اس حدیث سے اشعار کی مشروعیت ثابت ہے وہ یہ کہ ہدی کے چمڑے کو ذرا سا زخمی کرکے اس سے خون بہاد دیا جائے بس وہ اس کے ہدی ہونے کی علامت ہے اور سلف اور خلف سے تمام جمہور نے اس کی مشروعیت کا اقرار کیا ہے اور امام طحاوی نے اس بارے میں علماء کا اختلاف ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام ابوحنیفہ ؒ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگ اس کے مستحب ہونے کے قائل ہیں حتی کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے ہر دو شاگردان رشید حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد ؒ بھی اس کے بہتر ہونے کے قائل ہیں۔
حضرت امام مالک ؒ کا قول ہے کہ اشعار ان جانوروں کے ساتھ خاص ہے جن کے کوہان ہیں۔
طحاوی نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ثابت ہے کہ اس کے یے اختیار ہے کہ یا تو اشعار کرے یا نہ کرے، یہ اسی امر کی دلیل ہے کہ اشعار کوئی حج کے مناسک سے نہیں ہے لیکن وہ غیر مکروہ ہے اس لیے کہ اس کا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
مطلقاً اشعار کو مکروہ کہنے پر بہت سے متقدمین نے حضرت ابوحنیفہ پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کے جوابات امام طحاوی نے دیئے ہیں، ان میں سے یہ بھی کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے مطلق اشعار کا انکار نہیں کیا بلکہ ایسے مبالغہ کے ساتھ اشعار کرنے کو مکروہ بتلایا ہے جس سے جانور ضعیف ہو کر ہلاکت کے قریب ہو جائے۔
جن لوگوں نے اشعار کو مثلہ سے تشبیہ دی ہے ان کا قول بھی غلط ہے۔
اشعار صرف ایسا ہی ہے جیسے کہ ختنہ اور حجامت اور نشانی کے لیے بعض جانوروں کے کان چیر دینا ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب مثلہ کے ذیل میں نہیں آسکتے، پھر اشعار کیوں کر آسکتا ہے۔
اسی لیے ابوصائب کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں امام وکیع کے پاس تھے۔
ایک شخص نے کہا کہ امام نخعی سے اشعار کا مثلہ ہونا منقول ہے۔
امام وکیع نے خفگی کے لہجہ میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا اور تو کہتا ہے کہ ابراہیم نخعی نے ایسا کہا، حق تو یہ ہے کہ تجھ کو قید کر دیا جائے۔
(فتح)
قرآن مجید کی آیت شریفہ:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ....﴾ (الحجرات: 1)
کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول سے کوئی امر صحیح طور پر ثابت ہو وہاں ہرگرز قیل و قال و أقوال و آراء کو داخل نہ کیا جائے کہ یہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبی ہے۔
مگر صد افسوس ہے کہ امت کا جم غفیر اسی بیماری میں مبتلا ہے، اللہ پاک سب کو تقلید جامد سے شفائے کامل عطا فرمائے آمین۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جب کسی ہدی کا اشعار کرتے تو اسے قبلہ رخ کر لیتے اور بسم اللہ و اللہ أکبر کہہ کر اس کے کوہان کو زخمی کیا کرتے تھے۔
اشعار کے معنی قربانی کے اونٹ کے دائیں کوہان میں نیزے سے ایک زخم کردینا، اب یہ جانور بیت اللہ میں قربانی کے لیے نشان زدہ ہوجاتا تھا اور کوئی بھی ڈاکو چور اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔
اب بھی یہ اشعار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
بعض لوگوں نے اسے مکروہ قرار دیا ہے جو سخت غلطی اور سنت نبوی کى بے ادبی ہے۔
امام ابن حزم نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے سوا اور کسی سے اس کی کراہیت منقول نہیں، طحاوی نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے اصل اشعار کو مکروہ نہیں کہا بلکہ اس میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے جس سے اونٹ کی ہلاکت کا ڈر ہو، اورحضرت امام ابوحنیفہ سے جو مسلمانوں کے پیشوا ہیں، ہمارا یہی گمان ہے۔
اصل اشعار کو وہ کیسے مکروہ کہہ سکتے ہیں اس کا سنت ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
(وحیدی)
قلادہ جوتیوں کا ہار جو قربانی کے جانوروں کے گلے میں ڈال کر گویا اسے بیت اللہ میں قربانی کے لیے نشان لگا دیا جاتا تھا، قلادہ اونٹ بکری گائے سب کے لیے ہے اور اشعار کے بارے میں حضرت علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
وفيه مشروعية الإشعار وهو أن يكشط جلد البدنة حتى يسيل دم ثم يسلته فيكون ذلك علامة على كونها هديا وبذلك قال الجمهور من السلف والخلف وذكر الطحاوي في اختلاف العلماء كراهته عن أبي حنيفة وذهب غيره إلى استحبابه للاتباع حتى صاحباه أبو يوسف ومحمد فقالا هو حسن قال وقال مالك يختص الإشعار بمن لها سنام قال الطحاوي ثبت عن عائشة وبن عباس التخيير في الإشعار وتركه فدل على أنه ليس بنسك لكنه غير مكروه لثبوت فعله عن النبي صلى الله عليه وسلم إلی آخرہ۔
(فتح الباري)
یعنی اس حدیث سے اشعار کی مشروعیت ثابت ہے وہ یہ کہ ہدی کے چمڑے کو ذرا سا زخمی کرکے اس سے خون بہاد دیا جائے بس وہ اس کے ہدی ہونے کی علامت ہے اور سلف اور خلف سے تمام جمہور نے اس کی مشروعیت کا اقرار کیا ہے اور امام طحاوی نے اس بارے میں علماء کا اختلاف ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام ابوحنیفہ ؒ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگ اس کے مستحب ہونے کے قائل ہیں حتی کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے ہر دو شاگردان رشید حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد ؒ بھی اس کے بہتر ہونے کے قائل ہیں۔
حضرت امام مالک ؒ کا قول ہے کہ اشعار ان جانوروں کے ساتھ خاص ہے جن کے کوہان ہیں۔
طحاوی نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ثابت ہے کہ اس کے یے اختیار ہے کہ یا تو اشعار کرے یا نہ کرے، یہ اسی امر کی دلیل ہے کہ اشعار کوئی حج کے مناسک سے نہیں ہے لیکن وہ غیر مکروہ ہے اس لیے کہ اس کا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
مطلقاً اشعار کو مکروہ کہنے پر بہت سے متقدمین نے حضرت ابوحنیفہ پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کے جوابات امام طحاوی نے دیئے ہیں، ان میں سے یہ بھی کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے مطلق اشعار کا انکار نہیں کیا بلکہ ایسے مبالغہ کے ساتھ اشعار کرنے کو مکروہ بتلایا ہے جس سے جانور ضعیف ہو کر ہلاکت کے قریب ہو جائے۔
جن لوگوں نے اشعار کو مثلہ سے تشبیہ دی ہے ان کا قول بھی غلط ہے۔
اشعار صرف ایسا ہی ہے جیسے کہ ختنہ اور حجامت اور نشانی کے لیے بعض جانوروں کے کان چیر دینا ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب مثلہ کے ذیل میں نہیں آسکتے، پھر اشعار کیوں کر آسکتا ہے۔
اسی لیے ابوصائب کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں امام وکیع کے پاس تھے۔
ایک شخص نے کہا کہ امام نخعی سے اشعار کا مثلہ ہونا منقول ہے۔
امام وکیع نے خفگی کے لہجہ میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا اور تو کہتا ہے کہ ابراہیم نخعی نے ایسا کہا، حق تو یہ ہے کہ تجھ کو قید کر دیا جائے۔
(فتح)
قرآن مجید کی آیت شریفہ:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ....﴾ (الحجرات: 1)
کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول سے کوئی امر صحیح طور پر ثابت ہو وہاں ہرگرز قیل و قال و أقوال و آراء کو داخل نہ کیا جائے کہ یہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبی ہے۔
مگر صد افسوس ہے کہ امت کا جم غفیر اسی بیماری میں مبتلا ہے، اللہ پاک سب کو تقلید جامد سے شفائے کامل عطا فرمائے آمین۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جب کسی ہدی کا اشعار کرتے تو اسے قبلہ رخ کر لیتے اور بسم اللہ و اللہ أکبر کہہ کر اس کے کوہان کو زخمی کیا کرتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1694]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1694
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ یہ عنوان قائم کر کے اور حدیث لا کر حضرت مجاہد کے موقف کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ احرام باندھنے کے بعد قربانی کا اشعار کرنا چاہیے۔
حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا، پھر احرام باندھا۔
(2)
اس تقلید و اشعار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ان جانوروں کو کچھ نہ کہا جائے، نیز اگر وہ جانور دوسرے جانوروں سے گھل مل جائے تو اس کی تمیز ہو سکے۔
اگر گم ہو جائے تو اسے پہچانا جا سکے۔
جن حضرات نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے وہ بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔
(فتح الباري: 686/3)
(1)
امام بخاری ؒ یہ عنوان قائم کر کے اور حدیث لا کر حضرت مجاہد کے موقف کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ احرام باندھنے کے بعد قربانی کا اشعار کرنا چاہیے۔
حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا، پھر احرام باندھا۔
(2)
اس تقلید و اشعار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ان جانوروں کو کچھ نہ کہا جائے، نیز اگر وہ جانور دوسرے جانوروں سے گھل مل جائے تو اس کی تمیز ہو سکے۔
اگر گم ہو جائے تو اسے پہچانا جا سکے۔
جن حضرات نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے وہ بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔
(فتح الباري: 686/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1694]
المسور بن مخرمة القرشي ← مروان بن الحكم القرشي