🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
131. باب الفتيا على الدابة عند الجمرة:
باب: جمرہ کے پاس سوار رہ کر لوگوں کو مسئلہ بتانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1738
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سواری پر سوا رہو کر ٹھہرے رہے پھر پوری حدیث بیان کی۔ اس کی متابعت معمر نے زہری سے روایت کر کے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1738]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ معمر بن راشد نے امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کرنے میں صالح بن کیسان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
صحابي
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد
Newعيسى بن طلحة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عيسى بن طلحة القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ إمام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1738 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1738
حدیث حاشیہ:
شریعت کی اس سادگی اور آسانی کا اظہار مقصود ہے جو اس نے تعلیم، تعلم، افتاء و ارشاد کے سلسلہ میں سامنے رکھی ہے۔
بعض روایتوں میں ایسا بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سواری پر نہ تھے بلکہ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کے مسائل بتلا رہے تھے۔
سو تطبیق یہ ہے کہ کچھ وقت سواری پر بیٹھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسائل بتلائے ہوں، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر نیچے بیٹھ گئے ہوں۔
جس راوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حال میں دیکھا بیان کر دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1738]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1738
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒنے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی اس حدیث پر قبل ازیں اسی قسم کے دو عنوان قائم کیے ہیں جن کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
٭ چوپائے پر بیٹھ کر سوالوں کے جواب دینا۔
٭ رمی جمار کے وقت سوال و جواب کرنا۔
بظاہر تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن شاز و نادر ہی ایسا ہوا ہے۔
(فتح الباري: 718/3)
واللہ أعلم۔
(2)
واضح رہے کہ ان احادیث میں "وَقَفَ" کے معنی کھڑا ہونا نہیں بلکہ سواری پر بیٹھے بیٹھے ٹھہرنا یا رک جانا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی اس حدیث میں چار معاملات کے متعلق تقدیم و تاخیر کو بیان کیا گیا ہے:
٭ قربانی ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لینا۔
٭ رمی کرنے سے پہلے حلق کرنا۔
٭ رمی سے پہلے قربانی کرنا۔
٭ رمی سے پہلے طواف افاضہ کرنا۔
حضرت علی ؓ سے مروی حدیث میں حلق سے پہلے طواف افاضہ کرنے کا ذکر ہے جبکہ حضرت جابر ؓ سے مروی حدیث میں ذبح کرنے سے پہلے طواف افاضہ کرنا ہے۔
حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طواف سے پہلے سعی کرنے کا سوال ہوا۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 2015)
بہرحال بھول کر یا لاعلمی میں اگر کوئی کام آگے پیچھے ہو جائے تو اس میں کوئی دم واجب نہیں۔
(3)
معمر بن راشد کی متابعت کو امام مسلم نے بایں الفاظ بیان کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے دیکھا جبکہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔
۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3162(1306) (4)
امام بخاری ؒ کا مقصود شریعت کی سادگی اور آسانی کو بیان کرنا ہے جو اس نے تعلیم و تعلم اور دعوت و افتا کے سلسلے میں سامنے رکھی ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو دینی مسائل سے آگاہ فرما رہے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سواری پر بیٹھ کر مسائل بیان کر رہے تھے۔
(فتح الباري: 719/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1738]

Sahih Bukhari Hadith 1738 in Urdu