صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. باب الإدلاج من المحصب:
باب: (آرام کر لینے کے بعد) وادی محصب سے آخری رات میں چل دینا۔
حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْرَى حَلْقَى، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ.
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1771]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو روانگی کی رات حیض آگیا تو انہوں نے کہا: میرے خیال کے مطابق میں تمہارے کوچ میں رکاوٹ بنوں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَقْرَىٰ حَلْقَىٰ» ”بانجھ اور حلق کے درد والی!“ ”کیا اس نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کیا تھا؟“ عرض کیا گیا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رختِ سفر باندھو اور روانہ ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 1771 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق