🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1M. باب إذا أحصر المعتمر:
باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ جانے سے روک دیئے گئے تو آپ نے حدیبیہ ہی میں اپنا سر منڈوایا اور ازواج مطہرات کے پاس گئے اور قربانی کو نحر کیا، پھر آئندہ سال ایک دوسرا عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1809]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مقام حدیبیہ پر) روک دیا گیا تو آپ نے اپنا سر مبارک منڈوایا، اپنی بیویوں سے صحبت کی اور قربانی کے جانوروں کو ذبح کیا، پھر آئندہ سال (نیا) عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام
Newمعاوية بن سلام الحبشي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥يحيى بن صالح الوحاظي، أبو زكريا، أبو صالح
Newيحيى بن صالح الوحاظي ← معاوية بن سلام الحبشي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يحيى بن صالح الوحاظي
ثقة حافظ جليل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1809 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1809
حدیث حاشیہ:
اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے عمرے کی قضاءکی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سال آئندہ دوسرا عمرہ کیا اور بعض نے کہا کہ احصار کی حالت میں اس حج یا عمرے کی قضا واجب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمرہ اگلے عمرے کی قضا کا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1809]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1809
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے پس منظر کو امام بخاری ؒ نے اپنی شرط کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا ہے۔
وہ یہ ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے جناب حجاج بن عمرو انصاری سے سوال کیا کہ اگر کوئی بحالت احرام بیت اللہ سے روک دیا جائے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ جو لنگڑا ہو جائے یا اس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا روک دیا جائے تو وہ احرام کھول دے اور آئندہ سال اسے ادا کرے۔
حضرت عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
پھر میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا تو آپ نے اپنا سر منڈوایا، قربانی ذبح کی اور اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوئے، پھر آئندہ سال (نیا)
عمرہ کیا۔
(فتح الباري: 11/4) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص کسی رکاوٹ کی وجہ سے احرام کھول دے اسے آئندہ سال اس کی قضا دینی ضروری ہے، جبکہ جمہور اہل علم کے نزدیک ایسا کرنا ضروری نہیں۔
اس کے متعلق ہم آئندہ بحث کریں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1809]

Sahih Bukhari Hadith 1809 in Urdu