🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب الصوم يوم النحر:
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ: أَظُنُّهُ قَال: الِاثْنَيْنِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے (اللہ کے حکم سے) منع فرمایا ہے۔ (گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1994]
حضرت زیاد بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ ایک روزہ رکھے گا، میرا گمان ہے کہ وہ سوموار کا دن ہے اور اتفاق سے اس دن عید تھی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زياد بن جبير الثقفي
Newزياد بن جبير الثقفي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← زياد بن جبير الثقفي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← عبد الله بن عون المزني
ثقة متقن
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6706
أمر الله بوفاء النذر ونهينا أن نصوم يوم النحر
صحيح البخاري
1994
أمر الله بوفاء النذر نهى النبي عن صوم هذا اليوم
صحيح مسلم
2675
أمر الله بوفاء النذر نهى رسول الله عن صوم هذا اليوم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1994 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1994
حدیث حاشیہ:
علامہ ابن حجر فرماتے ہیں:
لم یفسر العید في هذہ الروایة و مقتضی إدخاله هذا الحدیث في ترجمة صوم یوم النحر أن یکون المسؤل عنه یوم النحر و هو مصرح به في روایة یزید بن زریع المذکورة و لفظه فوافق یوم النحر۔
یعنی اس روایت میں عید کی وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون سی عید تھی اور یہاں باب کا اقتضاءعیدالاضحی ہے سو اس کی تصریح یزید بن زریع کی روایت میں موجود ہے جس میں یہ ہے کہ اتفاق سے اس دن قربانی کا دن پڑگیا تھا۔
یزید بن زریع کی روایت میں یہ لفظ وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
اور ایسا ہی احمد کی روایت میں ہے جسے انہوں نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے یونس سے نقل کیا ہے، پس ثابت ہو گیا کہ روایت میں یوم عید سے عید الاضحی یوم النحر مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1994]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1994
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
اس روایت میں وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون سی عید تھی لیکن عنوان کا تقاضا ہے کہ اس سے مراد عید الاضحیٰ کا دن ہے، چنانچہ یزید بن زریع کی روایت میں اس کی صراحت ہے، یعنی جس دن روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی اس دن اتفاق سے عید الاضحیٰ تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے دلائل کے تعارض کے پیش نظر صراحت کے ساتھ جواب دینے سے توقف فرمایا۔
(2)
علامہ خطابی فرماتے ہیں:
اس مسئلے میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا ہے:
اگر کسی نے نذر مانی کہ جس دن فلاں آئے گا وہ روزہ رکھے گا، اور وہ عید کے دن آیا تو نہ روزہ رکھے اور نہ اس کی قضا ہی دے۔
بعض نے کہا کہ وہ عید کے دن روزہ نہ رکھے لیکن بعد میں اس کی قضا دے۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ جہاں امر اور نہی دونوں جمع ہو جائیں وہاں نہی پر عمل کیا جائے گا، لہذا اس دن روزہ نہ رکھا جائے اور نہ اس کی قضا ہی دینا ضروری ہے۔
(فتح الباري: 306/4)
ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ نہی کو مقدم کرتے ہوئے اس دن کا روزہ نہ رکھا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سوار ہونے کا حکم دیا تھا جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی تھی۔
اگر ایسے حالات میں نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا تو آپ اسے سواری استعمال کرنے کا حکم نہ دیتے۔
صورت مذکورہ میں بھی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں، لہذا وہ اپنی نذر کسی صورت میں پوری نہیں کرے گا۔
(فتح الباري: 307/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1994]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2675
زیاد ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی اور وہ دن اضحیٰ کا دن یا فطر کا دن نکل آیا تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2675]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امت کے نزدیک بالاتفاق عید الفطر اور عید الاضحیٰ کا روزہ رکھنا حرام ہے لیکن اگر کسی نے ان دنوں کے روزے کی نذر مانی تو جمہور ائمہ کے نزدیک وہ نذر کالعدم ہوگی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ نذر منعقد ہوجائے گی اور اس کی قضاء ضروری ہوگی اور اگر اسی دن روزہ رکھ لے تو ہو جائے گا یعنی اگر کسی نے نذر مانی کہ میں فلاں تاریخ کو روزہ رکھوں گا یافلاں ماہ کے پہلے ہفتہ میں سوموار کا یا جمعرات کا روزہ رکھوں گا اور وہ دن اتفاق سے عید کا دن نکلا تو جمہور کے نزدیک روزہ کی نذر کالعدم ہوگی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قضاء لازم ہے کیونکہ نذر منعقد ہوچکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2675]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6706
6706. حضرت زیاد بن جبیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دن ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے ہر منگل یا بدھ کے دن زندگی بھر روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی۔ اتفاق سےا س دن عیدالاضحیٰ آگئی ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالٰی نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس قدر جواب دیا اس پر کوئی اضافہ نہ کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6706]
حدیث حاشیہ:
بہترین دلیل پیش کی کہ سچے مسلمانوں کے لیے اسوۂ نبوى سے بڑھ کر اور کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6706]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6706
6706. حضرت زیاد بن جبیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دن ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے ہر منگل یا بدھ کے دن زندگی بھر روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی۔ اتفاق سےا س دن عیدالاضحیٰ آگئی ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالٰی نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس قدر جواب دیا اس پر کوئی اضافہ نہ کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6706]
حدیث حاشیہ:
(1)
اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن نفلی یا فرض یا نذر کا روزہ جائز نہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے روزے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1991)
اگر کوئی شخص کچھ دنوں کے لیے روزے رکھنے کی نذر مانتا ہے اور ان دنوں میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ آ جائے تو امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دنوں کا روزہ نہ رکھے اور نہ چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ہی دے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دنوں روزہ تو نہ رکھے، البتہ اس کی قضا ضروری ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے پہلی حدیث کے آخر میں علامہ اسماعیلی کے حوالے سے ایک اضافہ نقل کیا ہے کہ جب اس کا ذکر حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے بجائے بعد میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا جائے۔
(فتح الباري: 720/11)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6706]

Sahih Bukhari Hadith 1994 in Urdu