🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب بركة صاع النبى صلى الله عليه وسلم ومدهم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد کی برکت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2129
فِيهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس باب میں ایک حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2129]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا، وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام لِمَكَّةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا۔ اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اور اس کے لیے، اس کے مد اور صاع (غلہ ناپنے کے دو پیمانے) کی برکت کے لیے اس طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن زيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥عباد بن تميم المازني
Newعباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري
له رؤية
👤←👥عمرو بن يحيى الأنصاري
Newعمرو بن يحيى الأنصاري ← عباد بن تميم المازني
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← عمرو بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2129
إبراهيم حرم مكة ودعا لها حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة دعوت لها في مدها صاعها مثل ما دعا إبراهيم لمكة
صحيح مسلم
3313
إبراهيم حرم مكة ودعا لأهلها حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة دعوت في صاعها مدها بمثلي ما دعا به إبراهيم لأهل مكة
بلوغ المرام
605
‏‏‏‏إن إبراهيم حرم مكة ودعا لاهلها وإني حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2129 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2129
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ ناپ تول کے لیے صاع اور مد کا دستور عہد رسالت میں بھی تھا۔
جن میں برکت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور مدینہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی جو اسی طرح قبول ہوئی، جس طرح مکہ شریف کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اللہ نے قبول فرمائی، بلکہ بعض خصوصیات برکت میں مدینہ ممتاز ہے، وہاں پانی شہر میں بکثرت موجود ہے۔
آس پاس جنگل سبزہ سے لہلہا رہے ہیں۔
پھر آج کل حکومت سعودیہ خلد اللہ بقاہا کی مساعی سے مدینہ ہر لحاظ سے ایک ترقی یافتہ شہر بنتا جارہا ہے، جو سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ دعاؤں کا ثمرہ ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اللهم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ او اشد یا اللہ! مکۃ المکرمہ ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت ڈال دے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2129]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2129
حدیث حاشیہ:
(1)
مدینہ طیبہ کے صاع اور مد میں برکت سے مراد یہ ہے کہ جو چیز ان میں ماپی جائے اس میں برکت ہو،نیز سابقہ حدیث میں جو غلے کی خیرو برکت کا ذکر ہے وہ اس صورت میں ممکن ہے،جب اسے اہل مدینہ کے صاع اور مد سے ناپ تول کیا جائے یا پھر جو ان کے موافق ہو۔
(2)
مدینہ طیبہ کو حرام قرار دینے کے یہ معنی ہیں کہ وہاں درخت وغیرہ نہ کاٹے جائیں تاکہ اس مقدس شہر کی زینت برقرار رہے اور اس کے متعلق لوگوں کی محبت میں کمی نہ آئے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2129]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 605
احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت دی اور اس کے بسنے والوں کیلئے دعا کی اور بیشک میں نے مدینہ کو حرمت دی۔ جس طرح ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور یقیناً میں نے مدینہ کے صاع اور اس کے مد کے متعلق ابراھیم علیہ السلام کی طرح دعا کی جو مکہ میں بسنے والوں کے متعلق تھی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 605]
605 لغوی تشریح:
«حَرَّمَ مَكَّةَ» یہ تحریم سے ہے، یعنی اسے حرم بنایا۔ اور مدینہ طیبہ کی تحریم کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں شکار کرنا، اس کے درخت کاٹنا اور وہاں بدعات کا ارتکاب کرنا حرام ہے۔

فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ طیبہ بھی حرم ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی دعا کی وجہ سے اسے حرمت دی گئی کیونکہ ایک روایت میں ہے: «اَنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا ﷲ» یعنی اللہ نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے۔ [صحيح بخاري، العلم، حديث: 104]
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 605]

Sahih Bukhari Hadith 2129 in Urdu