صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب لا يبيع حاضر لباد بالسمسرة:
باب: اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کر کے مول نہ لے۔
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ معاذ بن معاذ العنبري ← عبد الله بن عون المزني | ثقة متقن | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن معاذ العنبري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2161
| نهينا أن يبيع حاضر لباد |
صحيح مسلم |
3828
| نهينا أن يبيع حاضر لباد وإن كان أخاه أو أباه |
سنن أبي داود |
3440
| لا يبيع حاضر لباد وإن كان أخاه أو أباه |
سنن النسائى الصغرى |
4497
| نهى أن يبيع حاضر لباد وإن كان أباه أو أخاه |
سنن النسائى الصغرى |
4499
| نهينا أن يبيع حاضر لباد |
سنن النسائى الصغرى |
4498
| نهينا أن يبيع حاضر لباد وإن كان أخاه أو أباه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2161 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2161
حدیث حاشیہ:
(1)
شہری آدمی کو کسی دیہاتی کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے،دلالی کے ساتھ اس کا سامان نہ خریدے اور نہ بازار سے اسے سامان لے کرہی دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں ایک خاص اسلوب اختیار کیا ہے اور اس کے متعلق تین عنوان قائم کیے ہیں:
پہلے عنوان میں ھل کے ساتھ اس کی کراہت کو ذکر کیا۔
دوسرے عنوان میں اجرت کےساتھ اس کی خریدوفروخت کو مکروہ قرار دیا اوراس تیسرے عنوان میں دلالی کے ساتھ نفی کو مقید کیا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
ہمیں منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان فروخت کرے، خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی یا باپ ہی ہو۔
(صحیح مسلم، البیوع، حدیث: 3828(1523)
بہرحال منع کی صورت یہ ہے کہ ایک اجنبی آدمی دیہات یا کسی دوسرے شہر سے ایسا سامان لے کر آتا ہے جس کی تمام لوگوں کو ضرورت ہے اور وہ اس دن کے بھاؤ سے فروخت کرنا چاہتا ہے، اگر اسے شہری کہتا ہے کہ اپنا یہ سامان میرے پاس چھوڑ دوتاکہ میں اسے بتدریج اعلیٰ نرخ پر فروخت کروں۔
بعض فقہاء ان احادیث کو منسوخ کہتے ہیں جن میں ممانعت کا ذکر ہے۔
ان کے ہاں ایسا کرنا مطلق طور پر جائز ہے۔
ہمارے نزدیک ان کا موقف محل نظر ہے۔
(3)
واضح رہے کہ جس شہری کے لیے کسی دیہاتی کا سامان فروخت کرنا جائز نہیں، اسی طرح اس کے لیے خریدنا بھی جائز نہیں کیونکہ لفظ بیع دونوں معنوں (خریدوفروخت)
میں مستعمل ہے۔
والله أعلم.
(1)
شہری آدمی کو کسی دیہاتی کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے،دلالی کے ساتھ اس کا سامان نہ خریدے اور نہ بازار سے اسے سامان لے کرہی دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں ایک خاص اسلوب اختیار کیا ہے اور اس کے متعلق تین عنوان قائم کیے ہیں:
پہلے عنوان میں ھل کے ساتھ اس کی کراہت کو ذکر کیا۔
دوسرے عنوان میں اجرت کےساتھ اس کی خریدوفروخت کو مکروہ قرار دیا اوراس تیسرے عنوان میں دلالی کے ساتھ نفی کو مقید کیا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
ہمیں منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان فروخت کرے، خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی یا باپ ہی ہو۔
(صحیح مسلم، البیوع، حدیث: 3828(1523)
بہرحال منع کی صورت یہ ہے کہ ایک اجنبی آدمی دیہات یا کسی دوسرے شہر سے ایسا سامان لے کر آتا ہے جس کی تمام لوگوں کو ضرورت ہے اور وہ اس دن کے بھاؤ سے فروخت کرنا چاہتا ہے، اگر اسے شہری کہتا ہے کہ اپنا یہ سامان میرے پاس چھوڑ دوتاکہ میں اسے بتدریج اعلیٰ نرخ پر فروخت کروں۔
بعض فقہاء ان احادیث کو منسوخ کہتے ہیں جن میں ممانعت کا ذکر ہے۔
ان کے ہاں ایسا کرنا مطلق طور پر جائز ہے۔
ہمارے نزدیک ان کا موقف محل نظر ہے۔
(3)
واضح رہے کہ جس شہری کے لیے کسی دیہاتی کا سامان فروخت کرنا جائز نہیں، اسی طرح اس کے لیے خریدنا بھی جائز نہیں کیونکہ لفظ بیع دونوں معنوں (خریدوفروخت)
میں مستعمل ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2161]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4497
شہری دیہاتی کا مال بیچے یہ کیسا ہے؟
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے، گرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4497]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے، گرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4497]
اردو حاشہ:
دیکھئے حدیث: 4496 کا فائدہ نمبر: 2۔
دیکھئے حدیث: 4496 کا فائدہ نمبر: 2۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4497]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3440
شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3440]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3440]
فوائد ومسائل:
اس باب میں مذکورہ احادیث سے دلالی کے مسئلے پر روشنی پڑتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری دیہاتی کےلئے اس کی لائی ہوئی اشیاء فروخت نہ کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے۔
باب کی آخری حدیث میں اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ لوگوں کی خرید وفروخت کے معاملے میں مداخلت نہ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
یہ مارکیٹ کی قوتوں کوآزاد رکھنے کی تلقین ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے قیمتیں مقرر کر دینے کو روانہ سمجھا۔
بلکہ قیمتوں کو رسد اور طلب کے فطری توازن کا نتیجہ قراردیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ دیہات سے ضرورت کی اشیاء شہر میں لاتے ہیں۔
ان کو لالچ دے کر اپنی کوششوں سے قیمتوں میں اضافہ کروانا اور پھر اس میں حصہ دار بننا بنیادی طور پر آزاد مارکیٹ میں ناپسندیدہ مداخلت ہے۔
اس سے اشیاء ضرورت ناروا طور پر مہنگی ہوتی ہیں۔
اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
دوسری طرف ابوداود ہی کی کتاب البیوع کی پہلی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار جاکر دلالوں کو سمسار کی بجائے جو ایک عجمی لفظ ہے۔
زیادہ قابل احترام نام تاجر سے پکارا۔
جس پر یہ حضرات بہت خوش ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تلقین فرمائی کہ بیع وشراء کے معاملے میں انسان سے کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔
اس لئے تم لوگوں کوصدقہ کرتے رہنا چاہیے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ دلالی بطور ایک باقاعدہ ادارے کے موجود تھی۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ختم نہ فرمایا شہروں میں بڑے پیمانے پر اشیائے صرف دور دراز سے آتی ہیں۔
جب مال کے ساتھ تاجر خود موجود نہ ہو یا مال اتنا ہو کہ سارا وہ خود نہ بیچ سکتا ہو۔
یا مقامی زبانوں تجارتی اصطلاحوں طور طریقوں اور مقامی تجارتی پارٹیوں کے قابل اعتبار ہونے نہ ہونے کے بارے میں ناواقفیت کے سبب مال لانے والوں کو شدید مشکلات درپیش ہوں تو ان کےلئے مقامی دلال یا ایجنٹ کی خدمات ضروری ہیں۔
ورنہ وہ اپنا مال منڈی میں نہ بھیجیں گے۔
اس لئے اس کاروبار کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلالوں کو کاروبار ختم کرنے کا حکم ہی دیا ہے۔
بظاہر دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد نظرآتی ہیں۔
لیکن دونوں کو اپنے اپنے مقام پررکھ کر دیکھا جائے تو حقیقتاً کوئی تضاد نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمسار کے کاروبار کوبند کرنے کا حکم دینے کی بجائے اس کاروبار کے ایک حصے کے بارے میں فرمایا کہ کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے۔
یعنی دوسرے علاقوں کے شہری تاجردلالوں کی خدمات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
البتہ شہر کے ارد گرد کے لوگ جو اپنی اپنی زرعی پیداوار شہر میں بیچنے کے لئے لے کر آتے ہیں۔
ان کے معاملے میں مداخلت نہ کی جائے۔
تاکہ ان اشیاء کی خریدوفروخت فطری طریقے پر جاری رہے۔
امام مالک کا مسلک یہی ہے۔
ہمارے فقہاء نے آپ کے اس فرمان اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
کا محض یہ مطلب لیا ہے۔
کہ دیہات سے اشیاء لانے والے افراد منڈی میں سستی بیچ جایا کریں گے۔
تو اس میں شہر والوں کی اجتماعی بھلائی ہوگی۔
آج کل جو کچھ سامنے آتا ہے۔
وہ اس کے برعکس ہے بلدیاتی اداروں نے دیہات سے تھوڑی مقدار میں اشیاء لانے والوں کو قانوناً مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی اشیاء دلالوں کے ذریعے سے فروخت کریں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک طرف تو عام گاہک کےلئے چیزیں مہنگی ہوگیئں۔
دوسری طرف دیہاتیوں کو ان کی پیداوار کی بہت کم قیمت ملتی ہے۔
سارا منافع درمیان کے لوگ لے جاتے ہیں۔
روز مرہ کی اشیاء جن کی دہیات سے رسد جاری رہتی ہے۔
اگر دلالوں کی مداخلت سے الگ کردی جایئں۔
جس طرح ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
تو دونوں فریقوں کو بے حد فائدہ پہنچے گا۔
یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مداخلت نہ کرو اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
کا حقیقی مفہوم ہے۔
اس باب میں مذکورہ احادیث سے دلالی کے مسئلے پر روشنی پڑتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری دیہاتی کےلئے اس کی لائی ہوئی اشیاء فروخت نہ کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے۔
باب کی آخری حدیث میں اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ لوگوں کی خرید وفروخت کے معاملے میں مداخلت نہ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
یہ مارکیٹ کی قوتوں کوآزاد رکھنے کی تلقین ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے قیمتیں مقرر کر دینے کو روانہ سمجھا۔
بلکہ قیمتوں کو رسد اور طلب کے فطری توازن کا نتیجہ قراردیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ دیہات سے ضرورت کی اشیاء شہر میں لاتے ہیں۔
ان کو لالچ دے کر اپنی کوششوں سے قیمتوں میں اضافہ کروانا اور پھر اس میں حصہ دار بننا بنیادی طور پر آزاد مارکیٹ میں ناپسندیدہ مداخلت ہے۔
اس سے اشیاء ضرورت ناروا طور پر مہنگی ہوتی ہیں۔
اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
دوسری طرف ابوداود ہی کی کتاب البیوع کی پہلی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار جاکر دلالوں کو سمسار کی بجائے جو ایک عجمی لفظ ہے۔
زیادہ قابل احترام نام تاجر سے پکارا۔
جس پر یہ حضرات بہت خوش ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تلقین فرمائی کہ بیع وشراء کے معاملے میں انسان سے کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔
اس لئے تم لوگوں کوصدقہ کرتے رہنا چاہیے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ دلالی بطور ایک باقاعدہ ادارے کے موجود تھی۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ختم نہ فرمایا شہروں میں بڑے پیمانے پر اشیائے صرف دور دراز سے آتی ہیں۔
جب مال کے ساتھ تاجر خود موجود نہ ہو یا مال اتنا ہو کہ سارا وہ خود نہ بیچ سکتا ہو۔
یا مقامی زبانوں تجارتی اصطلاحوں طور طریقوں اور مقامی تجارتی پارٹیوں کے قابل اعتبار ہونے نہ ہونے کے بارے میں ناواقفیت کے سبب مال لانے والوں کو شدید مشکلات درپیش ہوں تو ان کےلئے مقامی دلال یا ایجنٹ کی خدمات ضروری ہیں۔
ورنہ وہ اپنا مال منڈی میں نہ بھیجیں گے۔
اس لئے اس کاروبار کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلالوں کو کاروبار ختم کرنے کا حکم ہی دیا ہے۔
بظاہر دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد نظرآتی ہیں۔
لیکن دونوں کو اپنے اپنے مقام پررکھ کر دیکھا جائے تو حقیقتاً کوئی تضاد نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمسار کے کاروبار کوبند کرنے کا حکم دینے کی بجائے اس کاروبار کے ایک حصے کے بارے میں فرمایا کہ کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے۔
یعنی دوسرے علاقوں کے شہری تاجردلالوں کی خدمات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
البتہ شہر کے ارد گرد کے لوگ جو اپنی اپنی زرعی پیداوار شہر میں بیچنے کے لئے لے کر آتے ہیں۔
ان کے معاملے میں مداخلت نہ کی جائے۔
تاکہ ان اشیاء کی خریدوفروخت فطری طریقے پر جاری رہے۔
امام مالک کا مسلک یہی ہے۔
ہمارے فقہاء نے آپ کے اس فرمان اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
کا محض یہ مطلب لیا ہے۔
کہ دیہات سے اشیاء لانے والے افراد منڈی میں سستی بیچ جایا کریں گے۔
تو اس میں شہر والوں کی اجتماعی بھلائی ہوگی۔
آج کل جو کچھ سامنے آتا ہے۔
وہ اس کے برعکس ہے بلدیاتی اداروں نے دیہات سے تھوڑی مقدار میں اشیاء لانے والوں کو قانوناً مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی اشیاء دلالوں کے ذریعے سے فروخت کریں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک طرف تو عام گاہک کےلئے چیزیں مہنگی ہوگیئں۔
دوسری طرف دیہاتیوں کو ان کی پیداوار کی بہت کم قیمت ملتی ہے۔
سارا منافع درمیان کے لوگ لے جاتے ہیں۔
روز مرہ کی اشیاء جن کی دہیات سے رسد جاری رہتی ہے۔
اگر دلالوں کی مداخلت سے الگ کردی جایئں۔
جس طرح ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
تو دونوں فریقوں کو بے حد فائدہ پہنچے گا۔
یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مداخلت نہ کرو اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔
کا حقیقی مفہوم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3440]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري