علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب بيع الزبيب بالزبيب والطعام بالطعام:
باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ"، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص درخت پر کی کھجور سوکھی کھجور کے بدل ماپ تول کر بیچے۔ اور خریدار کہے اگر درخت کا پھل اس سوکھے پھل سے زیادہ نکلے تو وہ اس کا ہے اور کم نکلے تو وہ نقصان بھر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت تغير في آخر عمره |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2172
| المزابنة |
جامع الترمذي |
1300
| نهى عن المحاقلة المزابنة أذن لأهل العرايا أن يبيعوها بمثل خرصها |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2172 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2172
حدیث حاشیہ:
بیع مزابنہ یہ ہے کہ اندازے سے تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض خرید کیا جائے اور خریدتے وقت یہ کہا جائے کہ اندازہ کردہ کھجور جو ماپ کے مساوی خیال کی گئی ہیں اگر زیادہ ہوئیں تو میری اور اگر کم ہوں تو اس کا نقصان میں خود برداشت کروں گا۔
اس قسم کی خریدوفروخت سے ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمادیا۔
بیع مزابنہ یہ ہے کہ اندازے سے تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض خرید کیا جائے اور خریدتے وقت یہ کہا جائے کہ اندازہ کردہ کھجور جو ماپ کے مساوی خیال کی گئی ہیں اگر زیادہ ہوئیں تو میری اور اگر کم ہوں تو اس کا نقصان میں خود برداشت کروں گا۔
اس قسم کی خریدوفروخت سے ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمادیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2172]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1300
عاریت والی بیع کے جائز ہونے کا بیان۔
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اندازہ لگا کر اسے اتنی ہی کھجور میں بیچنے کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1300]
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اندازہ لگا کر اسے اتنی ہی کھجور میں بیچنے کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1300]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عرایا کی صورت یہ ہے مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے دوایک درخت کا پھل کسی مسکین کو دے دے لیکن دینے کے بعد بار باراس کے آنے جانے سے اسے تکلیف پہنچے توکہے:
بھائی اندازہ لگاکرخشک یا ترکھجورہم سے لے لو اور اس درخت کا پھل ہمارے لیے چھوڑدو ہر چند کہ یہ مزابنہ ہے لیکن چونکہ یہ ایک ضرورت ہے،
اور وہ بھی مسکینوں کومل رہا ہے اس لیے اسے جائزقرار دیا گیا ہے۔
وضاحت:
1؎:
عرایا کی صورت یہ ہے مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے دوایک درخت کا پھل کسی مسکین کو دے دے لیکن دینے کے بعد بار باراس کے آنے جانے سے اسے تکلیف پہنچے توکہے:
بھائی اندازہ لگاکرخشک یا ترکھجورہم سے لے لو اور اس درخت کا پھل ہمارے لیے چھوڑدو ہر چند کہ یہ مزابنہ ہے لیکن چونکہ یہ ایک ضرورت ہے،
اور وہ بھی مسکینوں کومل رہا ہے اس لیے اسے جائزقرار دیا گیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1300]
Sahih Bukhari Hadith 2172 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي