صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الأجير فى الغزو:
باب: جہاد میں کسی کو مزدور کر کے لے جانا۔
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا، إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے، ان کو یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش عسرۃ (غزوۃ تبوک) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھینچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر پہنچا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ بلکہ فرمایا کہ کیا وہ انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا۔ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا۔ جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2265]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جیشِ عسرہ (غزوہ تبوک) میں شرکت کی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ جن اعمال پر مجھے اعتماد ہے ان میں سے ایک یہ ہے۔ (کہتے ہیں کہ) میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی۔ اس نے اپنی انگلی کھینچی تو سامنے والے کا ثنیہ دانت بھی گرا دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنی انگلی تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چبا جاتا؟“ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے اونٹ چبا جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2265
| أهدر ثنيته وقال أفيدع إصبعه في فيك تقضمها كما يقضم الفحل |
Sahih Bukhari Hadith 2265 in Urdu
صفوان بن يعلى التميمي ← يعلى بن منية التميمي