🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الإجارة إلى صلاة العصر:
باب: عصر کی نماز تک مزدور لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُكُمْ، وَالْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ عَمِلَتْ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا، قَالُوا: لَا، فَقَالَ: فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک میری مزدوری کون کرے گا؟ پس یہود نے ایک قیراط پر یہ مزدوری کی۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگوں نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کیا۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے کہ ہم نے تو زیادہ کام کیا اور مزدوری ہم کو کم ملی۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ کیا میں نے تمہارا حق ذرہ برابر بھی مارا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر اس شخص نے کہا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں زیادہ دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2269]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے مزدوری کے لیے مزدور لگائے اور کہا: کون ہے جو دوپہر تک ایک ایک قیراط پر میرا کام کرے؟ یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ ان کے بعد نصاریٰ نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگ ہو جو نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک دو، قیراط پر کام کرتے ہو۔ یہود و نصاریٰ ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ہمارا کام زیادہ ہے لیکن ہمیں مزدوری بہت تھوڑی ملی ہے۔ ارشاد ہوا: کیا میں نے تمہارے حق میں کوتاہی کی ہے؟ انہوں نے کہا: ایسا ہرگز نہیں۔ فرمایا: یہ میرا فضل و احسان ہے میں جسے چاہوں دوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن دينار القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2269
مثلكم واليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا قال من يعمل لي إلى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود على قيراط قيراط ثم عملت النصارى على قيراط قيراط ثم أنتم الذين تعملون من صلاة العصر إلى مغارب الشمس على قيراطين قيراطين فغضبت اليهود والنصارى وقالوا نحن أكث
صحيح البخاري
2268
مثلكم ومثل أهل الكتابين كمثل رجل استأجر أجراء قال من يعمل لي من غدوة إلى نصف النهار على قيراط فعملت اليهود ثم قال من يعمل لي من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط فعملت النصارى ثم قال من يعمل لي من العصر إلى أن تغيب الشمس على قيراطين فأنتم هم فغضبت اليهو
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2269 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2269
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں گو یہ صراحت نہیں کہ نصاریٰ نے عصر تک کام کیا، مگر یہ مضمون اس سے نکلتا ہے کہ تم مسلمانوں نے عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک کام کیا۔
کیوں کہ مسلمانوں کا عمل نصاریٰ کے عمل کے بعد شروع ہوا ہوگا۔
اس میں امت محمدیہ کے خاتم الامم ہونے کا بھی اشارہ ہے اوریہ بھی کہ ثواب کے لحاظ سے یہ امت سابقہ جملہ امم پر فوقیت رکھتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2269]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2269
حدیث حاشیہ:
(1)
ہمیں قرآن وحدیث کی حفاظت واشاعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس عظیم کارنامے کی بدولت اس امت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا اور یہود ونصاریٰ پر برتری عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ اس نعمت کو برقرار رکھنے کی توفیق دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کئی ایک جگہ پر نقل کیا ہے اور اس سے مختلف احکام ومسائل کا استنباط کیا ہے۔
اس حدیث میں یہودونصاریٰ اور اہل اسلام کا تقابل ایک تمثیلی انداز میں دکھایا گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2269]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2268
2268. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تمہاری مثال اور اہل کتاب (یہودونصاریٰ) کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند مزدور اجرت پر لگائے اور کہا: وہ کون ہے جو صبح سے دوپہر تک ایک قیراط پر میرا کام کرے؟ تو یہود نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے اعلان کیا: تم میں کون ایک قیراط پر دوپہر سے لے کر عصر تک میرا کام کرے گا؟ تو نصاریٰ نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو قیراط پر کون میرا کام کرے گا؟ تو یہ کام کرنے والے تم خود ہو۔ اس پر یہود ونصاریٰ برہم ہوئے۔ انھوں نے کہا: یہ کیا بات ہوئی کام ہم نے زیادہ کیا اور مزدوری تھوڑی ملی؟ اس شخص نے کہا: کیا تمہارا کچھ حق میں نے دبا لیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ تب اس شخص نے کہا: یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2268]
حدیث حاشیہ:
تم کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔
اس سے اہل سنت کا مذہب ثابت ہوا کہ اللہ کی طرف سے ثواب ملنا بطریق احسن کے ہے۔
امت محمدیہ پر یہ خدا کا کرم ہے کہ وہ جو بھی نیکی کرے اس کو دس گنا بلکہ بعض دفعہ اور بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔
وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں مگر ثواب پچاس وقت کا دیا جاتاہے۔
یہ اس امت مرحومہ کی خصوصیات میں سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2268]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2268
2268. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تمہاری مثال اور اہل کتاب (یہودونصاریٰ) کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند مزدور اجرت پر لگائے اور کہا: وہ کون ہے جو صبح سے دوپہر تک ایک قیراط پر میرا کام کرے؟ تو یہود نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے اعلان کیا: تم میں کون ایک قیراط پر دوپہر سے لے کر عصر تک میرا کام کرے گا؟ تو نصاریٰ نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو قیراط پر کون میرا کام کرے گا؟ تو یہ کام کرنے والے تم خود ہو۔ اس پر یہود ونصاریٰ برہم ہوئے۔ انھوں نے کہا: یہ کیا بات ہوئی کام ہم نے زیادہ کیا اور مزدوری تھوڑی ملی؟ اس شخص نے کہا: کیا تمہارا کچھ حق میں نے دبا لیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ تب اس شخص نے کہا: یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2268]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت ہوا کہ جز وقتی کام کے لیے جس میں وقت کا صحیح تعین نہیں ہوسکتا، کسی مزدور کو اجرت پر رکھا جاسکتا ہے اگرچہ آج کل گھڑیوں نے وقت کا تعین آسان کر دیا ہے۔
قدیم زمانے میں بھی ظہر کا وقت، عصر کا وقت اور قیلولے کا وقت سب معلوم ہوتا تھا لیکن اس کا تعین نہیں تھا۔
اس کے باوجود ایسا اجارہ جائز ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس کے جواز کے لیے ایک تمثیل کو پیش کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دین حنیف کی خدمت کے لیے یہود کو صبح سے لے کر ظہر تک،نصارٰی کو ظہر سے عصر تک اور اہل اسلام کو عصر سے مغرب تک مقرر کیا۔
اس سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا کہ جز وقتی اجارہ بھی صحیح ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں جبکہ دن کے اس حصے کو معین کرلیا جائے، مثلاً:
ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کے لیے مزدور رکھا جائے۔
الغرض اس قسم کے عنوانات سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اجارے کے لیے پورا دن ضروری نہیں بلکہ دن کے حصوں میں بھی اجارہ کیا جاسکتا ہے جسے ہم (part Time)
کہتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2268]

Sahih Bukhari Hadith 2269 in Urdu