🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب إثم من ظلم شيئا من الأرض:
باب: اس شخص کا گناہ جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھین لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ". قَالَ عَبْدِ اللهِ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِخُرَاسَانَ فِي كِتَابِ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَمْلاهُ عَلَيْهِم بِالْبَصْرَةِ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا سالم سے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2454
من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2454 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2454
حدیث حاشیہ:
(1)
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زمین کا غصب ممکن نہیں کیونکہ غصب ان چیزوں میں ہوتا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل اور کسی کے سپرد اور حوالے کی جا سکتی ہوں۔
امام بخاری ؒ نے زمین غصب کرنے کی صورت بتائی، وہ یہ ہے کہ اگر کسی نے تھوڑی سی زمین پر بھی ناجائز قبضہ کر لیا تو قیامت کے دن اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور غصب کردہ زمین اس کے گلے میں طوق کی مانند ہو گی۔
اس کی گردن لمبی کر دی جائے گی تاکہ وہ زمین اس کا طوق بن سکے۔
(2)
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے واضح عبرت ہے جو دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں، خاص طور پر وہ حضرات جو زمین پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں مسجد یا مدرسہ تعمیر کر لیتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم نے نیکی کا کام کیا ہے، ایسے کام میں کوئی نیکی نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2454]