صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب النهبى بغير إذن صاحبه:
باب: مالک کی اجازت کے بغیر اس کا کوئی مال اٹھا لینا۔
حدیث نمبر: Q2474
وَقَالَ عُبَادَةُ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَنْتَهِبَ.
اور عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم لوٹ مار نہیں کیا کریں گے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: Q2474]
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، جو عدی بن ثابت کے نانا تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية | صحابي صغير | |
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري عدي بن ثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي | ثقة رمي بالتشيع | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← عدي بن ثابت الأنصاري | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن آدم بن أبي إياس ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5516
| نهى عن النهبة المثلة |
صحيح البخاري |
2474
| نهى النبي عن النهبى المثلة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2474 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2474
حدیث حاشیہ:
لوٹ مار کرنا، ڈاکہ ڈالنا، چوری کرنا اسلام میں سختی کے ساتھ ان کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے لیے سخت ترین سزا تجویز کی گئی کہ چوری کرنے والے کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالے جائیں، ڈاکوؤں، رہزنوں کے لیے اور بھی سنگین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کرسکے۔
انہی قوانین کی برکت ہے کہ آج بھی حکومت سعودیہ عربیہ کا امن ساری دنیا کی حکومت کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے جب کہ جملہ مہذب لوگوں میں ڈاکہ زنی مختلف صورتوں میں دن بدن ترقی پذیر ہے۔
چوری کرنا بطور ایک پیشہ کے رائج ہو رہا ہے۔
عوام کی زندگی حد درجہ خوفناکی میں گزر رہی ہے۔
فوج پولس سب ایسے مجرموں کے آگے لاچارہیں۔
اس لیے کہ ان کے ہاں قانونی لچک حد درجہ ان کی ہمت افزائی کرتی ہے۔
مثلہ جنگ میں مقتول کے ہاتھ، پیر، کان کاٹ کر الگ الگ کردینا۔
اسلام نے اس حرکت سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔
لوٹ مار کرنا، ڈاکہ ڈالنا، چوری کرنا اسلام میں سختی کے ساتھ ان کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے لیے سخت ترین سزا تجویز کی گئی کہ چوری کرنے والے کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالے جائیں، ڈاکوؤں، رہزنوں کے لیے اور بھی سنگین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کرسکے۔
انہی قوانین کی برکت ہے کہ آج بھی حکومت سعودیہ عربیہ کا امن ساری دنیا کی حکومت کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے جب کہ جملہ مہذب لوگوں میں ڈاکہ زنی مختلف صورتوں میں دن بدن ترقی پذیر ہے۔
چوری کرنا بطور ایک پیشہ کے رائج ہو رہا ہے۔
عوام کی زندگی حد درجہ خوفناکی میں گزر رہی ہے۔
فوج پولس سب ایسے مجرموں کے آگے لاچارہیں۔
اس لیے کہ ان کے ہاں قانونی لچک حد درجہ ان کی ہمت افزائی کرتی ہے۔
مثلہ جنگ میں مقتول کے ہاتھ، پیر، کان کاٹ کر الگ الگ کردینا۔
اسلام نے اس حرکت سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2474]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2474
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے بعض حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہاروں کی لوٹ کھسوٹ جائز ہے، حالانکہ ایسا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے اور دینِ اسلام میں وقار کا بھی ایک مقام ہے۔
اس کے جواز میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکروں کو لوٹ مار سے منع کیا اور شادی بیاہ کے موقع پر اس کی اجازت دی ہے، اس کی سند کے متعلق امام بیہقی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی سند میں عون اور عصمہ دو راوی ناقابل اعتبار ہیں۔
(عمدة القاري: 237/9)
اس بنا پر یہ حدیث ناقابل استدلال ہے۔
شادی بیاہ کے موقع پر اگر چھوہارے، بادام اور ٹافیاں وغیرہ کھلانی ہوں تو باعزت طریقے سے تقسیم کرنی چاہئیں، لیکن اسے سنت کا درجہ دینا محل نظر ہے۔
(2)
جنگ یا لڑائی کے موقع پر مقتول کی شکل و صورت بگاڑنے کا نام مثلہ ہے، اس طرح کہ اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹ دیے جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر دشمن سے بھی سلوک ایسا کرنے سے منع فرمایا، البتہ قصاصاً مثلے کا جواز ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے بعض حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہاروں کی لوٹ کھسوٹ جائز ہے، حالانکہ ایسا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے اور دینِ اسلام میں وقار کا بھی ایک مقام ہے۔
اس کے جواز میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکروں کو لوٹ مار سے منع کیا اور شادی بیاہ کے موقع پر اس کی اجازت دی ہے، اس کی سند کے متعلق امام بیہقی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی سند میں عون اور عصمہ دو راوی ناقابل اعتبار ہیں۔
(عمدة القاري: 237/9)
اس بنا پر یہ حدیث ناقابل استدلال ہے۔
شادی بیاہ کے موقع پر اگر چھوہارے، بادام اور ٹافیاں وغیرہ کھلانی ہوں تو باعزت طریقے سے تقسیم کرنی چاہئیں، لیکن اسے سنت کا درجہ دینا محل نظر ہے۔
(2)
جنگ یا لڑائی کے موقع پر مقتول کی شکل و صورت بگاڑنے کا نام مثلہ ہے، اس طرح کہ اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹ دیے جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر دشمن سے بھی سلوک ایسا کرنے سے منع فرمایا، البتہ قصاصاً مثلے کا جواز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2474]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5516
5516. سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: آپ نے رہزنی کرنے (ڈاکا مارنے) اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5516]
حدیث حاشیہ:
یہ جملہ احادیث اسلام کی رحم و کرم کی پاکیزہ ہدایات پر بین دلیل ہیں جن کے خلاف عمل کرنے والے اسلام کے نزدیک ملعون ہیں جو معاندین اسلامی رحم وکرم کے منکر ہیں ان کو ایسی پاکیزہ تعلیمات پر غور و فکر کرنا چاہیئے۔
صاف ہدایت ہے ''ارحَمُوا مَن في الأرضِ یرحَمکُم مَن في السماءِ“ لوگو! تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا سچ ہے:
کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر
یہ جملہ احادیث اسلام کی رحم و کرم کی پاکیزہ ہدایات پر بین دلیل ہیں جن کے خلاف عمل کرنے والے اسلام کے نزدیک ملعون ہیں جو معاندین اسلامی رحم وکرم کے منکر ہیں ان کو ایسی پاکیزہ تعلیمات پر غور و فکر کرنا چاہیئے۔
صاف ہدایت ہے ''ارحَمُوا مَن في الأرضِ یرحَمکُم مَن في السماءِ“ لوگو! تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا سچ ہے:
کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5516]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5516
5516. سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: آپ نے رہزنی کرنے (ڈاکا مارنے) اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5516]
حدیث حاشیہ:
ان تمام احادیث میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی ہدایت ہے۔
ان کے خلاف عمل کرنے والے اسلام اور اہل اسلام کے ہاں ملعون ہیں۔
جو مخالفینِ اسلام کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے انہیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا ہو گا، اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کسی حیوان کو بلا وجہ تنگ کیا جائے چہ جائیکہ اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بلا وجہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے۔
واللہ المستعان
ان تمام احادیث میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی ہدایت ہے۔
ان کے خلاف عمل کرنے والے اسلام اور اہل اسلام کے ہاں ملعون ہیں۔
جو مخالفینِ اسلام کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے انہیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا ہو گا، اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کسی حیوان کو بلا وجہ تنگ کیا جائے چہ جائیکہ اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بلا وجہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5516]
عدي بن ثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي