صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب إذا قال رجل لعبده هو لله. ونوى العتق، والإشهاد فى العتق:
باب: ایک شخص نے آزاد کرنے کی نیت سے اپنے غلام سے کہہ دیا کہ وہ اللہ کے لیے ہے (تو وہ آزاد ہو گیا) اور آزادی کے ثبوت کے لیے گواہ (ضروری ہیں)۔
حدیث نمبر: 2532
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ غُلَامُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْإِسْلَامَ، فَضَلَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِهَذَا، وَقَالَ: أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ لِلَّهِ".
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، آپ اسلام کے ارادے سے آ رہے تھے۔ اچانک راستے میں وہ غلام بھول کر الگ ہو گیا (پھر یہی حدیث بیان کی) اس میں یوں ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العتق/حدیث: 2532]
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو ان کے ہمراہ ان کا غلام بھی تھا۔ آپ اسلام قبول کرنے کے لیے آ رہے تھے تو ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے بھٹک گیا، پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العتق/حدیث: 2532]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2532 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2532
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوہریرہ ؓ کی نیت آزاد کرنے کی ہی تھی، اس لیے انہوں نے یہ لفظ استعمال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ پر گواہ بنایا، اسی سے باب کا مضمون ثابت ہوا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی نیت آزاد کرنے کی ہی تھی، اس لیے انہوں نے یہ لفظ استعمال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ پر گواہ بنایا، اسی سے باب کا مضمون ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2532]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2532
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ عنوان دو اجزاء پر مشتمل ہے:
٭ اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا:
وہ اللہ کے لیے ہے اور اس نے غلام آزاد کرنے کی نیت کی ہو تو غلام آزاد ہو جائے گا۔
٭ دوسرا غلام آزاد کرنے میں گواہی کا ذکر ہے۔
مذکورہ احادیث میں ان دونوں باتوں کا ثبوت ملتا ہے۔
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ وہ آزاد ہے یا اللہ کی رضا کے لیے اسے آزاد کیا یا وہ اللہ کے لیے ہے اور آزادی کی نیت کرے تو غلام آزاد ہو جائے گا بلکہ بات کرنے والے کی ہر بات جس سے آزادی کا مفہوم واضح ہو اس سے غلام آزاد ہو جاتا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ اس قسم کے غیر صریح الفاظ استعمال کرنے سے اس وقت آزادی معتبر ہو گی جب بات کرنے والے کی نیت آزاد کرنے کی ہو گی اور اگر آزادی کی نیت نہیں ہے تو آزاد نہیں ہو گا، البتہ (هو حر)
کے الفاظ آزادی کے لیے صریح ہیں، اس میں نیت کی ضرورت نہیں ہو گی بشرطیکہ بلا مقصد و ارادہ بے ساختہ زبان پر نہ آئے ہوں۔
(1)
مذکورہ عنوان دو اجزاء پر مشتمل ہے:
٭ اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا:
وہ اللہ کے لیے ہے اور اس نے غلام آزاد کرنے کی نیت کی ہو تو غلام آزاد ہو جائے گا۔
٭ دوسرا غلام آزاد کرنے میں گواہی کا ذکر ہے۔
مذکورہ احادیث میں ان دونوں باتوں کا ثبوت ملتا ہے۔
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ وہ آزاد ہے یا اللہ کی رضا کے لیے اسے آزاد کیا یا وہ اللہ کے لیے ہے اور آزادی کی نیت کرے تو غلام آزاد ہو جائے گا بلکہ بات کرنے والے کی ہر بات جس سے آزادی کا مفہوم واضح ہو اس سے غلام آزاد ہو جاتا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ اس قسم کے غیر صریح الفاظ استعمال کرنے سے اس وقت آزادی معتبر ہو گی جب بات کرنے والے کی نیت آزاد کرنے کی ہو گی اور اگر آزادی کی نیت نہیں ہے تو آزاد نہیں ہو گا، البتہ (هو حر)
کے الفاظ آزادی کے لیے صریح ہیں، اس میں نیت کی ضرورت نہیں ہو گی بشرطیکہ بلا مقصد و ارادہ بے ساختہ زبان پر نہ آئے ہوں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2532]
Sahih Bukhari Hadith 2532 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← أبو هريرة الدوسي