یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب الاستعارة للعروس عند البناء:
باب: شب عروسی میں دلہن کے لیے کوئی چیز عاریتاً لینا۔
حدیث نمبر: 2628
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، فَقَالَتْ: ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ، إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيرُهُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ قطر (یمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑا) کی قمیص قیمتی پانچ درہم کی پہنے ہوئے تھیں۔ آپ نے (مجھ سے) فرمایا۔ ذرا نظر اٹھا کر میری اس لونڈی کو تو دیکھ۔ اسے گھر میں بھی یہ کپڑے پہننے سے انکار ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کی ایک قمیص تھی۔ جب کوئی لڑکی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص عاریتاً منگا لیتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2628]
عبدالواحد بن ایمن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے والد (حضرت ایمن رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا تو انہوں نے روئی کا موٹا کرتا پہن رکھا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میری اس لونڈی کی طرف ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو یہ گھر میں اس قسم کا لباس پہننے سے نفرت کرتی ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں میرے پاس اسی طرح کا ایک کرتا تھا۔ مدینہ طیبہ میں جب بھی کسی عورت کو آراستہ کرنا ہوتا تو وہ مجھے پیغام بھیج کر منگوا لیتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2628
| ارفع بصرك إلى جاريتي انظر إليها فإنها تزهى أن تلبسه في البيت وقد كان لي منهن درع على عهد رسول الله فما كانت امرأة تقين بالمدينة إلا أرسلت إلي تستعيره |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2628 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2628
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اب ہمارے گھروں میں جس طرح کے کپڑے پہننے سے ہماری باندیوں کو انکار ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے ایسے کپڑے لوگ شادیوں میں استعمال کے لیے عاریتاً لے جایا کرتے تھے۔
اس سے کپڑوں کا عاریتاً لے جانا ثابت ہوا۔
حضرت عائشہ ؓ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اب ہمارے گھروں میں جس طرح کے کپڑے پہننے سے ہماری باندیوں کو انکار ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے ایسے کپڑے لوگ شادیوں میں استعمال کے لیے عاریتاً لے جایا کرتے تھے۔
اس سے کپڑوں کا عاریتاً لے جانا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2628]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2628
حدیث حاشیہ:
(1)
مقصد یہ ہے کہ شادی کی پہلی رات کے لیے کسی سے ادھار لباس لینا باعث ملامت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی یہ سلسلہ رائج تھا کہ ہنگامی صورت کے پیش نظر لباس ادھار لیا جاتا تھا۔
(2)
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کی تواضع اور انکساری کا بھی پتہ چلتا ہے، نیز ہمارے ہاں شادی کی پہلی رات کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روپے کا لباس تیار کیا جاتا ہے، اس حدیث کے پیش نظر یہ مستحسن اقدام نہیں بلکہ وقتی ضرورت کے لیے کسی سے ادھار لے لیا جائے۔
اگر مستقل کوئی لباس تیار کرنا ہے تو وہ گراں بھی نہ ہو اور زیادہ بھاری بھر کم بھی نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہو، وہ صرف صندوق کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔
(1)
مقصد یہ ہے کہ شادی کی پہلی رات کے لیے کسی سے ادھار لباس لینا باعث ملامت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی یہ سلسلہ رائج تھا کہ ہنگامی صورت کے پیش نظر لباس ادھار لیا جاتا تھا۔
(2)
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کی تواضع اور انکساری کا بھی پتہ چلتا ہے، نیز ہمارے ہاں شادی کی پہلی رات کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روپے کا لباس تیار کیا جاتا ہے، اس حدیث کے پیش نظر یہ مستحسن اقدام نہیں بلکہ وقتی ضرورت کے لیے کسی سے ادھار لے لیا جائے۔
اگر مستقل کوئی لباس تیار کرنا ہے تو وہ گراں بھی نہ ہو اور زیادہ بھاری بھر کم بھی نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہو، وہ صرف صندوق کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2628]
Sahih Bukhari Hadith 2628 in Urdu
أيمن ابن أم أيمن الحبشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق