🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ:
باب: کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، زَادَ مُسْلِمٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی کوئی زوجہ مطہرہ ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ اس حدیث میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر کی روایت میں شعبہ سے «من الجنابة‏» کا لفظ (زیادہ) ہے۔ (یعنی یہ جنابت کا غسل ہوتا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 264]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں میں سے کوئی بیوی ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ اس روایت میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر نے بواسطہ شعبہ یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ وہ غسل جنابت کا ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1345

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطامثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة مأمون
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← مسلم بن إبراهيم الفراهيدي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عبد الله الأنصاري
Newعبد الله بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن عبد الله الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
264
يغتسلان من إناء واحد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 264 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 264
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا کہ اسماعیل نے وہب کی روایت کو نکالا ہے۔
لیکن اس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
قسطلانی ؒ نے کہا کہ یہ تعلیق نہیں ہے، کیونکہ مسلم بن ابراہیم توامام بخاری ؒ کے شیخ ہیں اور وہب نے بھی جب وفات پائی توامام بخاری ؒ کی عمر اس وقت بارہ سال کی تھی۔
کیا تعجب ہے کہ آپ کو ان سے سماعت حاصل ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 264
� تشریح:
حافظ نے کہا کہ اسماعیل نے وہب کی روایت کو نکالا ہے۔ لیکن اس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ تعلیق نہیں ہے کیونکہ مسلم بن ابراہیم تو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں اور وہب نے بھی جب وفات پائی تو امام بخاری رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بارہ سال کی تھی۔ کیا تعجب ہے کہ آپ کو ان سے سماعت حاصل ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:264
حدیث حاشیہ:
1۔
ان احادیث کے بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کی ایک غرض تو پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونے کو ثابت کرنا ہے اور دوسری یہ کہ ضرورت کے وقت ہاتھ دھوئے بغیر بھی پانی میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور چلو میں پانی نکال سکتے ہیں، اگرچہ شریعت کی نظر میں پسند یدہ یہی ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر انھیں پانی میں ڈالا جائے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چار احادیث نقل کی ہیں، پہلی حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ غسل کرتے وقت ہمارے ہاتھ اس برتن میں یکے بعد دیگرے پڑتے تھے اور ظاہر ہے کہ ایسا بحالت جنابت ہوتا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نجاست حکمی (جنابت)
کا پانی پر کوئی اثر نہیں ہوتا، لیکن اس روایت میں غسل جنابت کی صراحت نہ تھی۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ ؓ کا یہ غسل نظافت یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے ہو، اس لیے دوسری روایت پیش فرمائی جس میں صراحت ہے کہ یہ غسل، غسل جنابت ہوتا تھا، لیکن اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھو لیتے اور یہ اس وقت ہوتا تھا جب آپ کو ہاتھ پر نجاست کا شبہ ہوتا، اگر ایسا ہو تو دھو کر برتن میں ڈالنا چاہیے، اگر کوئی شبہ نہ ہو بلکہ یقین ہو کہ ہاتھوں پر کوئی دوسری نجاست نہیں تو بغیر دھوئے بھی انھیں برتن میں ڈالا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتداءً یہ عمل اس احتیاط پر مبنی ہو کہ دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو۔
تیسری روایت میں برتن اور غسل جنابت دونوں کا یکجا ذکر ہے۔
ان تینوں روایات سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ روایات حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ اس طرح بحالت جنابت پانی لینے میں حضرت عائشہ ؓ کی کسی خصوصیت کو دخل ہو۔
امام بخاری ؒ نے چوتھی روایت لا کر اس شبہے کا ازالہ کر دیا، کیونکہ اس میں حضرت عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے۔
بہرحال امام بخاری کا منشا یہ ہے کہ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور ان کا تعلق جنابت سے ہے، پانی لینے کی کوئی بھی صورت ہو اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو غسل سے قبل پانی یا برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
ہاں اگر کوئی نجاست لگی ہو تو اسے غسل سے قبل ضرور دھو لینا چاہیے، اگر اسے دھوئے بغیر پانی یا برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو اس سے پانی نجس ہو جائے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

Sahih Bukhari Hadith 264 in Urdu