صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب سؤال الحاكم المدعي هل لك بينة قبل اليمين:
باب: مدعیٰ علیہ کو قسم دلانے سے پہلے حاکم کا مدعی سے یہ پوچھنا کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". قَالَ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ: وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ لَا، قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی اور انہیں اعمش نے انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا (کیونکہ میں مدعی تھا) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ”پھر تم قسم کھاؤ۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2666]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال ناحق ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر غضبناک ہوگا۔“ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! یہ میرے متعلق ایسا فرمایا کیونکہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین کے متعلق جھگڑا تھا۔ اس نے میرے حق کا انکار کر دیا۔ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: ”تو قسم اٹھا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو قسم اٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالیں۔۔۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2666 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2666
حدیث حاشیہ:
عدالت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مدعی سے گواہ طلب کرے۔
اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ علیہ سے قسم لے اگر مدعیٰ علیہ جھوٹی قسم کھاتا ہے تو وہ سخت گنہگار ہوگا، مگر عدالت میں بہت لوگ جھوٹ سے بچنا ضروری نہیں جانتے حالانکہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
ایسی ہی جھوٹی قسم کھاکر کسی کا مال ہڑپ کرنا اکبر الکبائر یعنی بہت ہی بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
عدالت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مدعی سے گواہ طلب کرے۔
اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ علیہ سے قسم لے اگر مدعیٰ علیہ جھوٹی قسم کھاتا ہے تو وہ سخت گنہگار ہوگا، مگر عدالت میں بہت لوگ جھوٹ سے بچنا ضروری نہیں جانتے حالانکہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
ایسی ہی جھوٹی قسم کھاکر کسی کا مال ہڑپ کرنا اکبر الکبائر یعنی بہت ہی بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2666]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2666
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے مطابق عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے مدعی سے گواہ طلب کرے، اگر وہ گواہ یا دعویٰ کے لیے کوئی ثبوت نہ پیش کر سکے تو مدعا علیہ سے قسم لے۔
اگر وہ جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہو گا اور اگر اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو عدالت اسے سزا دے سکتی ہے کیونکہ جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔
اور جھوٹی قسم اٹھا کر کسی کا مال ہڑپ کرنا اس سے بڑا جرم ہے۔
اس حدیث کے مطابق عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے مدعی سے گواہ طلب کرے، اگر وہ گواہ یا دعویٰ کے لیے کوئی ثبوت نہ پیش کر سکے تو مدعا علیہ سے قسم لے۔
اگر وہ جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہو گا اور اگر اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو عدالت اسے سزا دے سکتی ہے کیونکہ جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔
اور جھوٹی قسم اٹھا کر کسی کا مال ہڑپ کرنا اس سے بڑا جرم ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2666]
Sahih Bukhari Hadith 2666 in Urdu
عبد الله بن مسعود ← أشعث بن قيس الكندي