🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2787
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو (خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کیلئے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت (گھر) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2787]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔ اور یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کون کرتا ہے۔۔۔ اس روزہ دار کی طرح ہے جو رات بھر قیام میں مصروف رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ اسے وفات دے کر جنت میں داخل کر دے گا یا اجر و غنیمت سمیت اسے سلامتی سے واپس کرے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7732

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2787
مثل المجاهد في سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصائم القائم توكل الله للمجاهد في سبيله بأن يتوفاه أن يدخله الجنة أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة
صحيح مسلم
4869
مثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم القانت بآيات الله لا يفتر من صيام ولا صلاة حتى يرجع المجاهد في سبيل الله
سنن النسائى الصغرى
3126
مثل المجاهد في سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم توكل الله للمجاهد في سبيله بأن يتوفاه فيدخله الجنة أو يرجعه سالما بما نال من أجر أو غنيمة
سنن النسائى الصغرى
3129
مثل المجاهد في سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصائم القائم الخاشع الراكع الساجد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2787 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2787
حدیث حاشیہ:
یعنی نیت کا حال خدا ہی کو خوب معلوم ہے کہ وہ مخلص ہے یا نہیں‘ اگر مخلص ہے تو وہ مجاہد ہوگا ورنہ کوئی دنیا کے مال و جاہ اور ناموری کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ نہیں ہے۔
مثال میں نماز پڑھنے سے نماز نفل اسی طرح روزہ رکھنے سے نفل روزہ مراد ہے کہ کوئی شخص دن بھر نفل روزے رکھتا ہو اور رات بھر نفل نماز پڑھتا ہو‘ مجاہد کا درجہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2787]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2787
حدیث حاشیہ:
1۔
اللہ تعالیٰ نے مجاہد کے لیے ضمانت دی ہے کہ اگروہ شہید ہوجائے تو اسے مرنے کے فوراً بعد جنت میں داخل کردے گا۔
اور اگر وہ اللہ کی راہ میں کام نہ آئے بلکہ وہ سلامتی کے ساتھ واپس آجائے تو اللہ تعالیٰ ثواب اور غنیمت عطا کرے گا،یہ نہیں ہوسکتا کہ سلامتی کی صورت میں اسے کچھ حاصل نہ ہو،بلکہ اسے غنیمت اور اجر دونوں ملیں گے یا کم از ایک توضرور ملےگا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نیت کاحال تو اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے،اگر وہ مخلص ہے تو وہ مجاہد ہوگا اگرمخلص نہیں بلکہ دنیا کے مال ومتاع یا اپنی شہرت کے لیے میدان جنگ میں اترا ہے تو وہ مجاہد فی سبیل اللہ نہیں ہے اور نہ وہ اللہ کے ہاں کسی قسم کے اجر کا ہی حق دار ہے،نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مجاہد فی سبیل اللہ کا کوئی لمحہ بھی اجروثواب سے خالی نہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ﴿١٢٠﴾ وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)
”مجاہدین اللہ کی راہ میں پیاس،تکان اور بھوک کی جو بھی مصیبت برداشت کرتے ہیں یا کوئی ایسا مقام طے کرتے ہیں جو کافروں کو ناگوار ہویا دشمن پر ہو کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اچھے کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا،نیز یہ مجاہدین جو بھی تھوڑا یا زیادہ خرچ کرتے ہیں یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو یہ چیزیں ان کے حق میں لکھ دی جاتی تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا بہترصلہ دے جو وہ کرتے ہیں۔
“ (التوبة: 9/: 120۔
121)
یعنی جہاد کے سفر میں مجاہد کے ہر ایک فعل کے بدلے ایک عمل صالح،اس کے اعمال نامے میں لکھ دیاجاتا ہے،خواہ اس کا یہ فعل اختیاری ہو یا غیر اختیاری،ان تمام کاموں کا اللہ کے ہاں اسے اجر ملے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2787]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3126
اللہ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے کس بات کی ضمانت لیتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال (اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا (موت نہیں دے گا تو) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3126]
اردو حاشہ:
”اللہ ہی جانتا ہے“ کیونکہ نیت مخفی چیز ہے۔ لوگ تو ظاہر دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دل کو بھی دیکھتا ہے۔ فضیلت اسی کو حاصل ہوگی جو خالصتاً لوجہ اللہ جہاد کو جاتا ہے۔ اگر کوئی اور آلائش اس میں داخل ہوگئی تو یہ جہاد بجائے جنت کے جہنم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3126]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3129
اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی مثال۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے (اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں (واقعی) جہاد کرنے والا کون ہے)۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3129]
اردو حاشہ:
”مسلسل“ یعنی جب سے وہ جہاد کو نکلا ہے، اس کی واپسی تک کوئی شخص لگا تار روزے اور نماز کی حالت میں رہے۔ ایک لمحہ بھی سستی نہ کرے۔ ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہے۔ گویا جہاد کے برابر کوئی اور عمل نہیں۔ یا اسی فرضی صورت کا جو ثواب فرض کیا جائے گا، وہ مجاہد کو ملے گا بشرطیکہ خالصتاً لوجہ اللہ جہاد کررہا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3129]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4869
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کون سی چیز اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے بس میں نہیں ہے۔“ تو صحابہ کرام نے دوبارہ یا سہ بارہ آپ کے سامنے سوال کا اعادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دفعہ یہی فرماتے، ”وہ تمہارے بس میں نہیں ہے۔“ تیسری مرتبہ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال، اس انسان کی طرح ہے جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے (زندگی میں) اللہ تعالیٰ کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4869]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان کے لیے یہ بہت مشکل کام ہے کہ وہ ہمیشہ دن بھر روزہ رکھے،
رات کو قیام کرے اور اپنی پوری زندگی ہر قسم کے گرم و سرد اچھے،
برے حالات فرمانبردارانہ گزارے اور اس میں کسی قسم کی سستی اور کاہلی نہ دکھائے،
لیکن اخلاص کے ساتھ جہاد میں رہنے سے،
اس کو یہ درجہ حاصل ہو جاتا ہے،
اگرچہ وہاں ہر وقت اور ہر حالت میں جنگ نہیں ہو رہی ہوتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4869]

Sahih Bukhari Hadith 2787 in Urdu