علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب حفر الخندق:
باب: خندق کھودنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ، يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِل السَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري | ثقة مكثر | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر حفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2837
| ينقل التراب وقد وارى التراب بياض بطنه لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2837 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2837
حدیث حاشیہ:
حدیث میں ذکر کردہ آخری الفاظ أن الأولی قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا کا مطلب یہ کہ یا اللہ! دشمنوں نے خواہ مخواہ ہمارے خلاف قدم اٹھایا اور ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے‘ اس لیے مجبوراً ہم کو ان کے جواب میں میدان میں آنا پڑا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ اسلامی جنگ مدافعانہ ہوتی ہے جس کا مقصد عظیم فتنہ فساد کو فرو کرکے امن و امان کی فضا پیدا کرنا ہوتا ہے۔
جو لوگ اسلام پر قتل و غارت گری کا الزام لگاتے ہیں وہ حق سے سراسر ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہیں۔
حدیث میں ذکر کردہ آخری الفاظ أن الأولی قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا کا مطلب یہ کہ یا اللہ! دشمنوں نے خواہ مخواہ ہمارے خلاف قدم اٹھایا اور ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے‘ اس لیے مجبوراً ہم کو ان کے جواب میں میدان میں آنا پڑا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ اسلامی جنگ مدافعانہ ہوتی ہے جس کا مقصد عظیم فتنہ فساد کو فرو کرکے امن و امان کی فضا پیدا کرنا ہوتا ہے۔
جو لوگ اسلام پر قتل و غارت گری کا الزام لگاتے ہیں وہ حق سے سراسر ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2837]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2837
حدیث حاشیہ:
1۔
جنگ احزاب میں جملہ اقوام عرب نے متحد ہوکر اسلام کے خلاف یلغار کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں ذلیل وخوار کرکے لوٹادیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ سے پہلے میدان کار کو کافروں سے قتال و جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے رزمیہ اشعار پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓکے مذکورہ اشعار پڑھے ہیں۔
اس قسم کے اشعار غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت عامر بن اکوع ؓسے بھی منقول ہیں۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث 6148)
2۔
واضح رہے کہ مذکورہ خندق مدینہ طیبہ کے اردگرد نہیں بلکہ اس جانب کھودی گئی تھی جو بالکل کھلا حصہ تھا۔
مسلمانوں کا لشکر جبل سلع کے نیچے تھا۔
وہ خندق جبل سلع اورمشرکین کے درمیان تھی اور اسے طول میں پھیلادیا گیا تھا اور اسے مدینہ طیبہ کے شمالی جانب حرہ کی طرف شرقاً غرباً کھوداگیاتھا۔
واللہ أعلم۔
1۔
جنگ احزاب میں جملہ اقوام عرب نے متحد ہوکر اسلام کے خلاف یلغار کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں ذلیل وخوار کرکے لوٹادیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ سے پہلے میدان کار کو کافروں سے قتال و جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے رزمیہ اشعار پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓکے مذکورہ اشعار پڑھے ہیں۔
اس قسم کے اشعار غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت عامر بن اکوع ؓسے بھی منقول ہیں۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث 6148)
2۔
واضح رہے کہ مذکورہ خندق مدینہ طیبہ کے اردگرد نہیں بلکہ اس جانب کھودی گئی تھی جو بالکل کھلا حصہ تھا۔
مسلمانوں کا لشکر جبل سلع کے نیچے تھا۔
وہ خندق جبل سلع اورمشرکین کے درمیان تھی اور اسے طول میں پھیلادیا گیا تھا اور اسے مدینہ طیبہ کے شمالی جانب حرہ کی طرف شرقاً غرباً کھوداگیاتھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2837]
Sahih Bukhari Hadith 2837 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري