صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب من استعان بالضعفاء والصالحين فى الحرب:
باب: لڑائی میں کمزور ناتواں (جیسے عورتیں، بچے، اندھے، معذور اور مساکین) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا۔
حدیث نمبر: Q2896
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ لِي: قَيْصَرُ سَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ، فَزَعَمْتَ ضُعَفَاءَهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ.
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ کو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ مجھ سے قیصر (ملک روم) نے کہا کہ میں نے تم سے پوچھا کہ امیر لوگوں نے ان (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کی ہے یا کمزور غریب طبقہ والوں نے؟ تم نے بتایا کہ کمزور غریب طبقے نے (ان کی اتباع کی ہے) اور انبیاء کا پیروکار یہی طبقہ ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2896]
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے مصعب ابن سعد نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر (اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2896
| هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم |
سنن النسائى الصغرى |
3180
| ينصر الله هذه الأمة بضعيفها بدعوتهم وصلاتهم وإخلاصهم |
المعجم الصغير للطبراني |
993
| وهل ترزقون وتنصرون إلا بضعفائكم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2896 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2896
حدیث حاشیہ:
قال ابن بطال تأویله أن الضعفاء أشد إخلاصا في الدعاء وأکثر خشوعا في العبادة لخلاء قلوبھم عن التعلق بزخرف الدنیا (فتح)
یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔
اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔
قال ابن بطال تأویله أن الضعفاء أشد إخلاصا في الدعاء وأکثر خشوعا في العبادة لخلاء قلوبھم عن التعلق بزخرف الدنیا (فتح)
یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔
اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2896]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2896
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنی دولت مندی،شجاعت اور تیراندازی میں مہارت کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ وہ دوسروں سے برترہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور انھیں بتایا کہ انھی نیک فطرت اور پریشان حال لوگوں کی دعاؤں سے تمھیں مدد ملتی ہے اور انھی کی برکت سے تمھیں رزق میسر آتاہے کیونکہ ان کی عبادت میں اخلاص اور ان کی دعاؤں میں خشوع ہوتاہے، نیز دنیاوی زیب وزینت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے ثابت کیا ہے کہ ایک مجاہد اگراپنی بہادری کی وجہ سے اللہ کے ہاں مرتبہ حاصل کرتا ہے توایک کمزور و ناتواں اپنی مسکینی اور عاجزی کی بنا پراللہ کے ہاں مقام بنالیتا ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں اترنے والےتمام مجاہدین مال غنیمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
بہادراپنی بہادری کی وجہ سے اور کمزور اپنی مخلصانہ دعاؤں کی وجہ سے،اس لیے میدان جنگ میں کمزور لوگوں سے کامیابی کی دعا کرانا بہت ہی خیر و برکت کاباعث ہے۔
1۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنی دولت مندی،شجاعت اور تیراندازی میں مہارت کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ وہ دوسروں سے برترہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور انھیں بتایا کہ انھی نیک فطرت اور پریشان حال لوگوں کی دعاؤں سے تمھیں مدد ملتی ہے اور انھی کی برکت سے تمھیں رزق میسر آتاہے کیونکہ ان کی عبادت میں اخلاص اور ان کی دعاؤں میں خشوع ہوتاہے، نیز دنیاوی زیب وزینت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے ثابت کیا ہے کہ ایک مجاہد اگراپنی بہادری کی وجہ سے اللہ کے ہاں مرتبہ حاصل کرتا ہے توایک کمزور و ناتواں اپنی مسکینی اور عاجزی کی بنا پراللہ کے ہاں مقام بنالیتا ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں اترنے والےتمام مجاہدین مال غنیمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
بہادراپنی بہادری کی وجہ سے اور کمزور اپنی مخلصانہ دعاؤں کی وجہ سے،اس لیے میدان جنگ میں کمزور لوگوں سے کامیابی کی دعا کرانا بہت ہی خیر و برکت کاباعث ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2896]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3180
کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
اردو حاشہ:
1) ”فضیلت حاصل ہے“ کیونکہ وہ اولین مسلما نوں میں سے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ثُلُثُ الْأِسْلاَم (اسلام کا تیسرا حصہ) کہتے تھے‘ یعنی وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوئے۔ (2)اس حدیث میں ضعیف سے مراد وہ نیک بزرگ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ جسمانی طور پر معذور یا ضعیف ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی دعائیںمسلمانو ں کی فتح کا موجب بنتی ہیں‘ لہٰذا انہیں نکمے‘ بے کاریا حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
1) ”فضیلت حاصل ہے“ کیونکہ وہ اولین مسلما نوں میں سے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ثُلُثُ الْأِسْلاَم (اسلام کا تیسرا حصہ) کہتے تھے‘ یعنی وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوئے۔ (2)اس حدیث میں ضعیف سے مراد وہ نیک بزرگ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ جسمانی طور پر معذور یا ضعیف ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی دعائیںمسلمانو ں کی فتح کا موجب بنتی ہیں‘ لہٰذا انہیں نکمے‘ بے کاریا حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3180]
Sahih Bukhari Hadith 2896 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري