🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب المجن ومن يتترس بترس صاحبه:
باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2903
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ:" لَمَّا كُسِرَتْ بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِهِ فَرَقَأَ الدَّمُ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہید ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥يعقوب بن عبد الرحمن القاري
Newيعقوب بن عبد الرحمن القاري ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن عفير الأنصاري، أبو عثمان
Newسعيد بن عفير الأنصاري ← يعقوب بن عبد الرحمن القاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2903
كسرت بيضة النبي على رأسه وأدمي وجهه وكسرت رباعيته عمدت إلى حصير فأحرقتها وألصقتها على جرحه فرقأ الدم
صحيح البخاري
2911
جرح وجه النبي وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على رأسه أخذت حصيرا فأحرقته حتى صار رمادا ثم ألزقته فاستمسك الدم
صحيح مسلم
4642
جرح وجه رسول الله وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على رأسه أخذت قطعة حصير فأحرقته حتى صار رمادا ثم ألصقته بالجرح فاستمسك الدم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2903 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2903
حدیث حاشیہ:
دندان مبارک کو صدمہ پہنچانے والا عتبہ بن ابی وقاص مردود تھا‘ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر ایک پتھر مارا مگر فوراً ہی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓنے ایک ہی ضرب سے اس کی گردن اڑا دی۔
اور عبداللہ بن قمیہ مردود نے پتھر مارے۔
آپ نے فرمایا اللہ تجھے تباہ کرے۔
ایسا ہی ہوا کہ ایک پہاڑی بکری نے نکل کر اس کو سینگوں سے ایسا مارا کہ ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
سچ ہے وہ لوگ کس طرح فلاح پاسکتے ہیں جن کے ہاتھوں نے اپنے زمانہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو زخمی کردیا ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2903]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2903
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کے مطابق ڈھال کو تحفظ کے علاوہ ایک اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا وہ یہ کہ حضرت علی ؓ اس میں پانی بھر کر لاتے تھے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کو دھویاجائے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ڈھال درمیان سے گہری تھی۔

بیماری اورتکلیف کا علاج کروانا توکل کے منافی نہیں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے اور آپ سب لوگوں سے بڑھ کر توکل کرنے والے تھے۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ڈھال سے تحفظ حاصل کیا جاسکتاہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2903]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4642
ابو حازم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رباعی دانت توڑ ڈالا گیا اور آپ کے سر پر خود توڑ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ، خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4642]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
هُشِمَتِ البَيضة:
خود کو توڑ دیا گیا۔
(2)
يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ:
وہ خود سے زخم پر پانی ڈال رہے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4642]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2911
2911. حضرت سہل ؓسے روایت ہے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق پوچھا گیا جو غزوہ احد میں لگا تھاتو انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوا۔ آپ کے اگلے دانت بھی متاثر ہوئے۔ اور آپ کے سر مبارک کا خود بھی ٹوٹ گیا۔ سیدہ فاطمہ ؓ خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی ؓپانی ڈال رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ ؓنے دیکھا کہ خون زیادہ بہہ رہا ہے۔ تو انھوں نے چٹائی لی، اسے جلایا حتیٰ کہ وہ راکھ ہوگئی، پھر انہوں نے اس سے زخم کو بھردیا تو خون رک گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2911]
حدیث حاشیہ:
جنگ احد میں سب سے زیادہ المناک حادثہ یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چوٹیں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے۔
چہرہ کا زخم ابن قمیہ کے ہاتھوں سے ہوا اور دانتوں کا صدمہ عتبہ ابن ابی وقاص کے ہاتھوں سے پہنچا اور خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر توڑنے والا عبداللہ بن ہشام تھا۔
خود‘ لوہے کا ٹوپ جو سر کی حفاظت کے لئے سر ہی پر پہنا جاتا ہے۔
حدیث سے اس کا پہننا ثابت ہوا۔
جنگ احد کے تفصیلی حالات کتاب المغازی میں آئیں گے‘ إن شاء اللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2911]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2911
2911. حضرت سہل ؓسے روایت ہے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق پوچھا گیا جو غزوہ احد میں لگا تھاتو انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوا۔ آپ کے اگلے دانت بھی متاثر ہوئے۔ اور آپ کے سر مبارک کا خود بھی ٹوٹ گیا۔ سیدہ فاطمہ ؓ خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی ؓپانی ڈال رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ ؓنے دیکھا کہ خون زیادہ بہہ رہا ہے۔ تو انھوں نے چٹائی لی، اسے جلایا حتیٰ کہ وہ راکھ ہوگئی، پھر انہوں نے اس سے زخم کو بھردیا تو خون رک گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2911]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جنگی ہتھیاروں کا استعمال جائز ہے اور یہ تو کل کے منافی نہیں چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک پر خود پہنا۔
خود اس لوہے کی ٹوپی کو کہتے ہیں جو جنگ میں سر کی حفاظت کے لیے پہنی جاتی ہے۔

اس حدیث سے کود کا پہننا ثابت ہوا۔
اگرچہ اس قسم کے ہتھیار انسان کو موت سے نہیں بچا سکتے تاہم اسباب و ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسا کرنا دلوں میں مضبوطی کا باعث ہو۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2911]