علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب حمل الزاد فى الغزو:
باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَفَّتْ أَزْوَادُ النَّاسِ، وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبِلِكُمْ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَادِ فِي النَّاسِ يَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، فَدَعَا وَبَرَّكَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَى النَّاسُ حَتَّى فَرَغُوا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ".
ہم سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہونے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لینے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس اجازت کی اطلاع انہیں بھی ان لوگوں نے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا، ان اونٹوں کے بعد پھر تمہارے پاس باقی کیا رہ جائے گا (کیونکہ انہیں پر سوار ہو کر اتنی دور دراز کی مسافت بھی تو طے کرنی تھی) اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! لوگ اگر اپنے اونٹ بھی ذبح کر دیں گے۔ تو پھر اس کے بعد ان کے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگوں میں اعلان کر دو کہ (اونٹوں کو ذبح کرنے کے بجائے) اپنا بچا کچھا توشہ لے کر یہاں آ جائیں۔ (سب لوگوں نے جو کچھ بھی ان کے پاس کھانے کی چیز باقی بچ گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور اس میں برکت ہوئی۔ پھر سب کو ان کے برتنوں کے ساتھ آپ نے بلایا۔ سب نے بھربھر کر اس میں سے لیا۔ اور جب سب لوگ فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2484
| ناد في الناس فيأتون بفضل أزوادهم فبسط لذلك نطع وجعلوه على النطع فقام رسول الله فدعا وبرك عليه ثم دعاهم بأوعيتهم فاحتثى الناس حتى فرغوا ثم قال رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله |
صحيح البخاري |
2982
| ناد في الناس يأتون بفضل أزوادهم فدعا وبرك عليه ثم دعاهم بأوعيتهم فاحتثى الناس حتى فرغوا ثم قال رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2982 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2982
حدیث حاشیہ:
یہ معجزہ دیکھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت پر گواہی دی‘ معجزہ اللہ پاک کی طرف سے ہوتا ہے جسے وہ اپنے رسولوں کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں سے دکھلایا کرتا ہے۔
حضرت عمر ؓنے یہ اس لئے فرمایا کہ اونٹ تمام ذبح کر دئیے جاتے تو پھر فوجی مسلمان سواری کس پر کرتے اور سارا سفر پیدل کرنا بے حد مشکل تھا۔
یہ مشورہ صحیح تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا اور بعد میں سارے فوجیوں کے راشن کو جو باقی رہ گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھا کرا کر برکت کی دعا فرمائی اور اللہ نے اس میں اتنی برکت دی کہ سارے فوجیوں کو کافی ہوگیا۔
معجزے کا وجود برحق ہے۔
مگر یہ اللہ کی مرضی پر ہے وہ جب چاہے اپنے مقبول بندوں کے ہاتھوں یہ دکھلائے۔
خود رسولوں کو اپنے طور پر اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔
﴿ذالكَ فضلُ اللہِ یؤتیهِ مَن یشاءُ﴾ اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ حُسْنُ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَتُهُ إِلَى مَا يَلْتَمِسُ مِنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِجْرَاؤُهُمْ عَلَى الْعَادَةِ الْبَشَرِيَّةِ فِي الِاحْتِيَاجِ إِلَى الزَّادِ فِي السَّفَرِ وَمَنْقَبَةٌ ظَاهِرَةٌ لِعُمَرَ دَالَّةٌ عَلَى قُوَّةِ يَقِينِهِ بِإِجَابَةِ دُعَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى حُسْنِ نَظَرِهِ لِلْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ فِي إِجَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ عَلَى نَحْرِ إِبِلِهِمْ مَا يَتَحَتَّمُ أَنَّهُمْ يَبْقَوْنَ بِلَا ظَهْرٍ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ لَهُمْ مَا يَحْمِلُهُمْ مِنْ غَنِيمَةٍ وَنَحْوِهَا لَكِنْ أَجَابَ عُمَرُ إِلَى مَا أَشَارَ بِهِ لِتَعْجِيلِ الْمُعْجِزَةِ بِالْبَرَكَةِ الَّتِي حَصَلَتْ فِي الطَّعَامِ وَقَدْ وَقَعَ لِعُمَرَ شَبِيهٌ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي المَاء وَذَلِكَ فِيمَا أخرجه بن خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ وَسَتَأْتِي الْإِشَارَةُ إِلَيْهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ الخ (فتح الباري)
یعنی اس حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ پر روشنی پڑتی ہے اور اس پر بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے کسی بھی بارے میں التماس کرنے پر فوراً توجہ فرماتے اور سفر میں توشہ راشن وغیرہ حاجات انسانی کا ان کے لئے پورا پورا خیال رکھتے تھے۔
اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی قبولیت پر کس قدر یقین کامل تھا اور مسلمانوں کے متعلق ان کی کتنی اچھی نظر تھی۔
وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جو اونٹوں کو ذبح کرنے کا مشورہ دیا ہے یہ اس احتمال پر ہے کہ ان کو ذبح کرنے کے بعد بھی اللہ پاک ان کے لئے غنیمت وغیرہ سے سواریوں کا انتظام کرا ہی دے گا۔
لیکن حضرت عمر ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعاؤں کے لئے عجلت فرمائی تاکہ بطور معجزہ کھانے میں برکت حاصل ہو اور اونٹوں کو ذبح کرنے کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔
ایک دفعہ پانی کے قصہ میں بھی حضرت عمر ؓ کو اسی کے مشابہ معاملہ پیش آیا تھا۔
جس کا اشارہ علامات النبوۃ میں آئے گا۔
بعض فقہاء نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ گرانی کے وقت امام لوگوں کے فالتو غلہ کے ذخیروں کو بازار میں فروخت کے لئے حکماً نکلوا سکتا ہے۔
اس لئے کہ لوگوں کے لئے اسی میں خیر ہے نہ کہ غلہ کے پوشیدہ رکھنے میں۔
یہ معجزہ دیکھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت پر گواہی دی‘ معجزہ اللہ پاک کی طرف سے ہوتا ہے جسے وہ اپنے رسولوں کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں سے دکھلایا کرتا ہے۔
حضرت عمر ؓنے یہ اس لئے فرمایا کہ اونٹ تمام ذبح کر دئیے جاتے تو پھر فوجی مسلمان سواری کس پر کرتے اور سارا سفر پیدل کرنا بے حد مشکل تھا۔
یہ مشورہ صحیح تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا اور بعد میں سارے فوجیوں کے راشن کو جو باقی رہ گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھا کرا کر برکت کی دعا فرمائی اور اللہ نے اس میں اتنی برکت دی کہ سارے فوجیوں کو کافی ہوگیا۔
معجزے کا وجود برحق ہے۔
مگر یہ اللہ کی مرضی پر ہے وہ جب چاہے اپنے مقبول بندوں کے ہاتھوں یہ دکھلائے۔
خود رسولوں کو اپنے طور پر اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔
﴿ذالكَ فضلُ اللہِ یؤتیهِ مَن یشاءُ﴾ اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ حُسْنُ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَتُهُ إِلَى مَا يَلْتَمِسُ مِنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِجْرَاؤُهُمْ عَلَى الْعَادَةِ الْبَشَرِيَّةِ فِي الِاحْتِيَاجِ إِلَى الزَّادِ فِي السَّفَرِ وَمَنْقَبَةٌ ظَاهِرَةٌ لِعُمَرَ دَالَّةٌ عَلَى قُوَّةِ يَقِينِهِ بِإِجَابَةِ دُعَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى حُسْنِ نَظَرِهِ لِلْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ فِي إِجَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ عَلَى نَحْرِ إِبِلِهِمْ مَا يَتَحَتَّمُ أَنَّهُمْ يَبْقَوْنَ بِلَا ظَهْرٍ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ لَهُمْ مَا يَحْمِلُهُمْ مِنْ غَنِيمَةٍ وَنَحْوِهَا لَكِنْ أَجَابَ عُمَرُ إِلَى مَا أَشَارَ بِهِ لِتَعْجِيلِ الْمُعْجِزَةِ بِالْبَرَكَةِ الَّتِي حَصَلَتْ فِي الطَّعَامِ وَقَدْ وَقَعَ لِعُمَرَ شَبِيهٌ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي المَاء وَذَلِكَ فِيمَا أخرجه بن خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ وَسَتَأْتِي الْإِشَارَةُ إِلَيْهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ الخ (فتح الباري)
یعنی اس حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ پر روشنی پڑتی ہے اور اس پر بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے کسی بھی بارے میں التماس کرنے پر فوراً توجہ فرماتے اور سفر میں توشہ راشن وغیرہ حاجات انسانی کا ان کے لئے پورا پورا خیال رکھتے تھے۔
اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی قبولیت پر کس قدر یقین کامل تھا اور مسلمانوں کے متعلق ان کی کتنی اچھی نظر تھی۔
وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جو اونٹوں کو ذبح کرنے کا مشورہ دیا ہے یہ اس احتمال پر ہے کہ ان کو ذبح کرنے کے بعد بھی اللہ پاک ان کے لئے غنیمت وغیرہ سے سواریوں کا انتظام کرا ہی دے گا۔
لیکن حضرت عمر ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعاؤں کے لئے عجلت فرمائی تاکہ بطور معجزہ کھانے میں برکت حاصل ہو اور اونٹوں کو ذبح کرنے کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔
ایک دفعہ پانی کے قصہ میں بھی حضرت عمر ؓ کو اسی کے مشابہ معاملہ پیش آیا تھا۔
جس کا اشارہ علامات النبوۃ میں آئے گا۔
بعض فقہاء نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ گرانی کے وقت امام لوگوں کے فالتو غلہ کے ذخیروں کو بازار میں فروخت کے لئے حکماً نکلوا سکتا ہے۔
اس لئے کہ لوگوں کے لئے اسی میں خیر ہے نہ کہ غلہ کے پوشیدہ رکھنے میں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2982]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2982
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عمر ؓ بہت صائب الرائے تھے جب انھوں نے یہ مشورہ دیا کہ جب اونٹ ذبح کر دیے جائیں گے تو مجاہدین کس پر سواری کریں گے اور سارا سفر پیدل طے کرنا بے حد مشکل ہے۔
چونکہ یہ مشورہ صحیح تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا:
اور باقی ماندہ راشن جمع کرنے کا حکم دیا۔
آپ نے برکت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت دی کہ تمام مجاہدین کو کافی ہو گیا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر میں اپنے صحابہ کرام ؓ کی ضروریات کا بہت خیال رکھتے تھے۔
3۔
امام بخاری ؓ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ دوران سفر میں زاداہ ہمراہ رکھنا چاہیے۔
ایسا کرنا تو کل کے خلاف نہیں۔
واللہ المستعان۔
1۔
حضرت عمر ؓ بہت صائب الرائے تھے جب انھوں نے یہ مشورہ دیا کہ جب اونٹ ذبح کر دیے جائیں گے تو مجاہدین کس پر سواری کریں گے اور سارا سفر پیدل طے کرنا بے حد مشکل ہے۔
چونکہ یہ مشورہ صحیح تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا:
اور باقی ماندہ راشن جمع کرنے کا حکم دیا۔
آپ نے برکت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت دی کہ تمام مجاہدین کو کافی ہو گیا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر میں اپنے صحابہ کرام ؓ کی ضروریات کا بہت خیال رکھتے تھے۔
3۔
امام بخاری ؓ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ دوران سفر میں زاداہ ہمراہ رکھنا چاہیے۔
ایسا کرنا تو کل کے خلاف نہیں۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2982]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2484
2484. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے نے کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کا سامان خورو نوش ختم ہو گیا اور وہ محتاج ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ان لوگوں سے حضرت عمر ؓ ملے تو انھوں نے ان سے ماجرا بیان کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اونٹوں کے بعد تمھاری زندگی کا انحصار کس پر ہو گا؟ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اونٹ ذبح کرنے کے بعد ان کی زندگی کیسے گزرے گی؟آپ نے فرمایا: ”لوگوں میں اعلان کرو کہ وہ اپنا اپنا کھانے پینے کا بقیہ سامان لے کرمیرے پاس حاضر ہوں۔“ پھر چمڑے کا ایک دسترخوان بچھا دیا گیا اور تمام سامان اس پر ڈال دیا گیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خیروبرکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے تمام لوگوں کو برتنوں سمیت بلایا۔ چنانچہ لوگوں نے دونوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2484]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں ایک اہم ترین معجزہ نبوی کا ذکر ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر کی۔
یا توہ وہ توشہ اتنا کم تھا کہ لوگ اپنی سواریاں کاٹنے پر آمادہ ہو گئے یا وہ اس قدر بڑھ گیا کہ فراغت سے ہر ایک نے اپنی خواہش کے موافق بھر لیا۔
اس قسم کے معجزات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار صادر ہوئے ہیں۔
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے توشے اکٹھا کرنے کا حکم دیا، پھر ہر ایک نے یوں ہی اندازے سے لے لیا، آپ نے تول ماپ کر اس کو تقسیم نہیں کیا۔
حدیث اور باب کی مطابقت کے سلسلہ میں شارحین بخاری لکھتے ہیں:
و مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله فیاتون بفضل أزوادهم و من قوله فدعا و برك علیه فإن جمع أزوادهم و هو في معنی النهد و دعاءالنبي صلی اللہ علیه وسلم بالبرکة۔
(عینی)
یعنی حدیث اور باب میں مطابقت لفظ فیاتون الخ سے ہے کہ ایسے مواقع پر ان سب نے اپنے اپنے توشے لا کر جمع کر دیئے اور اس قول سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی۔
یہاں ان کے توشے جمع کرنا مذکورہے اور وہ نہد کے معنی میں ہے یعنی اپنے اپنے حصے برابر برابر لا کر جمع کر دینا۔
اور ا س میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا برکت کے لیے دعا فرمانا۔
لفظ نہد یا نہد آگے بڑھنا، ”نمودار ہونا، مقابل ہونا“ ظاہر ہونا، بڑا کرنے کے معنی میں ہے۔
اسی سے لفظ تناہد ہے۔
جس کے معنی سفر کے سب رفیقوں کا ایک معین روپیہ یا راشن توشہ جمع کرنا کہ اس سے سفر کی خوردنی ضروریات کو مساوی طور پر پورا کیا جاے یہاں ایسا ہی واقعہ مذکور ہے۔
اس حدیث میں ایک اہم ترین معجزہ نبوی کا ذکر ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر کی۔
یا توہ وہ توشہ اتنا کم تھا کہ لوگ اپنی سواریاں کاٹنے پر آمادہ ہو گئے یا وہ اس قدر بڑھ گیا کہ فراغت سے ہر ایک نے اپنی خواہش کے موافق بھر لیا۔
اس قسم کے معجزات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار صادر ہوئے ہیں۔
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے توشے اکٹھا کرنے کا حکم دیا، پھر ہر ایک نے یوں ہی اندازے سے لے لیا، آپ نے تول ماپ کر اس کو تقسیم نہیں کیا۔
حدیث اور باب کی مطابقت کے سلسلہ میں شارحین بخاری لکھتے ہیں:
و مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله فیاتون بفضل أزوادهم و من قوله فدعا و برك علیه فإن جمع أزوادهم و هو في معنی النهد و دعاءالنبي صلی اللہ علیه وسلم بالبرکة۔
(عینی)
یعنی حدیث اور باب میں مطابقت لفظ فیاتون الخ سے ہے کہ ایسے مواقع پر ان سب نے اپنے اپنے توشے لا کر جمع کر دیئے اور اس قول سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی۔
یہاں ان کے توشے جمع کرنا مذکورہے اور وہ نہد کے معنی میں ہے یعنی اپنے اپنے حصے برابر برابر لا کر جمع کر دینا۔
اور ا س میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا برکت کے لیے دعا فرمانا۔
لفظ نہد یا نہد آگے بڑھنا، ”نمودار ہونا، مقابل ہونا“ ظاہر ہونا، بڑا کرنے کے معنی میں ہے۔
اسی سے لفظ تناہد ہے۔
جس کے معنی سفر کے سب رفیقوں کا ایک معین روپیہ یا راشن توشہ جمع کرنا کہ اس سے سفر کی خوردنی ضروریات کو مساوی طور پر پورا کیا جاے یہاں ایسا ہی واقعہ مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2484]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2484
2484. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے نے کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کا سامان خورو نوش ختم ہو گیا اور وہ محتاج ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ان لوگوں سے حضرت عمر ؓ ملے تو انھوں نے ان سے ماجرا بیان کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اونٹوں کے بعد تمھاری زندگی کا انحصار کس پر ہو گا؟ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اونٹ ذبح کرنے کے بعد ان کی زندگی کیسے گزرے گی؟آپ نے فرمایا: ”لوگوں میں اعلان کرو کہ وہ اپنا اپنا کھانے پینے کا بقیہ سامان لے کرمیرے پاس حاضر ہوں۔“ پھر چمڑے کا ایک دسترخوان بچھا دیا گیا اور تمام سامان اس پر ڈال دیا گیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خیروبرکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے تمام لوگوں کو برتنوں سمیت بلایا۔ چنانچہ لوگوں نے دونوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2484]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بچے ہوئے سفر خرچ کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا، پھر آپ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی، تو لوگوں نے زیادہ اور کم کے فرق کے بغیر اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا، حالانکہ جمع شدہ خوراک میں کمی بیشی تھی، پھر انہوں نے یوں ہی اندازے سے اپنا اپنا سفر خرچ لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ماپ تول کر تقسیم نہیں کیا۔
امام بخاری ؒ کا عنوان بھی یہی ہے۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین معجزے کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر فرمائی۔
سفر خرچ پہلے اس قدر کم تھا کہ لوگ اپنی سواریاں ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعا کرنے سے اس میں اتنی برکت ہوئی کہ لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا۔
اسی برکت کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار فرمایا:
”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
“ آپ کے اس برمحل اظہار سے لوگوں کے عقیدے میں پختگی اور آپ کے متعلق حسن ظن کو تقویت ملی۔
(1)
اس حدیث میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بچے ہوئے سفر خرچ کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا، پھر آپ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی، تو لوگوں نے زیادہ اور کم کے فرق کے بغیر اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا، حالانکہ جمع شدہ خوراک میں کمی بیشی تھی، پھر انہوں نے یوں ہی اندازے سے اپنا اپنا سفر خرچ لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ماپ تول کر تقسیم نہیں کیا۔
امام بخاری ؒ کا عنوان بھی یہی ہے۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین معجزے کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر فرمائی۔
سفر خرچ پہلے اس قدر کم تھا کہ لوگ اپنی سواریاں ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعا کرنے سے اس میں اتنی برکت ہوئی کہ لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا۔
اسی برکت کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار فرمایا:
”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
“ آپ کے اس برمحل اظہار سے لوگوں کے عقیدے میں پختگی اور آپ کے متعلق حسن ظن کو تقویت ملی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2484]
Sahih Bukhari Hadith 2982 in Urdu
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي