🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. باب ما قيل فى الجرس ونحوه فى أعناق الإبل:
باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا" أَنْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عبداللہ (عبداللہ بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث) نے کہا کہ میرا خیال ہے ابوبشیر نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد (زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا (ہار) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قيس الأكبر بن عبيد الأنصاري، أبو بشيرصحابي
👤←👥عباد بن تميم المازني
Newعباد بن تميم المازني ← قيس الأكبر بن عبيد الأنصاري
له رؤية
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← عباد بن تميم المازني
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3005
لا يبقين في رقبة بعير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت
صحيح مسلم
5549
لا يبقين في رقبة بعير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت
سنن أبي داود
2552
لا يبقين في رقبة بعير قلادة من وتر ولا قلادة إلا قطعت
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
432
ا تبقين فى رقبة بعير قلادة من وتر او قلادة إلا قطعت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3005 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3005
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ کسی جانور کے گلے میں محض زینت اور تفاخر کے لئے گھنٹی یا کوئی اور باجے کی قسم کا لٹکانا منع ہے۔
قال ابن الجوزي وفي المراد بالأوتار ثلاثة أقوال أحدھم أنھم کانوا یقلدون الإبل أوتار القیسي لئلا یصیبھا العین بزعمھم فأمروا یقطعھا إعلاما بأن الأوتار لا ترد من أمر اللہ شیئا۔
یعنی پہلا قول یہ کہ جہلائے عرب اونٹوں کے گلوں میں کوئی تانت بطور تعویذ لٹکا دیتے تاکہ ان کو نظر بد نہ لگے۔
پس ان کے کاٹ پھینکنے کا حکم دیا گیا‘ تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کے حکم کو یہ لوٹا نہیں سکتی۔
دوسرا قول یہ کہ ایسے تانت وغیرہ جانوروں کے گلوں میں لٹکانے اس خوف سے منع کئے گئے کہ ممکن ہے وہ ان کے گلے میں تنگ ہو کر ان کا گلا گھونٹ دیں یا کسی درخت سے الجھ کر تکلیف کا باعث بن جائیں اور جانوروں کو ایذاء پہنچے۔
تیسرا قول یہ کہ وہ گھنٹے لٹکاتے حالانکہ بجنے والے گھنٹوں کی جگہ میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
حضرت امام بخاریؒ نے دارقطنی ؒ کی روایت کردہ اس حدیث پر اشارہ کیا ہے۔
جس میں صاف یوں ہے:
«لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلاَدَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ» الا قطع یعنی کسی بھی جانور کے گلے میں کوئی تانت ہو یا گھنٹہ وہ باقی نہ رکھے جائیں۔
(فتح الباري)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3005]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3005
حدیث حاشیہ:
اس حکم امتناعی کے متعلق محدثین کرام اقوال ذکر کیے ہیں۔
لوگ اونٹ کے گلے میں تانت وغیرہ باندھتے تھے تاکہ انھیں نظر بدنہ لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کاٹنےکا حکم دیا کہ اس سے عقیدہ خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا اللہ کی تقدیر کو رد نہیں کر سکتا۔
لوگ اس تانت میں گھنٹی باندھتے تھے چنانچہ ایک حدیث میں ہے۔
فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے جس میں گھٹنیاں بجتی ہوں۔
(سنن أبي داود، الجهاد، حدیث: 2554)
ویسے بھی گھنٹی وغیرہ جنگی چال کے منافی ہے۔
اس قسم کی تانت سے گلا کٹنے کا اندیشہ ہے بعض اوقات سانس تنگ ہو جاتا ہے اور چارا چرنے میں تکلیف کا باعث ہے نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تانت درخت کے ساتھ پھنس جائے اس سے جانور کا گلاکٹ جائے ان وجوہات کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حکم امتناعی جاری فرمایا۔
امام بخاری ؒکے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے دوسری توجیہ کو پسند کیا ہے۔
(فتح الباري: 172/6)
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3005]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 432
نظر سے بچاؤ کے لئے دھاگے منگے لٹکانا منع ہے
«. . . 307- وبه: عن عباد بن تميم أن أبا بشير الأنصاري أخبره أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى بعض أسفاره، قال: فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا، قال عبد الله بن أبى بكر: حسبت أنه قال والناس فى مبيتهم: لا تبقين فى رقبة بعير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت. قال مالك: أرى ذلك من العين. . . .»
. . . سیدنا ابوبشیر الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیغامبر (اعلان کرنے والا) بھیجا۔ عبداللہ بن ابی بکر (رحمہ اللہ، راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ لوگ اپنی خوابگاہوں میں تھے کہ اس نے اعلان کیا: خبردار! کسی اونٹ کی گردن پر تانت کا پٹا یا کوئی اور پٹا کاٹے بغیر نہ چھوڑنا۔، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نظر سے (بچاؤ) کے لیے یہ پٹے (گنڈے) ڈال رکھے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 432]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 3005، ومسلم 2115، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دھاگے منکے وغیرہ لٹکا کر یہ سمجھنا کہ بیماری نہیں لگے گی یا نظر بد سے بچاؤ ہوجائے گا، جائز نہیں ہے مگر قرآنی اور غیر شرکیہ عبارات لکھ کر لٹکانے کے بارے میں سلف صالحین کے درمیان اختلاف ہے۔ سیدنا سعید بن المسیب رحمہ اللہ اسے جائز سمجھتے تھے۔ دیکھئے [السنن الكبريٰ للبيهقي 351/9 وسنده صحيح] لیکن بہتر یہی ہے کہ ان سے بھی اجتناب کیا جائے۔
◄ ابرہیم نخعی رحمہ اللہ بچوں کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونے کی وجہ سے تعویذ مکروہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 376/7 ح 23466 وسنده صحيح، دوسرا نسخه 16/8 ح 23823،]
➋ اسحاق بن منصور الکوسج رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے قرآن لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہر شئے (علاج کے لئے لکھ کر) لٹکانا مکروہ ہے۔ [ديكهئے مسائل اسحاق و احمد ج 1 ص 193 فقره 382، التمهيد 164/17] ۔ راجح یہی ہے کہ قرآنی و غیر شرکیہ تعویذ شرک یا بدعت نہیں ہے لیکن سدِ ذرائع کے طور پر یہ تعویذ بھی نہیں پہننے چاہئیں۔
➌ شبہات والی اور مشکوک چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔
➍ نظر کا لگ جانا برحق ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5740 و صحيح مسلم 2187] لیکن اس کا علاج تعویذ گنڈے نہیں بلکہ مسنون دعائیں ہیں۔ مثلاً «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» والی دعا۔ دیکھئے [صحيح بخاري 3371]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 307]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2552
گھوڑے کی گردن میں تانت کے گنڈے پہنانے کا بیان۔
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے۔‏‏‏‏ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2552]
فوائد ومسائل:
علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ امام مالک اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ لوگ اسے نظر بد سے بچائو کےلئے بطور تعویذ ڈالتے تھے۔
اور اسے ہی موثر سمجھتے تھے۔
کئی علماء کا خیال ہے کہ لوگ یہ ان کے گلوں میں گھنٹیاں باندھنے کے لئے ڈالتے تھے۔
کچھ نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ دوڑتے بھاگتے ہوئے جانور کا گلا گھٹ جائے۔
بہر حال وجہ کوئی بھی ہو تانت ڈالنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
اور اسی طرح دیگر جاہلانہ تعویز گنڈے بھی ڈالنا جائز نہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2552]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5549
حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کسی سفر میں شریک تھے تو آپ نے ایک ایلچی روانہ کیا، عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میرے خیال میں انہوں نے کہا، جبکہ لوگ اپنی آرام گاہ میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار یا کوئی ہار باقی نہ رہے، مگر اسے کاٹ دیا جائے۔ امام مالک کہتے ہیں، میرا خیال ہے، لوگ اس کو بدنظری کا علاج سمجھتے تھے۔... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5549]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جاہلیت کے دور میں لوگ حیوانات خاص کر اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار ڈالتے تھے اور سمجھتے تھے،
اس میں نظر بد سے بچانے کا خاصہ ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کاٹنے کا حکم دیا کہ اس کا نظر بد سے بچانے میں کوئی دخل نہیں،
بعض حضرات کا خیال ہے،
یہ حیوان کے لیے تکلیف کا باعث ہے،
اس سے چرنے اور سانس لینے میں دقت پیدا ہوتی ہے،
کسی درخت میں پھنس کر گھٹنے کا بھی اندیشہ ہے اور بعض کا خیال ہے،
اس میں گھنٹی باندھتے تھے،
اگر ہار کھلا ہو،
کسی قسم کا اندیشہ نہ ہو،
محض زیب و زینت کے لیے ہو تو بقول امام نووی جائز ہے اور بقول علامہ عینی اگر یہ تعویذ کے لیے ہو اور اس میں قرآن کی آیت ہو،
یا اللہ کا نام ہو،
جس کا مقصد برکت حاصل کرنا یا اللہ کے اسماء اور اس کے ذکر کی پناہ لینا ہو تو ممنوع نہیں ہے،
اس طرح اگر تکسیر اور اسراف سے بچ کر زینت کے لیے ہو تو پھر بھی ممنوع نہیں۔
(عمدۃ القاری ج 7 ص 43)
مگر ظاہر ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی آیات یا اسماء الٰہی کو جانوروں کے گلے میں نہیں ڈالا تو ہمیں بھی اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5549]