🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب من لم يخمس الأسلاب:
باب: جو کوئی مقتول کافروں کے ساز و سامان میں خمس نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3141
وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ، وَحُكْمِ الإِمَامِ فِيهِ.
‏‏‏‏ مقتول کے جسم پر جو سامان ہو (کپڑے، ہتھیار وغیرہ) وہ سامان تقسیم میں شریک ہو گا نہ اس میں سے خمس لیا جائے گا بلکہ وہ سارا قاتل کو ملے گا اور امام کا ایسا حکم۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: Q3141]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ لِي: مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ، قُلْتُ: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ، قَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا، قَالَا: لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا قَتَلَهُ سَلَبُهُ مُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ ومُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الجَمُوحِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن ماجشون نے، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) نے بیان کے کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں (کفار کے لشکر میں) گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3141]
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں صف بندی میں کھڑا تھا، اس دوران میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دو انصاری کم سن لڑکے دکھائی دیے، میں نے (اول میں) خواہش کی کہ کاش! میں دو طاقتور اور ان سے زیادہ عمر والوں کے درمیان کھڑا ہوتا، اچانک ان میں سے ایک نے میری طرف اشارہ کر کے آہستہ آواز سے پوچھا: اے چچا! کیا تم ابوجہل کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن اے بھتیجے! تجھے اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ مجھے مل جائے تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے وہ جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہوگا، مر نہ جائے۔ میں نے اس کی جرات پر بڑا تعجب کیا، اتنے میں مجھ سے دوسرے نے آہستگی سے دریافت کیا اور اس نے بھی وہی کہا جو پہلے نے کہا تھا۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ٹہل رہا تھا، میں نے (ان دونوں سے) کہا: سنو! وہ ہے جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی انہوں نے تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے، پھر زبردست حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے جواب دیا کہ میں نے اس لعین کو مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: واقعی تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تمام سامان معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دیا، وہ دونوں لڑکے معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔ (راویِ حدیث) محمد نے کہا کہ یوسف نے صالح سے اور ابراہیم نے اپنے باپ حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
له رؤية
👤←👥صالح بن إبراهيم الزهري، أبو عبد الرحمن، أبو عمران
Newصالح بن إبراهيم الزهري ← إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يوسف بن الماجشون، أبو سلمة
Newيوسف بن الماجشون ← صالح بن إبراهيم الزهري
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يوسف بن الماجشون
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3141
بينا أنا واقف في الصف يوم بدر فنظرت عن يميني وعن شمالي فإذا أنا بغلامين من الأنصار حديثة أسنانهما تمنيت أن أكون بين أضلع منهما فغمزني أحدهما فقال يا عم هل تعرف أبا جهل قلت نعم ما حاجتك إليه يا ابن أخي قال أخبرت أنه يسب رسول الله والذي ن
صحيح مسلم
4569
أيكما قتله فقال كل واحد منهما أنا قتلت فقال هل مسحتما سيفيكما قالا لا فنظر في السيفين فقال كلاكما قتله
بلوغ المرام
1101
أيكما قتله ؟ هل مسحتما سيفيكما ؟
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3141 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3141
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ تھا کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے اس مردود کو بے دم کیا تھا تو اصل قاتل وہی ہوئے، انہی کو آپ نے ابوجہل کا سامان دلایا اور معاذ بن عفراء کا دل خوش کرنے کے لیے آپ نے یوں فرمایا کہ تم دونوں نے مارا ہے۔
عبدالرحمن بن عوف ؓنے خیال کیا کہ یہ بچے ناتجربہ کار ہیں، معلوم نہیں جنگ کے وقت ٹھہرسکتے ہیں یا نہیں، اگر یہ بھاگے تو معلوم نہیں میرے دل کی بھی کیا حالت ہو، ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ دونوں پیشہ شجاعت کے شیر اور بوڑھوں سے بھی زیادہ دلیر ہیں، ان انصاری بچوں نے لوگوں سے ابوجہل مردود کا حال سنا تھا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسی کیسی اےذائیں دی تھیں۔
چونکہ یہ مدینہ والے تھے لہٰذا ابوجہل کی صورت نہیں پہچانتے تھے۔
ایمان کا جوش ان کے دلوں میں تھا، انہوں نے یہ چاہا کہ ماریں تو بڑے موذی کو ماریں، اسی مردود کا کام تمام کریں۔
جس میں وہ کامیاب ہوئے۔
رضي اللہ عنهم أجمعین بعض روایتوں میں ابوجہل کے قاتل معاذ اور معوذ عفرا کے بیٹے بتلائے گئے ہیں۔
اور ابن مسعود ؓ کو بھی شامل کیاگیا ہے۔
احتمال ہے کہ یہ لوگ بھی بعد میں شریک قتل ہوگئے ہوں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3141]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3141
حدیث حاشیہ:

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے دل میں خیال آیا کہ یہ دونوں بچے ناتجربہ کارہیں۔
معلوم نہیں کہ جنگ کے وقت ٹھہرسکیں یا نہیں۔
اگر بھاگ کھڑے ہوئے تو نہ معلوم اس وقت میرے دل کی کیا کیفیت ہو۔
لیکن ان کے دلوں میں ایمان کا جوش تھا کہ تو کسی بڑے موذی کو ماریں۔
بہر حال وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئے۔
۔
رضی اللہ عنه۔

کافر مقتول کا زیر استعمال سازو سامان سلب کہلاتا ہے جس کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس سے خمس نکالا جائے گایا نہیں؟ امام بخاری ؒ کا رجحان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کے سازوسامان سے کوئی خمس وغیرہ نہیں لیا بلکہ پورے کا پورا قاتل کے حوالے کر دیا اس لیے اس میں خمس نہیں ہو گا۔
دوسرا مختلف فیہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کافر کے قتل میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں تو اس کا کیا کیا جائے؟ نیز خلیفہ یا کمانڈر کو اس بارے میں تصرف کا حق حاصل ہے کہ نہیں؟ اگر کسی کافر کے قتل میں دو مسلمان برابر کے شریک ہوں تو بالا تفاق سلب ان دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔
اور اگر قرآئن سے یہ ثابت ہو جائے کہ اصل قاتل فلاں ہے باقی معاون ہیں تو پھر اصل قاتل کو سلب دیا جائے گا اور دوسروں کو محروم کردیا جائے گا۔
مثلاً:
ایک شخص نے مقتول کو اس حال میں کردیا کہ وہ دفاع کے قابل نہیں رہا اور کسی دوسرے نے آکر اس کی گردن کاٹ دی تو سلب پہلے شخص کو ملے گا۔

سلب ازخود قاتل کو مل جائے گا یا یہ معاملہ امام کی صوابدید پر موقوف ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس بارے میں کسی حتمی رائے کا اظہار نہیں کیا شاید اس کی وجہ اہل علم کا اختلاف ہے اور اس کی بنیاد زیر بحث حدیث ہے۔
اس میں ہے کہ ابو جہل کو قتل کرنے والے دو بلکہ ابن مسعود ؓ کو ملا کر تین افراد تھے جبکہ آپ نے سلب صرف معاذ بن عمر ؓ کو دیا امام مالک اور احناف کہتے ہیں کہ آپ کا دو کو چھوڑ کر ایک كو دینا اس امرکی دلیل ہے کہ امام کو سلب میں تصرف کا اختیار ہے جبکہ جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اس کا مستحق قاتل ہی ہے امام کی صوابدید پر یہ موقوف نہیں۔
مذکورہ حدیث میں آ پ کا یہ فرمانا۔
تم دونوں ہی نے اسے قتل کیا ہے۔
دوسرے کی دلداری کےطور پر ارشاد فرمایا کیونکہ وہ دونوں شریک تو تھے تاہم آپ نے دونوں کی تلواروں سے انداز لگالیا کہ اصل گھائل کرنے والے معاذ ہی ہیں اس لیے ابن مسعود ؓ کو بھی اس میں شریک نہیں کیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3141]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1101
(جہاد کے متعلق احادیث)
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ابوجہل کے قتل کے قصہ میں مروی ہے کہ دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ابوجہل کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کے قتل کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا؟ نیز دریافت فرمایا کہ کیا تم نے تلواریں صاف کر لی ہیں؟ دونوں بولے نہیں۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں کو ملاحظہ کیا اور فرمایا تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا ساز و سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دینے کا فیصلہ فرمایا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1101»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب من لم يخمس الأسلاب، حديث:3141، ومسلم، الجهاد والسير، باب استحقاق القاتل سلب القتيل، حديث:1752.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ یہ انصار کے قبیلۂ خزرج کے فرد تھے۔
بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔
انھوں نے ابوجہل کا پاؤں کاٹ کر اسے پچھاڑ دیا تھا۔
عکرمہ بن ابی جہل نے ان کو زخم لگایا کہ ان کا ہاتھ کٹ کر لٹک گیا تو انھوں نے پاؤں تلے دبا کر کھینچ کر اسے جدا کر دیا اور پھینک دیا اور باقی سارا وقت اکیلے ہاتھ سے لڑتے اور داد شجاعت دیتے رہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صاحب‘ ابن عفراء کے علاوہ اور کوئی تھے کیونکہ ابن عفراء کا نسب اس طرح ہے۔
معاذ بن حارث بن رفاعہ نجاری۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1101]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4569
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے موقع پر صف میں کھڑا ہوا تھا، اس اثناء میں میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو میں دو نو عمر انصاری لڑکوں کے درمیان تھا، میں نے آرزو کی، اے کاش، میں ان سے زور آور، طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا تو ان میں سے ایک نے مجھے دبایا، (کچوکا لگایا) اور پوچھا، اے چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں اور تجھے اس سے کیا کام ہے؟ اے میرے بھتیجے، اس نے جواب دیا، مجھے بتایا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4569]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابو جہل کو ضرب کاری لگانے والے،
حضرت معاذ بن عمرو بن جموح تھے اور دوسری چوٹ لگانے والے معاذ بن عفراء تھے اور تیسری چوٹ معوذ بن عفراء نے لگائی اور ابھی اس میں زندگی کی رمق باقی تھی کہ اس کی گردن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تن سے جدا کر دی اور اسے سلب سمیت لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر کر دیا اور جب تمام واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلواریں دیکھ کر سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں کیا،
کیونکہ ضرب کاری،
جس کی وجہ سے،
وہ زندہ رہنے کے قابل نہیں رہا تھا،
اس نے لگائی تھی،
اگرچہ بعد میں اس کو ختم کرنے میں دوسروں نے بھی حصہ لیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4569]

Sahih Bukhari Hadith 3141 in Urdu