پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب قوله تعالى: {إذ قالت الملائكة يا مريم} إلى قوله: {فإنما يقول له كن فيكون} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمانا ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم!“ سے آیت «فإنما يقول له كن فيكون» تک۔
حدیث نمبر: Q3433
يُبَشِّرُكِ سورة آل عمران آية 45 وَيَبْشُرُكِ وَاحِدٌ وَجِيهًا سورة آل عمران آية 45 شَرِيفًا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: المَسِيحُ: الصِّدِّيقُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْكَهْلُ الْحَلِيمُ وَالْأَكْمَهُ مَنْ يُبْصِرُ بِالنَّهَارِ وَلَا يُبْصِرُ بِاللَّيْلِ وَقَالَ غَيْرُهُ مَنْ يُولَدُ أَعْمَى.
«يبشرك» اور «ويبشرك» (مزید اور مجرد) دونوں کے ایک معنی ہیں۔ «وجيها» کا معنی شریف۔ ابراہیم نخعی نے کہا «مسيح» «صديق.» کو کہتے ہیں۔ مجاہد نے کہا «كهلا» کا معنی برباد۔ «أكمه» جو دن کو دیکھے، پر رات کو نہ دیکھے۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ اوروں نے کہا «أكمه» کے معنی مادر زاد اندھے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3433]
حدیث نمبر: 3433
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا۔ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3433]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔ اور مردوں میں سے تو بہت کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم علیہا السلام بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3433
| فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام كمل من الرجال كثير ولم يكمل من النساء إلا مريم بنت عمران وآسية امرأة فرعون |
سنن النسائى الصغرى |
3399
| فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3433 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3433
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث پہلے بھی گزرچکی ہے۔
واضح رہے کہ ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر اس لیے ہے کہ اس میں غذائیت، لذت، طاقت اور چبانے میں سہولت ہوتی ہے، نیز یہ زودہضم ہوتا ہے۔
2۔
اس حدیث سے حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت اور برتری ثابت ہوتی ہے۔
آپ حسن خلق، شیریں کلام اور رائے کی پختگی میں درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھیں۔
3۔
اس حدیث میں کمال سے مراد ولایت کا آخری درجہ ہے جو نبوت سے نیچے ہوتا ہے کیونکہ نبوت صرف مردوں کے لیے ہے کوئی عورت منصب نبوت پر فائز نہیں ہوئی اگرچہ ابو الحسن اشعری سے منقول ہے کہ چھ عورتیں نبیہ ہیں:
حوا،سارہ، ام موسیٰ، ہاجرہ، آسیہ اور مریم ؑ، لیکن ان کا موقف اجماع امت کے خلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
یہ حدیث پہلے بھی گزرچکی ہے۔
واضح رہے کہ ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر اس لیے ہے کہ اس میں غذائیت، لذت، طاقت اور چبانے میں سہولت ہوتی ہے، نیز یہ زودہضم ہوتا ہے۔
2۔
اس حدیث سے حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت اور برتری ثابت ہوتی ہے۔
آپ حسن خلق، شیریں کلام اور رائے کی پختگی میں درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھیں۔
3۔
اس حدیث میں کمال سے مراد ولایت کا آخری درجہ ہے جو نبوت سے نیچے ہوتا ہے کیونکہ نبوت صرف مردوں کے لیے ہے کوئی عورت منصب نبوت پر فائز نہیں ہوئی اگرچہ ابو الحسن اشعری سے منقول ہے کہ چھ عورتیں نبیہ ہیں:
حوا،سارہ، ام موسیٰ، ہاجرہ، آسیہ اور مریم ؑ، لیکن ان کا موقف اجماع امت کے خلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3433]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3399
ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3399]
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3399]
اردو حاشہ:
ثرید جلدی تیار ہونے والا‘ جلدی ہضم ہونے والا اور لذیذ کھانا ہے۔ حضرت عائشہؓ کا علم ثرید کی طرح امت کے لیے سہل الحصول‘ مفید‘ مسکت اور خوشگوار تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے علم نے امت کو فائدہ دیا کہ دوسری تمام عورتوں کے علم نے اس کا عشرعشیر بھی فائدہ نہ دیا۔ حافظہ‘ ذہانت‘ فطانت‘ معاملہ فہمی‘ فصاحت وبلاغت اور تعلیم وخطابت میں مرد بھی ان کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْهن وَأَرْضَاهن۔ البتہ اس روایت سے حضرت عائشہؓ کو افضل ثابت نہ کیا جاسکے گا کیونکہ یہ فضیلت جزوی ہے ورنہ ثرید من کل الوجوہ سب کھانوں سے اعلیٰ نہیں۔ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں میں سے افضل آپ کی پہلی اور محترم بیوی حضرت خدیجہؓ ہیں جنہیں آپ نے خیر نسائھا فرمایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري‘ احادیث الأنبیاء‘ باب: {وَإِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ}‘ حدیث: 3442‘ وصحیح مسلم‘ فضائل الصحابة‘ باب من فضائل خدیجة‘ حدیث: 2430) آپ انہیں زندگی کے آخری لمحات تک نہ بھول سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری‘ حسن سلوک‘ جانثاری اور محبت میں وہ آپ کی تمام ازواج مطہرات رَضِي اللّٰہُ عَنْهن سے بہت آگے تھیں۔ اخلاق عالیہ اور ملکات فاضلہ میں بھی ان کا مقام بہت اونچا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: ] اِنَّھَا کَانَتْ وَکَانَتْ [ ”وہ تو وہ تھیں“ یعنی ان میں یہ یہ خوبیاں اور کمالات تھے۔ (صحیح البخاري‘ مناقب الأنصار‘ باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة وفضلھاؓ‘ حدیث: 3818)
ثرید جلدی تیار ہونے والا‘ جلدی ہضم ہونے والا اور لذیذ کھانا ہے۔ حضرت عائشہؓ کا علم ثرید کی طرح امت کے لیے سہل الحصول‘ مفید‘ مسکت اور خوشگوار تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے علم نے امت کو فائدہ دیا کہ دوسری تمام عورتوں کے علم نے اس کا عشرعشیر بھی فائدہ نہ دیا۔ حافظہ‘ ذہانت‘ فطانت‘ معاملہ فہمی‘ فصاحت وبلاغت اور تعلیم وخطابت میں مرد بھی ان کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْهن وَأَرْضَاهن۔ البتہ اس روایت سے حضرت عائشہؓ کو افضل ثابت نہ کیا جاسکے گا کیونکہ یہ فضیلت جزوی ہے ورنہ ثرید من کل الوجوہ سب کھانوں سے اعلیٰ نہیں۔ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں میں سے افضل آپ کی پہلی اور محترم بیوی حضرت خدیجہؓ ہیں جنہیں آپ نے خیر نسائھا فرمایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري‘ احادیث الأنبیاء‘ باب: {وَإِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ}‘ حدیث: 3442‘ وصحیح مسلم‘ فضائل الصحابة‘ باب من فضائل خدیجة‘ حدیث: 2430) آپ انہیں زندگی کے آخری لمحات تک نہ بھول سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری‘ حسن سلوک‘ جانثاری اور محبت میں وہ آپ کی تمام ازواج مطہرات رَضِي اللّٰہُ عَنْهن سے بہت آگے تھیں۔ اخلاق عالیہ اور ملکات فاضلہ میں بھی ان کا مقام بہت اونچا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: ] اِنَّھَا کَانَتْ وَکَانَتْ [ ”وہ تو وہ تھیں“ یعنی ان میں یہ یہ خوبیاں اور کمالات تھے۔ (صحیح البخاري‘ مناقب الأنصار‘ باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة وفضلھاؓ‘ حدیث: 3818)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3399]
Sahih Bukhari Hadith 3433 in Urdu
مرة الطيب ← عبد الله بن قيس الأشعري