🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3496
وَالنَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّ النَّاسِ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ".
‏‏‏‏ اور انسانوں کی مثال کان کی طرح ہے، جو لوگ جاہلیت کے دور میں شریف تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں جب کہ انہوں نے دین کی سمجھ بھی حاصل کی ہو تم دیکھو گے کہ بہترین اور لائق وہی ثابت ہوں گے جو خلافت و امارت کے عہدے کو بہت زیادہ ناپسند کرتے رہے ہوں، یہاں تک کہ وہ اس میں گرفتار ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3496]
(نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) انسان کی مثال کان کی طرح ہے۔ جو لوگ دورِ جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی قابل تعریف ہیں بشرط یہ کہ انہوں نے دینی معاملات میں سمجھ بوجھ حاصل کی ہو۔ تم دیکھو کہ حکومت اور سرداری کے لائق وہی ہوں گے جو شان امارت کو سخت ناپسند کرنے والے ہوں گے یہاں تک کہ ان پر اس کا بوجھ آ پڑے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3496
الناس تبع لقريش في هذا الشأن مسلمهم تبع لمسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم الناس معادن خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا تجدون من خير الناس أشد الناس كراهية لهذا الشأن حتى يقع فيه
صحيح مسلم
4702
الناس تبع لقريش في هذا الشأن مسلمهم تبع لمسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم
صحيح مسلم
4701
الناس تبع لقريش في هذا الشأن مسلمهم لمسلمهم وكافرهم لكافرهم
صحيفة همام بن منبه
129
الناس تبع لقريش في هذه الشأن أراه يعني الإمارة مسلمهم تبع لمسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3496 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3496
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ اسلام میں شرافت کی بنیاد دینی علوم اور ان میں فقاہت حاصل کرنا ہے جو مسلمان عالم دین اور فقیہ ہوں وہی عنداللہ شریف ہیں، دینی فقاہت سے کتاب وسنت کی فقاہت مرادہے، رائے و قیا س کی فقاہت محض ابلیسی طریق کار ہے۔
اولاد آدم کے لیے کتاب وسنت کے ہوتے ہوئے ابلیسی طریق کار کی ضرورت نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3496]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3496
حدیث حاشیہ:

قریش نسب کے اعتبار سے بلند مرتبہ اور مکان کے اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتے تھے، نیز قبائل عرب، مجاور حرم ہونے کی وجہ سے ان کی بہت تعظیم کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تواکثرعرب انتظار میں تھے کہ آپ کی قوم، یعنی قریش آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں۔
جب فتح مکہ ہوا اور قریش مسلمان ہوگئے تو لوگ بھی فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔
چونکہ قریش کودیگر قبائل عرب پر فضیلت حاصل ہے اور وہ امامت و امارت میں تمام عرب پر سبقت رکھتے ہیں، لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان کے پیچھے چلیں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کریں۔
مطلب یہ ہے کہ قریش کی شان وشوکت جودور جاہلیت میں تھی، اسلام اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسلام لانے کے بعدسردار ہی رہیں گے جیسے وہ زمانہ کفر میں قائدین تھے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے:
یہ خبر امر(حکم)
کے معنی میں ہے، چنانچہ دوسری روایت میں ہے کہ قریش کو آگے کرو اور ان سے آگے مت بڑھو، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خبر اپنے ظاہر معنی پر ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 649/6)

اس حدیث کے آخری جملے کے معنی متعین کرنے میں بھی اختلاف ہے:
بعض نے کہا ہے کہ جو شخص امارت کا حریص نہ ہو اور سوال کے بغیر اگر اسے حاصل ہوجائے تو اس سے کراہت زائل ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے گا۔
بعض نے کہاہے کہ جب امارت سپرد ہوجائے گی تو پھر اس سے کراہت کرنا جائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 6/648)

اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شرافت نسبی، علم کے بغیر عزت و احترام کے لائق نہیں۔
اصل شرافت تو علم دین حاصل کرنے سے ملتی ہے، پھر دینی معاملات میں رائے زنی کرنا نری جہالت ہے۔
جومسلمان عالم دین اور فقیہ ہوں وہی عنداللہ شریف ہیں۔
دینی فقاہت سے مراد کتاب و سنت کی فقاہت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3496]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4701
حضرت ابوہریرہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت اور اقتدار کا معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان لوگ، مسلمان قریشیوں اور کافر لوگ کافر قریشیوں کے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4701]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث اور اس باب کی دوسری حدیث سے یہ بات باکل واضح طور پر ثابت ہوتی ہے،
کہ خلافت قریش کے ساتھ مختص ہے،
قریش جاہلیت اور کفر کے دور میں بھی لوگوں کے سردار تھے،
حتیٰ کہ اسلام لانے میں بھی لوگ ان کے منتظر تھے،
جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش مسلمان ہوگئے،
تو لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں میں حقیقی خلافت،
جس میں اسلام کو غلبہ تھا اور مسلمانوں کو عزت واحترام حاصل تھا اور تمام مسلمان ایک خلیفہ کی رعایا تھے،
اس وقت تک قائم رہی جب تک خلیفہ قریشی تھا اور جب قریش کے پاس حقیقی خلافت نہ رہی،
محض نام کی خلافت رہی یا ان سے خلافت نکل گئی،
تو حقیقی خلافت والی برکات و خیرات بھی ختم ہوگئیں اور مسلمانوں کی بے شمار کمزور حکومتیں قائم ہوگئیں اور ان کی عزت و وقار ملیامٹ ہوگیا،
جس کا آج ہم کھلی آنکھوں مشاہدہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے متحد ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی اور اسلام کے نام سے غیر اسلامی امور رواج پذیر ہیں اور ہر جگہ اقتدار کے سلسلہ میں رسہ کشی ہے،
اگر دینی تقاضا پر عمل پیرا ہوتے مسلمان قریشی کو حقیقی خلیفہ بناتے تو مسلمان اس حالت زار میں گرفتار نہ ہوتے،
اس لیے امام نوی،
قاضی عیاض وغیر ھمانے خلیفہ کے قریشی ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور اگر آج اس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے،
تو یہ اس طرح جس طرح دوسری دینی باتوں کو نظر انداز کر دیا ہے،
حتیٰ کہ نماز جیسی بنیادی عبادت جس پر کفر اور اسلام کامدار ہے،
اس کی بھی اہمیت نہیں رہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4701]

Sahih Bukhari Hadith 3496 in Urdu