🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة وأشجع:
باب: اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع قبیلوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي أَسَدٍ وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَقَالَ: رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا، فَقَالَ هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ کیا جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں؟ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مذکورہ قبیلے، بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم
Newعبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن بشار العبدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3515
أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم
صحيح البخاري
6635
أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من تميم عامر بن صعصعة
صحيح مسلم
6448
أسلم غفار مزينة جهينة خير من بني تميم من بني عامر والحليفين بني أسد غطفان
صحيح مسلم
6446
أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم بني عامر أسد
جامع الترمذي
3952
أسلم غفار مزينة خير من تميم أسد غطفان بني عامر بن صعصعة
المعجم الصغير للطبراني
911
أسلم غفار مزينة جهينة خير عند الله من بني أسد غطفان بني عامر بن صعصعة
المعجم الصغير للطبراني
841
أرأيتم إن كان جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفار خيرا عند الله من أسد ، وغطفان ومن بني عامر بن صعصعة ، هل خابوا وخسروا ؟ ، قالوا : نعم ، فإن جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفارا خير من أسد ، وغطفان ، ومن بني عامر بن صعصعة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3515 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3515
حدیث حاشیہ:
جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3515]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3515
حدیث حاشیہ:
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3515]

Sahih Bukhari Hadith 3515 in Urdu