صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة وأشجع:
باب: اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع قبیلوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي أَسَدٍ وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَقَالَ: رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا، فَقَالَ هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بتاؤ کیا جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں؟“ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مذکورہ قبیلے، بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر عبد الملك بن عمير اللخمي ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الملك بن عمير اللخمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن بشار العبدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر قبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3515
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم |
صحيح البخاري |
6635
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من تميم عامر بن صعصعة |
صحيح مسلم |
6448
| أسلم غفار مزينة جهينة خير من بني تميم من بني عامر والحليفين بني أسد غطفان |
صحيح مسلم |
6446
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم بني عامر أسد |
جامع الترمذي |
3952
| أسلم غفار مزينة خير من تميم أسد غطفان بني عامر بن صعصعة |
المعجم الصغير للطبراني |
911
| أسلم غفار مزينة جهينة خير عند الله من بني أسد غطفان بني عامر بن صعصعة |
المعجم الصغير للطبراني |
841
| أرأيتم إن كان جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفار خيرا عند الله من أسد ، وغطفان ومن بني عامر بن صعصعة ، هل خابوا وخسروا ؟ ، قالوا : نعم ، فإن جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفارا خير من أسد ، وغطفان ، ومن بني عامر بن صعصعة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3515 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3515
حدیث حاشیہ:
جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3515]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3515
حدیث حاشیہ:
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3515]
Sahih Bukhari Hadith 3515 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي