علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3540
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ جَلْدًا مُعْتَدِلًا، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا مُتِّعْتُ بِهِ سَمْعِي وَبَصَرِي إِلَّا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَالَتِي ذَهَبَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي شَاكٍ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ:" فَدَعَا لِي".
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد | صحابي صغير | |
👤←👥الجعد بن أوس المدني، أبو يزيد، أبو زيد الجعد بن أوس المدني ← السائب بن يزيد الكندي | ثقة | |
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله الفضل بن موسى السيناني ← الجعد بن أوس المدني | ثقة ثبت ربما أغرب | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← الفضل بن موسى السيناني | ثقة حافظ إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3540
| ابن أختي شاك فادع الله له قال فدعا لي |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3540 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3540
حدیث حاشیہ:
حضرت سائب بن یزید کی خالہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بچے کانام نہیں لیا بلکہ ابن أختي کہہ کر پیش کیا۔
تو ثابت ہوا کہ کنایہ کی ایک صورت یہ بھی ہے یہی اس علیحدہ باب کا مقصد ہے کہ کنیت باپ اور بیٹا ہرد وطرف سے مستعمل ہے۔
حضرت سائب بن یزید کی خالہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بچے کانام نہیں لیا بلکہ ابن أختي کہہ کر پیش کیا۔
تو ثابت ہوا کہ کنایہ کی ایک صورت یہ بھی ہے یہی اس علیحدہ باب کا مقصد ہے کہ کنیت باپ اور بیٹا ہرد وطرف سے مستعمل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3540]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3540
حدیث حاشیہ:
یہ باب بلاعنوان ہے جو پہلے باب کا تکملہ ہے کیونکہ جن الفاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا جاتاتھا وہ یامحمد،یاابوالقاسم اور یارسول اللہ تھے۔
لیکن ادب کاتقاضا ہے کہ آپ کو”رسول اللہ“ (صلی اللہ علیہ وسلم )
سے یاد کیا جائے،چنانچہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ نے آپ کو یارسول اللہ! اسے پکارا تھا۔
مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اگر آپ کی توجہ مبذول کرانامقصد ہوتا تویارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کہا جاتاتھا،آپ کو عام طور پر نام یا کنیت سے نہیں پکارا جاتا تھا۔
یہ بھی مقصد بیان کیاجاتا ہے کہ حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بچے کا نام نہیں لیا بلکہ اسے ابن اختی کہہ کر پیش کیاتو ثابت ہواکہ کنائے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کنیت باپ اور بیٹا دونوں طرح سےمستعمل ہے،اس عنوان کو علیحدہ بیان کرنے کا یہی مقصد معلوم ہوتاہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان کو مبہم رکھا ہے تاکہ قاری غوروفکر اور مغز ماری کرکے خود اس کا عنوان تجویز کرے۔
واللہ أعلم۔
یہ باب بلاعنوان ہے جو پہلے باب کا تکملہ ہے کیونکہ جن الفاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا جاتاتھا وہ یامحمد،یاابوالقاسم اور یارسول اللہ تھے۔
لیکن ادب کاتقاضا ہے کہ آپ کو”رسول اللہ“ (صلی اللہ علیہ وسلم )
سے یاد کیا جائے،چنانچہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ نے آپ کو یارسول اللہ! اسے پکارا تھا۔
مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اگر آپ کی توجہ مبذول کرانامقصد ہوتا تویارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کہا جاتاتھا،آپ کو عام طور پر نام یا کنیت سے نہیں پکارا جاتا تھا۔
یہ بھی مقصد بیان کیاجاتا ہے کہ حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بچے کا نام نہیں لیا بلکہ اسے ابن اختی کہہ کر پیش کیاتو ثابت ہواکہ کنائے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کنیت باپ اور بیٹا دونوں طرح سےمستعمل ہے،اس عنوان کو علیحدہ بیان کرنے کا یہی مقصد معلوم ہوتاہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان کو مبہم رکھا ہے تاکہ قاری غوروفکر اور مغز ماری کرکے خود اس کا عنوان تجویز کرے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3540]
Sahih Bukhari Hadith 3540 in Urdu
الجعد بن أوس المدني ← السائب بن يزيد الكندي