🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ يُشْبِهُهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور ان سے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا تھا۔ حسن رضی اللہ عنہ میں آپ کی پوری شباہت موجود تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3543]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، شکل و صورت میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مشابہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3543]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة ثبت
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3544
الحسن بن علي يشبهه كان أبيض قد شمط أمر لنا النبي بثلاث عشرة قلوصا قال فقبض النبي قبل أن نقبضها
صحيح البخاري
3543
الحسن يشبهه
جامع الترمذي
3777
الحسن بن علي يشبهه
جامع الترمذي
2827
الحسن بن علي يشبهه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3543 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3543
حدیث حاشیہ:

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3748)
ان دونوں روایات میں اختلاف نہیں ہے ممکن ہے کہ وجوہ مشابہت مختلف ہوں۔
ترمذی کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نصف اعلیٰ یعنی سر چہرہ اور سینہ میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشابہت تھی اور آپ کے نصف اسفل یعنی ٹانگوں، پاؤں اور رفتار میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشابہ تھے الغرض دونوں شہزادےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تصویر تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3779 و فتح الباري: 123/7)
ان کے علاوہ حضرت جعفر بن ابی طالب حضرت قثم بن عباس، ابو سفیان بن حارث، سائب بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔
(عمدةالقاري: 291/11)
اس حدیث سے شیعوں کا بھی رد ہوا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل بیت کا دشمن اور مخالف قراردیتے ہیں کیونکہ یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہےکوئی بے وقوف بھی ایسا خیال نہیں کر سکتا۔
حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تک زندہ رہے۔
وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور آپ کی آل واولاد کے خیر خواہ اور جاں نثار بن کر رہے اور انھیں ان سے بہت زیادہ محبت تھی۔
(فتح الباري: 694/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3543]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3544
3544. حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکل وصورت میں آپ سے بہت ملتے جلتے تھے۔ (راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ) میں نے کہا: آپ میرے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کریں تو انھوں نے فرمایا: آپ سفید رنگ کے تھے، سر کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں دینے کا حکم دیا تھا۔ انھیں وصول کرنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3544]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید نقرئی بالوں کا ذکر ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کے سر داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3547)
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑھاپے کے عیب سے محفوظ رکھا آپ کے سر مبارک میں صرف سترہ یا اٹھارہ بال سفید تھے۔
(مسند أحمد: 254/3)
ایک دفعہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں سفید بال تھے؟ انھوں نے جواب دیا نہیں البتہ آپ کی مانگ میں چند بال سفید تھے وہ بھی آپ جب تیل لگاتے تو محسوس نہیں ہوتے تھے یعنی تیل کی چمک میں بالوں کی سفیدی چھپ جاتی۔
(شمائل الترمذي، ص: 53)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین خلیفہ بلا فصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے کوئی وعدہ کیا تھا وہ ہمیں بتائے ہم اسے پورا کریں گے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے عرض کرنے پر انھوں نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں عنایت کردی تھیں۔
(فتح الباري: 694/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3544]

Sahih Bukhari Hadith 3543 in Urdu