صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ، فَقَالَ:" اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹ رہا تھا اور ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھاتے وقت کھانے کے تسبیح سنتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3579]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم تو معجزات کو باعث برکت خیال کرتے تھے اور تم سمجھتے ہو کہ (کفار کو) ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ پانی کم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بچا ہوا پانی تلاش کر لاؤ۔“ چنانچہ لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی میں ڈال دیا اور اس کے بعد فرمایا: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ» ”مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت تو اللہ کی طرف سے ہے۔“ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشتہائے مبارک سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ اور (بسا اوقات) کھانا کھاتے وقت ہم کھانے میں سے تسبیح کی آواز سنتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3579
| رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل |
جامع الترمذي |
3633
| وضع يده فيه جعل الماء ينبع من بين أصابعه حي على الوضوء المبارك والبركة من السماء حتى توضأنا كلنا |
سنن الدارمي |
29
| وضع كفه فيه جعل الماء يخرج من بين أصابعه حي على الطهور المبارك والبركة من الله |
سنن الدارمي |
30
| بينا نحن مع رسول الله في سفر إذ حضرت الصلاة وليس معنا ماء إلا يسير فدعا رسول الله بماء في صحفة ووضع كفه فيه جعل الماء يتبجس من بين أصابعه نادى حي على الوضوء والبركة من الله أقبل الناس فتوضئوا وجعلت لا هم لي إلا ما أدخله بطني لقوله والبركة من الله فحدثت به |
المعجم الصغير للطبراني |
899
| وضع يده فيه رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3579 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3579
حدیث حاشیہ:
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ صحابہ کرام اپنے کانوں سے کھانے وغیرہ میں سے تسبیح کی آواز سن لیتے تھے، ورنہ ہر چیز اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتی ہے، جیسا کہ فرمایا ﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ”ہرچیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔
“ امام بیھقی ؒ نے دلائل میں نکالا ہے کہ آپ نے سات کنکریاں لیں، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح کہی ان کی آواز سنائی دی۔
پھر آپ نے ان کو ابوبکر ؓ کے ہاتھوں میں رکھ دیا، پھر عمر ؓ کے ہاتھ میں پھر عثمان ؓ کے ہاتھ میں، ہر ایک کے ہاتھ میں انہوں نے تسبیح کہی۔
حافظ نے کہا شق قمر تو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور لکڑی کا رونا بھی صحیح حدیث سے اور کنکریوں کی تسبیح صرف ایک طریق سے جو ضعیف ہے۔
بہر حال یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں جو جس طرح ثابت ہیں اسی طرح ان پر ایمان لانا ضروری ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کا مطلب یہ ہے کہ تم ہر نشانی اور خرق عادت کو تخویف سمجھتے ہو۔
یہ تمہاری غلطی ہے۔
اللہ کی بعض نشانیاں تخویف کی بھی ہوتی ہیں جیسے گہن و غیرہ اور بعض نشانیاں جیسے کھانے پینے میں برکت یہ تو عنایت اور فضل الٰہی ہے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ صحابہ کرام اپنے کانوں سے کھانے وغیرہ میں سے تسبیح کی آواز سن لیتے تھے، ورنہ ہر چیز اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتی ہے، جیسا کہ فرمایا ﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ”ہرچیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔
“ امام بیھقی ؒ نے دلائل میں نکالا ہے کہ آپ نے سات کنکریاں لیں، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح کہی ان کی آواز سنائی دی۔
پھر آپ نے ان کو ابوبکر ؓ کے ہاتھوں میں رکھ دیا، پھر عمر ؓ کے ہاتھ میں پھر عثمان ؓ کے ہاتھ میں، ہر ایک کے ہاتھ میں انہوں نے تسبیح کہی۔
حافظ نے کہا شق قمر تو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور لکڑی کا رونا بھی صحیح حدیث سے اور کنکریوں کی تسبیح صرف ایک طریق سے جو ضعیف ہے۔
بہر حال یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں جو جس طرح ثابت ہیں اسی طرح ان پر ایمان لانا ضروری ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کا مطلب یہ ہے کہ تم ہر نشانی اور خرق عادت کو تخویف سمجھتے ہو۔
یہ تمہاری غلطی ہے۔
اللہ کی بعض نشانیاں تخویف کی بھی ہوتی ہیں جیسے گہن و غیرہ اور بعض نشانیاں جیسے کھانے پینے میں برکت یہ تو عنایت اور فضل الٰہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3579]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3579
حدیث حاشیہ:
1۔
صحابہ کرام ؓ کو کھانے کی تسبیح سنانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ویسے تو قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ”اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔
“ (بني إسرائیل: 44/17)
ایک ددفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں لیں تو انھوں نے آپ کے ہاتھ میں بہ آواز بلند تسبیح کہی پھر آپ نے انھیں حضرت ابو بکر ؓ کے ہاتھ میں رکھ دیا پھر حضرت عمر ؓ کے ہاتھ میں اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ میں رکھا انھوں نے ہر ایک ہاتھ میں تسبیح کہی۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 59/2، طبع دارالحرمین و فتح الباری: 723/6)
2۔
قرآن کریم میں ہے۔
”معجزے تو ہم صرف ڈرانے کی خاطر بھیجتے ہیں۔
“ (بني إسرائیل: 59/17)
اس آیت سے کچھ لوگوں نے موقف اختیارکیا کہ ہر نشانی ڈرانے کے لیے ہوتی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ان کی تردید کی کہ ہر نشانی کو ڈرانے کے لیے سمجھنا محل نظر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کچھ نشانیاں واقعی ڈرانے کے لیے ہیں اور کچھ نشانیاں مثلاً:
کھانے پینے میں برکت یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور اس کی عنایت ہے۔
1۔
صحابہ کرام ؓ کو کھانے کی تسبیح سنانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ویسے تو قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ”اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔
“ (بني إسرائیل: 44/17)
ایک ددفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں لیں تو انھوں نے آپ کے ہاتھ میں بہ آواز بلند تسبیح کہی پھر آپ نے انھیں حضرت ابو بکر ؓ کے ہاتھ میں رکھ دیا پھر حضرت عمر ؓ کے ہاتھ میں اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ میں رکھا انھوں نے ہر ایک ہاتھ میں تسبیح کہی۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 59/2، طبع دارالحرمین و فتح الباری: 723/6)
2۔
قرآن کریم میں ہے۔
”معجزے تو ہم صرف ڈرانے کی خاطر بھیجتے ہیں۔
“ (بني إسرائیل: 59/17)
اس آیت سے کچھ لوگوں نے موقف اختیارکیا کہ ہر نشانی ڈرانے کے لیے ہوتی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ان کی تردید کی کہ ہر نشانی کو ڈرانے کے لیے سمجھنا محل نظر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کچھ نشانیاں واقعی ڈرانے کے لیے ہیں اور کچھ نشانیاں مثلاً:
کھانے پینے میں برکت یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور اس کی عنایت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3579]
Sahih Bukhari Hadith 3579 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود