صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب ذكر طلحة بن عبيد الله:
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ۔
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (جنگ احد میں) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3724
| يد طلحة التي وقى بها النبي قد شلت |
صحيح البخاري |
4063
| يد طلحة شلاء وقى بها النبي يوم أحد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3724 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3724
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ واقعہ بھی غزوہ اُحد میں پیش آیا کہ اس لڑائی میں مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہچانا چاہا تو حضرت طلحہ ؓ نے اپنے ہاتھوں کو آپ پر ڈھال بنا دیا، یعنی تلواروں اور نیزوں کے وار اپنے ہاتھوں پر روکے۔
اسی وجہ سے ان کا ایک ہاتھ شل، یعنی بے حس وبےحرکت ہو گیا۔
غزوہ اُحد میں حضرت طلحہ ؓ کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم آئے۔
(فتح الباري: 105/7)
2۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں آپ طلحہ الفیاض، طلحہ الخیر اور طلحہ الجود کے القاب سے مشہورتھے۔
(عمدة القاري: 459/11)
آپ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص زمین پر چلتا پھرتا شہید دیکھناچاہے وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے۔
“ (جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3739)
3۔
آپ کی شہادت جمادی الاخری 36 ہجری بمطابق 25 نومبر 656ءجنگ جمل میں ہوئی۔
شہادت کے وقت آپ کی عمر چونسٹھ برس تھی۔
1۔
یہ واقعہ بھی غزوہ اُحد میں پیش آیا کہ اس لڑائی میں مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہچانا چاہا تو حضرت طلحہ ؓ نے اپنے ہاتھوں کو آپ پر ڈھال بنا دیا، یعنی تلواروں اور نیزوں کے وار اپنے ہاتھوں پر روکے۔
اسی وجہ سے ان کا ایک ہاتھ شل، یعنی بے حس وبےحرکت ہو گیا۔
غزوہ اُحد میں حضرت طلحہ ؓ کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم آئے۔
(فتح الباري: 105/7)
2۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں آپ طلحہ الفیاض، طلحہ الخیر اور طلحہ الجود کے القاب سے مشہورتھے۔
(عمدة القاري: 459/11)
آپ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص زمین پر چلتا پھرتا شہید دیکھناچاہے وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے۔
“ (جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3739)
3۔
آپ کی شہادت جمادی الاخری 36 ہجری بمطابق 25 نومبر 656ءجنگ جمل میں ہوئی۔
شہادت کے وقت آپ کی عمر چونسٹھ برس تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3724]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4063
4063. حضرت قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا۔ اس ہاتھ سے انہوں نے غزوہ اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4063]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ اپنے ہاتھ سے مشرکین کے تیروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے تھے۔
اس بنا پر اُحد کے دن انھیں تیس(30)
سے زیادہ زخم لگے۔
ان کی شہادت والی اور اس کے ساتھ والی انگلی شل ہو گئیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت طلحہ ؓ کی انگلی کٹ گئی تو انھوں نے حس یعنی سی کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر تم اللہ کا نام لیتے اور بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمھیں اٹھا لیتے اور لوگ اس حالت میں تمھیں دیکھتے۔
“ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کردیا۔
“ (سنن النسائي، الجهاد، حدیث: 3151)
1۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ اپنے ہاتھ سے مشرکین کے تیروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے تھے۔
اس بنا پر اُحد کے دن انھیں تیس(30)
سے زیادہ زخم لگے۔
ان کی شہادت والی اور اس کے ساتھ والی انگلی شل ہو گئیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت طلحہ ؓ کی انگلی کٹ گئی تو انھوں نے حس یعنی سی کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر تم اللہ کا نام لیتے اور بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمھیں اٹھا لیتے اور لوگ اس حالت میں تمھیں دیکھتے۔
“ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کردیا۔
“ (سنن النسائي، الجهاد، حدیث: 3151)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4063]
قيس بن أبي حازم البجلي ← طلحة بن عبيد الله القرشي