صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَنَاقِبُ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
حدیث نمبر: Q3754
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جنت میں اپنے آگے میں نے تمہارے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3754]
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10116
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10116
حدیث نمبر: 3754
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ ,يَقُولُ:" أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا" يَعْنِي: بِلَالًا..
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3754]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں، انہوں نے ہمارے سردار کو (خرید کر) آزاد کیا ہے۔“ ان کی مراد حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10116
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10116
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3754 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3754
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر ؓ نے حضرت بلال ؓ پرسیادت اورسرداری کا اطلاق کیا ہے۔
یہ ان کی بڑی فضیلت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حضرت عمر ؓ سے افضل ہیں،بلکہ آپ نے اپنی طرف سے تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا،نیزحضرت ابوبکر ؓ پر سیادت کا اطلاق حقیقی اورحضرت بلال ؓ پر مجازی نوعیت کا ہے۔
اس سے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پرحضرت بلال ؓ کی افضلیت لازم نہیں آتی جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو سردار نہیں دیکھا،حالانکہ وہ سیدنا ابوبکر ؓ اورسیدنا عمر ؓ کو دیکھ چکے تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3772)
حضرت عمر ؓ نے حضرت بلال ؓ پرسیادت اورسرداری کا اطلاق کیا ہے۔
یہ ان کی بڑی فضیلت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حضرت عمر ؓ سے افضل ہیں،بلکہ آپ نے اپنی طرف سے تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا،نیزحضرت ابوبکر ؓ پر سیادت کا اطلاق حقیقی اورحضرت بلال ؓ پر مجازی نوعیت کا ہے۔
اس سے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پرحضرت بلال ؓ کی افضلیت لازم نہیں آتی جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو سردار نہیں دیکھا،حالانکہ وہ سیدنا ابوبکر ؓ اورسیدنا عمر ؓ کو دیکھ چکے تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3772)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3754]
Sahih Bukhari Hadith 3754 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري