🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب مناقب بلال بن رباح مولى أبى بكر رضي الله عنهما:
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ بِلَالًا، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي , وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ".
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبید نے کہا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ان سے قیس نے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بلال بن رباح الحبشي، أبو عبد الكريم، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو عمروصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← بلال بن رباح الحبشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبيد الطنافسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة يحفظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن عبيد الطنافسي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3755 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3755
حدیث حاشیہ:
ہوایہ تھا کہ بلال ؓ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صبر نہ ہوسکا، ہر وقت اذان میں آپ کا نام آتا، آپ کی یاد سے قبر شریف کو دیکھ کر زخم تازہ ہوتا۔
اس لیے بلال ؓ مدینہ منورہ سے چلے گئے، چھ مہینے کے بعد آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، فرماتے ہیں:
بلال! کیا ظلم ہے، تو نے ہم کو چھوڑ دیا، بلال نے حضرت فاطمہ ؓ کا حال پوچھا، معلوم ہوا کہ انتقال پاگئیں، حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو بلاکر گلے لگایا، خوب روئے، لوگوں نے حسن ؓ سے کہا آپ کہو تو بلال اذان دیں گے۔
انہوں نے فرمائش کی، بلال اذان کے لیے کھڑے ہوئے جب ''اشھد ان محمدا رسول اللہ'' پر پہنچے تو روتے روتے بے ہوش ہوکر گرے، لوگ بھی رونے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد سے ایک کہرام مچ گیا، اللھم صل علیه وبارك وسلم، ہمارے پیرومرشد شیخ احمد مجدد ؒ فرماتے ہیں:
بلال ؓ حبشی تھے۔
اذان میں أشهد کے بدل أسهد کہتے شین کو سین کہتے مگر ان کا أسهد ہم لوگوں کے ہزار بار اشہد پر فضیلت رکھتا تھا۔
وہ عاشق رسول تھے ہم گنہگار نابکار، یا اللہ! بلا ل ؓ کے کفش برداروں ہی میں ہم کو رکھ لے۔
آمین یار ب العالمین (وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3755]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3755
حدیث حاشیہ:

حضرت بلال ؓ نے یہ پسند کیا کہ اب وہ محض اللہ کے ہوکررہیں گے۔
یہ بہت بڑی خوبی اور فضیلت ہے۔

سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت بلال نے حدیث میں مذکورہ گفتگو خریداری کے وقت کی تھی لیکن طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت بلال ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا:
افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد کرناہے،اس لیے اب میں جہاد کرنا چاہتا ہوں تو ابوبکر ؓ نے فرمایا:
میں تجھے اللہ واسطہ اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میرے ہاں قیام کرو،چنانچہ حضرت بلال ؓ ان کی وفات تک مدینے میں رک گئے۔
جب حضرت ابوبکر ؓ انتقال کرگئے توحضرت عمر ؓ نے انھیں اجازت دے دی اور علاقہ شام میں چلے گئے،وہاں طاعونِ عمواس میں ان کا انتقال ہوا۔
(فتح الباري: 126/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3755]