صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم للأنصار: أنتم أحب الناس إلي :
باب: انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 3785
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ عُرُسٍ" , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ" , قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کی) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ (گواہ ہے) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3785]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3785
| اللهم أنتم من أحب الناس إلي قالها ثلاث مرار |
صحيح مسلم |
6417
| اللهم أنتم من أحب الناس إلي يعني الأنصار |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3785 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3785
حدیث حاشیہ:
1۔
انصار سے محبت کے جذبات کا اظہار مجموعی اعتبار سے ہے۔
یہ کسی سے انفرادی محبت کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ تو آپ نے حضرت ابو بکرؓ کا نام لیا تھا لہٰذا انصار کے متعلق آپ کا مذکورہ ارشاد غیر انصار سے محبت کرنے کے خلاف نہیں۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ان پر احسان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5180)
1۔
انصار سے محبت کے جذبات کا اظہار مجموعی اعتبار سے ہے۔
یہ کسی سے انفرادی محبت کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ تو آپ نے حضرت ابو بکرؓ کا نام لیا تھا لہٰذا انصار کے متعلق آپ کا مذکورہ ارشاد غیر انصار سے محبت کرنے کے خلاف نہیں۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ان پر احسان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5180)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3785]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6417
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہوگئے اور فرمایا:"اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو،اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔"آپ کی مراد انصارتھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6417]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ممثلا:
سیدھے ہو کر۔
مفردات الحدیث:
ممثلا:
سیدھے ہو کر۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6417]
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري