🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب القسامة فى الجاهلية:
باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آ جاتی قریش (حج میں) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عمرو بن ميمون الأودي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newعمرو بن ميمون الأودي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن ميمون الأودي
ثقة مكثر
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥عمرو بن العباس الباهلي، أبو عثمان
Newعمرو بن العباس الباهلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3838
المشركين كانوا لا يفيضون من جمع حتى تشرق الشمس على ثبير فخالفهم النبي فأفاض قبل أن تطلع الشمس
سنن ابن ماجه
3022
خالفهم رسول الله فأفاض قبل طلوع الشمس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3838 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3838
حدیث حاشیہ:

مشرکین مکہ دور جاہلیت میں مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے بلکہ رات یہاں قیام کرتے پھر صبح کے وقت آواز لگاتے (أَشْرِقْ ثَبِيرُ)
اے شبیر پہاڑ! تو دھوپ کی وجہ سے جلدی روشن ہو جاتا کہ ہم گھروں کو واپس جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت فرمائی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1684)
قریش میں جاہلیت کی یہ رسم اس قدر سرایت کر چکی تھی کہ حضرت جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا تو میں اسے تلاش کرتے کرتے کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفہ میں کھڑے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ حمس یعنی قریش کا عرفہ میں آنا کیونکر ہے وہ تو مزدلفہ آگے نہیں جاتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر کس لیے آئے ہیں؟ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1664)

بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئےفرمایا:
پھر تم وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں۔
(البقرة: 199/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3838]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3022
مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3022]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہونا چاہیے مگر اس وقت جب کافی روشنی ہوجائے۔

(2)
مسلمانوں کی عبادتیں غیر مسلموں سے مختلف ہیں حتی کہ جوعبادتیں مشترک ہیں ان میں طریق کار میں فرق کردیا گیا ہے۔

(3)
جب مشترک عبادتیں بھی مختلف کردی گئیں ہیں تو ان تہواروں میں مسلمانوں کا شریک ہونا کیسے جائز ہوسکتا ہےجو خالص غیر مسلم اور رسمی تہواریں ہیں مثلاً:
کرسمس نیا عیسوی سال نوروز، بسنت، دیوالی، میلے ٹھیلے وغیرہ نیز شادی غمی کی وہ رسمیں جو غیر مسلموں میں رائج ہیں مثلاً سالگرہ، برسی، کسی کی وفات پر سیاہ لباس پہننا چراغاں منگنی اور شادی کے موقع پر مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور آپس میں ہنسی مذاق، مہندی لیکر اس پر شمعیں جلانا اور عورتوں کا راستوں میں ناچتے ہوئے گاتے ہوئے مہندی لیکر چلنا۔
یہ سب کافروں بالخصوص ہندؤں کی رسمیں ہیں جن کے متعلق دینی غیرت و حمیت رکھنے والا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔
ہاں! اگر دینی غیرت ہی ختم ہوجائے تو پھر اور بات ہے۔
بنا بریں ایسی خرافات سےتمام مسلمانوں کو مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3022]